التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’نیک عالم کا قبرستان سے گذر ہوجائے تو چالیس روز تک قبر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے‘‘، یہ روایت صحیح نہیں۔

تفصیل

’’سوال: اگر عالم صالح کا گورستان سے گذر ہوجاوے، بسبب اس کے چالیس روز تک قبر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے یا نہیں؟

جواب:  یہ خبر صحیح نہیں اور اگر حق تعالیٰ اپنے کسی برگزیدہ بندے کی دعا کی برکت سے ایسا فرمادیں تو کچھ بعید بھی نہیں کہ قطعی حکم کرنا بدوں ثبوت کے نہیں ہوسکتا۔ فقط، والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :صالح عالم کے قبرستان سے گزرنے سے قبر کا عذاب اٹھالیا جاتا ہے یا نہیں؟۱۸/۱۶۶ مکتبہ حقانیہ ملتان۔

حافظ سیوطی l  نے اسے بے اصل کہا ہے،ان کے کلام پر ملا علی قاری l  نے اکتفاء کیا ہے (دیکھئے:الاسرار المرفوعہ:ص:۱۴۲)،نیز حافظ ابن حجر ہیتمیl  نےبھی ’’الفتاوی الفقہیہ الکبری‘‘ (۲/ ۳۲) میں،علامہ قاؤ قجی l  نے  ’’اللؤ لؤ المرصوع‘‘(ص:۵۳)میں اسے بے اصل کہا ہے۔تفصیل کےلئے دیکھئے:کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ، حصہ دوم ص:۴۲۲۔

ملتی جلتی احادیث