روایت: جس دستر خوان پر سبزی ہو اس پر رحمت نازل ہوتی ہے۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ إن الملائكة تحضر المائدة، إذا كان عليها بقل‘‘. بلا شبہ فرشتے دستر خوان پر آتے ہیں، جبکہ اس پر کوئی سبزی موجود ہو۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ لا يرد دعاء أوله: بسم الله الرحمن الرحيم‘‘.جس دعا کے شروع میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ہو وہ رد نہیں ہوتی‘‘۔
روایت:’’جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے عرض کیا: اے محمد! میں آپ کی امت پر عذاب کا اندیشہ رکھتا تھا، پھر جب فاتحہ نازل ہوگئی تو مجھے اطمینان ہوگیا، آپ ﷺ نے پوچھا: اے جبریل! اس کی کیا وجہ ہے؟ جیریل e نے عرض کیا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’اور ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے جس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کےلئے ان لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں‘‘، اور فاتحہ کی سات آیتیں ہیں، سو جو شخص ان کو پڑھےگا تو ہر آیت جہنم کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر پردہ بن جائےگی، چنانچہ آپ کی امت ان دروازوں سے سلامتی کے ساتھ گزر جائےگی‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی نے عرش کے نیچے ایک فرشتہ تخلیق فرمایا ہے، جس کا سر آدمی کے سر کی مانند ہے، اس کے ستر ہزار پر ہیں، ہر پر کے اوپر فرشتوں کی ایک جماعت ہے، اس کے دائیں رخسار پر سورۂ اخلاص لکھی ہوئی ہے، اور بائیں رخسار پر آیت ’’شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ‘‘لکھی ہوئی ہے، اور اس کی پیشانی پر فاتحہ لکھی ہوئی ہے، اور اس کے سامنے ستر ہزار فرشتے صف باندھ کر فاتحہ پڑھتے ہیں، سو جب وہ کہتے ہیں:’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‘‘تو سب سجدہ میں چلے جاتے ہیں، اللہ تعالی فرماتے ہیں: سر اٹھاؤ، میں تم سے راضی ہوچکا ہوں، وہ عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! آپ امت محمد ﷺ کے ان لوگوں سے راضی ہوجائیں جو فاتحہ پڑھتے ہیں، سو اللہ تعالی فرماتے ہیں: تم گواہ رہو کہ میں ان سے راضی ہوگیا ہوں‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اختلاف أمتي رحمة‘‘. میری امت کا اختلاف رحمت ہے‘‘۔