التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

یزید بن یزید بَلوی موصلی

ایک روایت میں تذکرہ

یزید بن یزید بَلوی موصلی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی یزید بن یزید بَلوی موصلی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن جوزی l’’الموضوعات‘‘[23] میں زیر بحث روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ويزيد الموصلي وأبو إسحاق الجرشي لا يعرفان‘‘.یزید موصلی اور ابو اسحاق جرشی دونوں معروف نہیں ہیں۔

حافظ ذہبی l ’’تلخيص المستدرك‘‘[24] میں زیر بحث روایت ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’فإما هذا افتراه، وإما ابن سيار‘‘.اس روایت کو یزید بَلوی یا ابن سیار نے گھڑا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[25] میں یزید بن یزید بَلوی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’عن أبي إسحاق الفزاري بحديث باطل‘‘.اس نے ابو اسحاق فزاری کے انتساب سے ایک باطل حدیث روایت کی ہے۔

 اس کے بعد حافظ ذہبی l نے زیر بحث روایت نقل کی ہے۔

 حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’لسان المیزان‘‘[26] میں اور علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الکشف الحثیث‘‘[27] میں حافظ ذہبی l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[28] میں یزید بَلوی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’متهم بالوضع‘‘. یہ حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔

حوالہ جات

[23] كتاب الموضوعات:1/200،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1386هـ .

[24] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك:2/617،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت .

[25] ميزان الاعتدال:4/441،رقم:9763،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بيروت .

[26] لسان الميزان:8/508،رقم:8598،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[27] الكشف الحثيث:ص:282،رقم:۸۴۵،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضةالعربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[28]  تنزيه الشريعة:1/128، رقم:50،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف  وعبد الله محمد الصديق،دا الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ