روایت: ایمان والے کی قبر پر ہواؤ ں کا چلنا،بارشوں کا برسنا اس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہیں۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] انظرحاشية الطحطاوي:ص:۶۱۲،ت:محمد بن عبد العزيز الخالدي،دارالكتب العلميةـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
ملتی جلتی احادیث
فجر کی سنتیں گھر میں ادا کرنے پر روزی میں وسعت،اہل خانہ کے مابین تنازع نہ ہونا،اور ایمان پر خاتمہ
نماز کی جانب جاتے ہوئے ایک بوڑھے شخص کے احترام میںحضرت علیr کاان سے آگے نہ چلنا ،اور اس پر ان کا اعزاز
نیک بندے کی قبر میں حور کا آنا،ہارکا ٹوٹنا،اس کے موتی چننے میں مصروف ہونا اور قیامت کا وقوع۔
’’میں علم کا شہر ہو ں ،ابوبکرr اس کی بنیاد ،عمر r اس کی دیوار، عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’معاویہ r اس کا حلقہ ہے ‘‘ ۔
روایت: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو لمبی مونچھیں رکھے گا اس کو چار قسم کا عذاب دیا جائے گا: وہ میری شفاعت نہیں پائے گا، اور نہ وہ میرے حوض کوثر سے پانی پی سکے گا، اور اس کو قبر میں عذاب دیا جائے گا، اور اللہ تعالی اس کے پاس منکر نکیر کو غصے کی حالت میں بھیجیں گے ۔