’’نیک عالم کا قبرستان سے گذر ہوجائے تو چالیس روز تک قبر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے‘‘، یہ روایت صحیح نہیں۔
تفصیل
’’سوال: اگر عالم صالح کا گورستان سے گذر ہوجاوے، بسبب اس کے چالیس روز تک قبر سے عذاب اٹھالیا جاتا ہے یا نہیں؟
جواب: یہ خبر صحیح نہیں اور اگر حق تعالیٰ اپنے کسی برگزیدہ بندے کی دعا کی برکت سے ایسا فرمادیں تو کچھ بعید بھی نہیں کہ قطعی حکم کرنا بدوں ثبوت کے نہیں ہوسکتا۔ فقط، والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :صالح عالم کے قبرستان سے گزرنے سے قبر کا عذاب اٹھالیا جاتا ہے یا نہیں؟۱۸/۱۶۶ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
حافظ سیوطی l نے اسے بے اصل کہا ہے،ان کے کلام پر ملا علی قاری l نے اکتفاء کیا ہے (دیکھئے:الاسرار المرفوعہ:ص:۱۴۲)،نیز حافظ ابن حجر ہیتمیl نےبھی ’’الفتاوی الفقہیہ الکبری‘‘ (۲/ ۳۲) میں،علامہ قاؤ قجی l نے ’’اللؤ لؤ المرصوع‘‘(ص:۵۳)میں اسے بے اصل کہا ہے۔تفصیل کےلئے دیکھئے:کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ، حصہ دوم ص:۴۲۲۔
ملتی جلتی احادیث
’’مشہور ہے جو شخص عشرۂ محرم میں فوت ہوا اسے عشرہ کے اندر عذاب قبر نہیں ہوتا، نہ حساب ہوتا ہے‘‘، یہ بات غلط ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔