روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مقبرتان تضيئان لأهل السماء كما تضيء الشمس والقمر لأهل الدنيا: مقبرتنا بالبقيع، بقيع المدينة، ومقبرة بعسقلان‘‘. دو قبرستان آسمان وزمین والوں کےلئے زمین پر ایسے چمکتے ہیں جیسا کہ زمین والوں کےلئے آسمان پر سورج اور چاند: (ایک) بقیع مدینہ میں موجود ہمارا مقبرہ، اور (دوسرا) مقبرہ عسقلان کا‘‘۔
باب: قبر و برزخ
قبر کے احوال، عالمِ برزخ اور روحوں سے متعلق روایات۔
گروپ: آخرت
11 روایات
روایت: 1 جمعہ کے دن یا رات کے علاوہ انتقال کرنے والے گناہ گار مسلمان سے جمعہ کے دن اور رات کے آنے پر عذاب اٹھا لیا جاتا ہے، پھر یہ عذاب قیامت تک نہیں لوٹتا 2 جمعہ کے دن اور رات میں کافر سے بھی عذاب اٹھا لیا جاتا ہے، مگر اس کے بعد لوٹا دیا جاتا ہے۔
حضرت فاطمہR کے لئے قبر کا یہ کہنا کہ یہحسب ونسب کی جگہ نہیں ہے
روایت: ایمان والے کی قبر پر ہواؤ ں کا چلنا،بارشوں کا برسنا اس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہیں۔
نیک بندے کی قبر میں حور کا آنا،ہارکا ٹوٹنا،اس کے موتی چننے میں مصروف ہونا اور قیامت کا وقوع۔
’’نیک عالم کا قبرستان سے گذر ہوجائے تو چالیس روز تک قبر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے‘‘، یہ روایت صحیح نہیں۔
یہ درست ہے کہ مرنے کے بعد روحیں جمع ہوتی ہیں، البتہ مردہ کے خاندان کے لوگوں کا قبر میں مردہ سے مل کر، اسے تسلی دینے کا مضمون بظاہر غلط ہے۔
’’ارواحِ مؤمنین ہر جمعہ کی شب کو اپنے اہل وعیال میں آتی ہیں‘‘، یہ کہیں ثابت نہیں ہے،یہ روایات واہیہ ہیں، اس پر ہرگز عقیدہ نہیں رکھنا چاہیئے۔
روایت: ’’جو جماعت یا طالب علم جس قبر ستان کے قریب سے گزرتے ہیں اس قبرستان کے مردوں کا چالیس روزتک قبر کا عذاب معاف ہو جاتا ہے‘‘۔
یہ روایت بے اصل ہے۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: جب کوئی شخص قبروں پر گزرتے ہوئے یہ کلمات کہے: ’’السلام على أهل لا إله إلا الله، من أهل لا إله إلا الله، يا أهل لا إله إلا الله! كيف وجدتم قول لا إله إلا الله؟ يا لا إله إلا الله بحق لا إله إلا الله، اغفر لمن قال لا إله إلا الله، واحشرنا في زمرة من قال لا إله إلا الله‘‘، تو اس کہنے والے کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، علیr نے پوچھا کہ اگر اس شخص کے گناہ اتنے نہ ہوں تو آپﷺ نے فرمایا :اس کے والدین اور اس کے رشتہ دار اور عام مسلمانوں کے بھی معاف ہو جائیں گے‘‘۔