آپ ﷺ اور خلفاء اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تین، تین محبوب اشیاء
باب: حضرت ابوبکر و عمر
حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے فضائل و واقعات۔
گروپ: صحابہ و اہلِ بیت
23 روایات
عنوانِ قصہ: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے ابو شحمہ کو بطور حد کوڑے لگانا۔
روایت: ’’جوچیز بھی اللہ نےمیرے دل میں ڈالی ،وہ ابو بکر r کے دل میں بھی ڈال دی ہے‘‘۔
روزِ محشر باری تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ کون ہےجو حساب دے ؟حضرت صدیق اکبرr کےسامنے آنے پر اللہ کا غصہ ٹھنڈاہوجائے گا
روایت: ’’عن عائشة قالت: بينا رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حِجري ليلة ضاحية إذ قلت: يا رسول الله! هل يكون لأحد من الحسنات عددُ نجوم السماء؟ قال: ’’ نعم عمر‘‘. قلت: فأين حسنات أبي بكر؟ قال: ’’إنما جميع حسنات عمر كحسنة واحدة من حسنات أبي بكر‘‘.
ترجمہ: حضرت عائشہ R سے روایت ہے،فرماتی ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روشن رات میں رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا، اس دوران میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا کسی شخص کی ستاروں کی تعداد کے برابر نیکیاں ہو سکتی ہیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں عمر کی ‘‘۔میں نےعرض کیا:پھر ابو بکر r کی نیکیاں کہاں گئیں؟حضور ﷺ نے فرمایا: ’’عمر کی تمام نیکیاں ابو بکر کی ساری نیکیوں میں سے ایک نیکی کے برابر ہے‘‘۔
آپﷺ کا ابوبکرصدیقr کویہ کہنا:جومیرا کام ہے وہ تمہارا کام ہے
روایت: جو شخص حضرات شیخین کا دفاع کرے گا تو یہ حضرات اپنی نیکیوں میں سے چوتھائی حصہ نیکی کا اسے دیں گے۔
روایت: ’’روز قیامت اسلام کا حسین صورت میں آکر حضرت عمرr سے کہنا:اللہ تعالی آپ کو عزتوں سے مالا مال کرے جیسا کہ آپ نے دنیا میں مجھے (یعنی اسلام کو) عزت بخشی‘‘۔
روایت: غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیقr کو سانپ کا ڈسنا
روایت: ابو جہل نے آپ ﷺ کو بدصورت کہا(معاذ اللہ)، حضرت ابوبکر r نے خوبصورت کہا، آپ ﷺ نے دونوں کو سچا قرار دیا، اور لوگوں کے پوچھنے پر بتایا کہ میں ایک آئینہ ہوں مجھ میں ہر شخص وہی دیکھتا ہے جو وہ خود ہے۔