روایت: لوگوں کا حساب کتاب عرفات میں ہوگا۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مسند الإمام أحمد بن حنبل:45/597،رقم:27626ت:شعیب الأرنوؤط وغيره،مؤسسة الرسالة ـ بیروت، الطبعة الأولى۱۴۲۱هـ .
[2] علامہ عبد الرؤف مناوی l نے ’’فیض القدیر‘‘میں حدیثِ ابو ذر r کے تحت ’’أرض المحشر والنشر‘‘کی تشریح ان الفاظ سے کی ہے: ’’(الشام أرض المحشر والمنشر) أي: البقعة التي يجمع الناس فيها إلى الحساب، وينشرون من قبورهم ثم يساقون إليها، وخصت بذلك لأنها الأرض التي قال الله فيها: ﭐﱡ ﲹ ﲺ ﲻﱠ ، وأكثر الأنبياء بعثوا منها، فانتشرت في العالمين شرائعهم، فناسب كونها أرض المحشر والمنشر، (أبو الحسن بن شجاع الربعي) بفتح الراء والموحدة التحتية، نسبة إلى ربيعة بن نزار (في فضائل الشام عن أبي ذر). (فيض القدير:4/171، رقم:6039،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ)‘‘.
حافظ سخاویl نے ’’بلدانیات‘‘میں ’’مسند احمد‘‘کی ذکر کردہ اسناد پر تفصیلی بحث کی ہے، دیکھئے: (البلدانيات:ص:64،رقم: 4، ت:حسام بن محمد القطان،دار العطاء ـ الرياض،الطبعة الأولى1422هـ)‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: روزِ محشر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو حکم ہوگا: تم اپنی امتوں کو پیش کرو، نبی ﷺ امت کے نیک لوگوں کو حاضر کریں گے، لیکن ارشاد ہوگا کہ بے نمازی، تارکِ زکوۃ، ماں باپ کے نافرمان، پڑوسی پر ظلم کرنے والے، اور جھوٹ بولنے والوں کو لاؤ تاکہ اللہ تعالی کی مغفرت وکرم کا اظہار ہوسکے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من طلب ما عند الله كانت السماء ظلا له، والأرض فراشه، لم يهتم بشيء من أمر الدنيا، فهو لا يزرع الزرع وهو يأكل الخبز، وهو لا يغرس الشجر ويأكل الثمار، توكلا على الله تعالى وطلبا لمرضاته، فضمن الله السماوات السبع والأرضين السبع رزقه، فهم يتعبون فيه، ويأتون به حلالا، ويستوفي هو رزقه بغير حساب عند الله تعالى، حتى أتاه اليقين‘‘. جو شخص اس چیز کی طلب میں لگ جائے جو اللہ تعالی شانہ کے پاس ہے، آسمان اس کا سایہ ہو، زمین اس کا بسترہ ہو، دنیا کی کسی چیز کی اس کو فکر نہ ہو، تو ایسا شخص بغیر کھیتی کئے روٹی کھائے گا، بغیر باغ لگائے پھل کھائے گا، اللہ تعالی پر اس کا توکل ہو اور اس کی رضا کی جستجو میں لگا رہتا ہو، اللہ جل شانہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کو اس کی روزی کا ذمہ دار بنا دیتے ہیں، وہ سب کے سب اس کو روزی پہنچانے کےلئے کوشاں رہتے ہیں، وہ اس کو حلال روزی پہنچاتے ہیں، اور وہ اللہ تعالی کے ہاں بغیر حساب کے اپنی روزی پوری کر لیتا ہے، حتی کہ اسے موت آجاتی ہے‘‘۔
روایت:’’ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے فقیروں اور مسکینوں کا اکرام کیا؟ آج تم جنت میں اس طرح داخل ہوجاؤکہ نہ تم پر کسی قسم کا خوف ہےنہ تم مغموم ہوگے، اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے بیمار، فقیروں اور غریبوں کی عیادت کی؟ آج وہ نور کے منبروں پر بیٹھیں گے، اور اللہ عز وجل سے باتیں کریں گے، اور دوسرے لوگ حساب کی سختی میں مبتلا ہوں گے‘‘۔
روایت:’’حضرت عائشہR فرماتی ہیں کہ میں ایک دن گوشت بھون کر بیٹھی، میں نے کہا: آپ ﷺ کےلئے بھنا ہوا گوشت ہے، آپ ﷺ نے پانی کا ایک بڑا پیالہ اس میں اور ڈال دیا، میں نے کہا :یا رسول اللہﷺ!میں نے بڑے مزے کا گوشت بنایا تھا، فرمایا: عائشہ !اکیلا نہیں کھاؤں گا، چالیس گھروں تک جو بیوہ ہیں میں محمد ان کے پاس بھی یہ اللہ کی نعمت اور نبی کا تحفہ پہنچاؤں گا، پھر گوشت کے قریب بیٹھ گئے، فرمانے لگے: فلاں بوڑھی کو بلاؤ، فلاں بیوہ کو بلاؤ، فلاں اندھی کو بلاؤ، فلاں لنگڑی کو بلاؤ، عائشہR فرماتی ہیں کہ کچھ نہ بچا، سارا پیغمبرﷺ نے بیٹھ کر تقسیم کردیا‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا خوش ہوکر حضرت عائشہR سے فرمانا: آج مانگو مجھ سے کیا مانگتی ہو؟ حضرت عائشہR کا حضرت ابو بکر r سے مشورہ کرنے کے بعد یہ عرض کرنا: معراج کی رات قربتِ خاص میں جو باتیں آپ سے ہوئیں ان میں سے کوئی ایک بتا دیں۔۔۔‘‘۔