اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر پہنچ کر سورۂ تبارک الذی پڑھے پھر چار مرتبہ کہے: ’’اللهم رب الحل والحرم والبلد الحرام، والركن، والمقام، والمشعر الحرام، بلغ روح محمد مني تحية وسلاما‘‘. اے حل، حرم، شہر حرام، رکن یمانی، مقام ابراہیم اور مشعر حرام کے پروردگار! میری طرف سے محمد ﷺ کی روح کو درود وسلام بھیج دیجئے، تو اللہ تعالی اس کے لئے دو فرشتے مقرر فرماتے ہیں، وہ دونوں محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دونوں آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں، اے محمد! فلاں بن فلاں نے آپ کو سلام پیش کیا ہے، تو آپ ﷺ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: میری طرف سے فلاں بن فلاں پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی محمد بن نشر مدنی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ازدی l ، محمد بن نشر مدنی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، مجهول‘‘[25]. محمد بن نشر مدنی متروک الحدیث، مجہول راوی ہے۔
حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[26] میں، حافظ ابن قیمl نے ’’جلاء الأفهام‘‘[27] میں اور علامہ ابو العباس مقریزی l نے ’’إمتاع الأسماع‘‘[28] میں حافظ ازدی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[29] اور ’’المغني‘‘[30] میں فرماتے ہیں: ’’عن عمرو بن نجيح، نكرة لا يعرف‘‘.عمرو بن نجیح سے روایت کرتا ہے، ’’نکرۃ‘‘ ہے، اس کی معرفت نہیں ہے۔
حوالہ جات
[25] انظر الضعفاء والمتروکین:3/104،رقم:3228،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .
[26]الضعفاء والمتروکین:3/104،رقم:3228،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴06هـ .
[27] جلاء الأفهام في فضل الصوة والسلام على محمد خير الأنام:ص:4۴۰،ت:شعيب الأرناؤوط وعبد القادر الأرناؤوط،دار العروبة ـ الكويت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[28] امتاع الأسماع:11/152،ت:محمد عبد الحميد النميسي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1420هـ .
[29] ميزان الاعتدال:4/55،رقم:8256،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[30] المغني في الضعفاء:2/382،رقم:6041،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .