روایت: حدیث پاک میں ہے:’’اللہ تعالی نے اسرافیل e کو حکم دیا ہوا ہے کہ اگر تم دنیا میں کسی بندہ کو سنو کہ وہ میرا نام لے رہا ہے تو سننے کے بعد صور پھونکنے میں چالیس سال کی تاخیر کردینا‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’اللہ تعالی نے آسمان وزمین کی تخلیق کے دن سے ایک فرشتہ تخلیق کررکھا ہے، اور اسے حکم دیا ہے کہ وہ آواز کھینچ کر ’’لاالہ الا اللہ‘‘کہے، اس کی آواز اور سانس نہ ٹوٹے، اور وہ اس کی تکمیل نہ کرے، جب وہ اسے مکمل کرلے تو اسرافیل e کو حکم دیا جائےگا کہ صور پھونک دے، اور قیامت قائم ہوجائےگی‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جبریل e نے بتایا کہ اللہ تعالی نے جب آدم eکی تخلیق کی، اور اس کے جسم میں روح داخل کردی، تو مجھے حکم دیا کہ میں جنت کا سیب لے کر اسے آدم eکے حلق میں نچوڑ دوں، سو میں نے اسے ان کے منہ میں نچوڑ دیا، پھر اللہ تعالی نے پہلے قطرے سے اے محمد! آپ کو پیدا کیا، اور دوسرے سے ابو بکر rکو، تیسرے سے عمر rکو، چوتھے سے عثمان rکو، اور پانچویں سے علی rکو، پھر آدم eنے پوچھا: یہ کون ہیں جن کا آپ نے اکرام کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد کے پانچ شیوخ ہیں، اور فرمایا: میری تمام مخلوق کے مقابلہ میں میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ اکرام والے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جب آدم e سے نافرمانی سرزد ہوگئی تو عرض کیا: میرے رب! ان پانچ شیوخ کی حرمت کے وسیلہ سے جن کو آپ نے فضیلت دے رکھی ہے آپ میری توبہ قبول فرما لیں، سو اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول کرلی‘‘۔
روایت:’’ويقال: إن كل حرف من كلام الله عز وجل في اللوح المحفوظ أعظم من جبل قاف، وإن الملائكة لو اجتمعت على الحرف الواحد أن يقلوه ما أطاقوه، حتى يأتي إسرافيل، وهو ملك اللوح المحفوظ، فيرفعه، فيقله بإذن الله عز وجل ورحمته، إذ كان الله تعالى أطاقه ذلك لما استعمله به‘‘. اور کہا جاتا ہے: لوح محفوظ میں موجود اللہ عزوجل کے کلام کا ہر حرف جبل قاف سے بڑاہے، اور اگر فرشتے مل کر کسی ایک حرف کو اٹھانا چاہیں تو وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ لوح محفوظ کا فرشتہ اسرافیل e تشریف لاکر اللہ عزوجل کے حکم ورحمت سے اسے اٹھائے گا، کیونکہ اللہ تعالی نے ان کو اس کے استعمال کی طاقت دے رکھی ہے۔
روایت: حدیث شریف میں آیا ہے: ’’ایک مرتبہ دو شیطانوں کی آپس میں ملاقات ہوئی، ان میں ایک شیطان موٹا تھا اور دوسرا دبلا پتلا، موٹے شیطان نے پتلے شیطان سے پوچھا: تو اتنا کمزور کیوں ہے؟ اس نے کہا کہ میری ذمہ داری ایک ایسے مسلمان پر لگی ہوئی ہے، اس کی زبان پر ہر دم اللہ تعالی کا نام رہتا ہے، جب وہ کھانا کھاتا ہے تو اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، جب پانی پیتا ہے تو اللہ تعالی کانام لیتا ہے، اس طرح وہ سارے کھانے پینے کی چیزوں میں اللہ تعالی کا نام لیتا ہے، تو جس چیز کو وہ اللہ تعالی کا نام لیکر کھاتا ہے اس چیز میں میرا کوئی حصہ نہیں رہتا، نتیجہ یہ کہ میں دن رات بھوکا رہتا ہوں، تو بھوکا رہ کر کمزور ہی ہونا ہے، اس کے بعد موٹے شیطان نے کہا: میری ذمہ داری ایک ایسے بندے کے ساتھ ہے جو اللہ تعالی کا نام ہی نہیں جانتا، وہ بغیر اللہ تعالی کا نام لئے کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے، تو جب وہ اللہ تعالی کا نام لئے بغیر کھاتا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ کھانا کھا لیتا ہوں، اور مجھے خوب کھانے کو مل رہا ہے، اس لئے میں کھا کر خوب موٹا ہورہاہوں‘‘۔
روایت: حدیث میں ہے: ’’جو شخص اس بات پر خوش ہو کہ اس کا گھر خیر سے بھر جائے تو اسے چاہئے کہ وہ کثرت سے آیت الکرسی پڑھے، اور جو شخص وضوء کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا تو اللہ تعالی اس کے چالس درجہ بلند کریں گے، اور ہر حرف پر ایک فرشتہ پیدا کریں گے جو قیامت کے دن تک اس کے پڑھنے والے کےلئے استغفار کرتا رہے گا‘‘۔