التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: جنت و دیدارِ الٰہی

جنت کی نعمتیں، حوریں اور اللہ تعالیٰ کا دیدار۔

گروپ: آخرت

15 روایات

  1. روایت: ’’اللہ تعالی کا ولی حور عین میں سے اپنی زوجہ کے ساتھ تخت پربیٹھا ہوگا جو کہ سرخ یاقوت کا ہوگا، اور اس پر نور کے قبے ہوں گے، سو اس وقت وہ اپنی بیوی سے کہے گا کہ میں تمہاری چال کا مشتاق ہوں، فرمایا کہ وہ سرخ یاقوت کے تخت سے اتر کر سبز مرجان کے باغ کی طرف چلے گی ، اور اللہ عزوجل اس کےلئے اس باغیچے میں دو نور کے راستے پیدا فرمادیں گے، ان میں سے ایک راستہ زعفران کا ہوگا، اور دوسرا کافور کا ہوگا، وہ زعفران کے راستے پر چلے گی اور کا فور کے راستے سے لوٹے گی، اور وہ ناز ونخرے کے ستر ہزار طریقوں سے چلے گی‘‘۔

  2. ​روایت: ’’اوپر والا جنتی کروٹ بدلے گا نیچے والے جنتی کو خوشبو آئے گی، وہ فرشتوں سے پوچھے گا یہ خوشبو کیسی؟ فرشتے عرض کریں گے اوپر والے جنتی نے کروٹ بدلی ہے اس کی خوشبو ہے، وہ پوچھے گا اوپر والے درجہ کے جنتی کا عمل کیا مجھ سے زیادہ تھا؟ جواب ملے گا اس نے ایک مرتبہ تجھ سے سبحان اللہ زیادہ کہا تھا‘‘۔

  3. روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنتی جس وقت میں نماز پڑھتے ہوں گے، جب وہ وقت ہوگا تو جتنے جنت کے درخت ہوں گے ان تمام درختوں کے پتوں میں سے اللہ اکبر کی آواز آنی شروع ہو جائےگی، جنتی بھی اللہ اکبر کہیں گے، حور وغلمان سب اللہ اکبر کہیں گے، اس اللہ اکبر کی آواز سے جنتی پہچان لیں گے کہ اس وقت فجر کی نماز پڑھا کرتے تھے، ہم اس وقت ظہر کی نماز پڑھا کرتے تھے، عصر کی نماز پڑھا کرتے تھے، اور جب شام کا وقت ہوگا تو عرش کے پردے گرا دیے جائیں گے‘‘۔

  4. روایت:’’قیامت کے دن مؤمن اللہ تعالی کا دیدار کرے گا، اتنا مزہ آئے گا کہ مؤمن وہاں سے جنت میں جانا ہی نہیں چاہے گا،چنانچہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کو جنت میں لے جاؤ‘‘، ایک مقام پر یہ حدیث ان الفاظ سے منقول ہے: ’’تعجب کرتا ہوں میں ان لوگوں پر جن کو قیامت کے دن فرشتے نور کی زنجیر سے باندھ کر جنت میں کھینچ کر لے جائیں گے‘‘۔

  5. روایت: آپ ﷺ کا جنت کی سیر کرنا، اور جنت کی چار نہروں کو دیکھنا جو کہ ’’بسم الله الرحمن الرحیم‘‘سے اس طرح نکل رہی ہیں کہ بسم اللہ کی ’’میم‘‘ سے پانی کی نہر، اور لفظِ اللہ کی ’’ھ‘‘سے دودھ کی نہر، اور الرحمن کی ’’میم‘‘ سے شراب کی نہر، اور الرحیم کی ’’میم‘‘سے شہد کی نہر نکل رہی ہے۔

  6. روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔