روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے موت کا اتنا بھروسہ بھی نہیں ہے کہ ایک طرف سلام پھیروں، تو دوسری طرف بھی پھیر سکوں گا یا نہیں۔
تفصیل
ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ تم موت کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ ایک نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! صبح اٹھتا ہوں تو یقین نہیں آتا کہ شام بھی آئے گی یا نہیں، دوسرے نے کہا کہ اے اللہ کے محبوب! میں چار رکعت کی نیت باندھتا ہوں مجھے یقین نہیں آتا کہ چاروں پڑھ بھی سکوں گا یا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت ہے کہ جب ایک طرف سلام پھیر لوں تو اس کا یقین نہیں ہوتا کہ میں دوسری طرف بھی سلام پھیر سکوں گا، تو جب موت کا یہ معاملہ ہے تو پھر کیوں نہ ہم اس کےلئے ہر وقت تیار رہیں، بالآخر موت آنی ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’خطبۃ الوداع میں آپﷺنےارشادفرمایا:ابلیس تمھیں بت پرستی میں مشغول نہیں کرے گا، البتہ تمہیں ہزار معبودوں کی عبادت میں لگا دے گا، ایک آدمی اونٹ کی عبادت کرےگا، دوسرا آدمی عورت کی پوجا کرےگا۔۔۔۔ ایک شخص دوسرے سے پوچھےگا آپ کا کیا حال ہے؟ تو وہ کہے گا کہ اگر میری تجارت نہ ہوتی تو میرا کوئی حال نہ ہوتا۔۔۔‘‘۔
روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔
صحابیr کا آپ ﷺ کے انتقال کی خبر سن کر دعا کرنا:’’أللّهم أعمني حتى لا أرى شيئا بعده‘‘.اے اللہ! میری بینائی لے لیجئے، تاکہ آپ ﷺ کےدنیا سے پردہ فرمالینے کے بعد میں کچھ بھی نہ دیکھ سکوں
روایت: ’’علامة إعراض الله تعالى عن العبد اشتغاله بما لا يعنيه‘‘. بندہ کا غیر ضروری باتوں میں مشغول ہونا بندہ کی طرف سےاللہ تعالی کے منہ پھیر لینے کی علامت ہے۔
روایت: علم نجوم کی ماہر قوم کے ایک بچہ کا حساب کرکےحضرت جبرائیل e کو یہ کہنا کہ جبرائیل یا تو آپ ہیں یا میں ہوں