اس روایت کی تحقیق سے
روایت: آپ ﷺ کا حضرت الیاس e سے ملاقات کرنا، اور حضرت الیاس e کا امت محمدیہ میں شمولیت کی دعا کرنا۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)روایت میں موجود راوی ابو اسحاق ابراہیم بن عبد الحمید جرشی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ابن جوزی l ’’الموضوعات‘‘[29] میں زیر بحث روایت کو من گھڑت کہنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ويزيد الموصلي وأبو إسحاق الجرشي لا يعرفان‘‘. یزید موصلی اور ابو اسحاق جرشی دونوں کی معرفت نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’الزهر النضر‘‘[30] میں حافظ ابن جوزی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’میزان‘‘[31] میں فرماتے ہیں: ’’أبو إسحاق الجرشي، عن الأوزاعي بخبر باطل، ورواه عنه نكرة مثله من شيوخ بقية الحجازيين‘‘. ابو اسحاق جرشی نے اوزاعی lکے انتساب سے ایک باطل خبر روایت کی ہے، اور ابو اسحاق جرشی سے اسی کی طرح ’’نکرہ‘‘ راوی نے یہ روایت نقل کی ہے، جو بقیہ کے حجازی شیوخ میں سے ہے۔
حافظ ابن حجرl نے ’’لسان المیزان‘‘[32] میں حافظ ذہبیl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حوالہ جات
[29] كتاب الموضوعات:1/۲۰۰،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1386هـ .
[30] الزهر النضرفي حال الخضر:1/112،رقم:88ت:صلاح الدين مقبول أحمد،مجمع البحوث الإسلامية ـ دهلي، الطبعة الأولى1408هـ .
[31] ميزان الاعتدال:4/489،رقم:9952 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[32] لسان الميزان:9/12،رقم:۸۷۳۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .