روایت : ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت دیگر تمام لوگوں کے لیے عمومی تجلی فرمائیں گے، اور اے ابوبکر! آپ کے لئے خصوصی تجلی فرمائیں گے‘‘، اس کےتمام طرق معلول ہیں، ائمہ فن نے ان کے بطلان کا حکم لگایا ہے۔
باب: جنت و دیدارِ الٰہی
جنت کی نعمتیں، حوریں اور اللہ تعالیٰ کا دیدار۔
گروپ: آخرت
15 روایات
روایت: ”جنت میں ایک جنت ہے، اس میں نہ حور ہیں اور نہ قصور، صرف یہ ہے: {رب أرني أرني}. اے رب! مجھے دیدار کرائیں، مجھے دیدار کرائیں“، یہ غلط ہے۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’إن لله جنة ليس فيها حور ولا قصور، يتجلى فيها ربنا ضاحكا‘‘. بیشک اللہ تعالی کی ایک جنت ہے جس میں نہ حور ہے نہ قصور (محلات)، اس میں اللہ تعالی ہنستے ہوئے تجلی فرمائے گا‘‘۔
روایت:جنتی جنت میں اللہ تعالی کا پہلا دیدار آٹھ لاکھ برس تک کرتے رہیں گے۔
روایت:جنتیوں کا تین سو سال تک باری تعالی کا دیدار کرنا۔