اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر پہنچ کر سورۂ تبارک الذی پڑھے پھر چار مرتبہ کہے: ’’اللهم رب الحل والحرم والبلد الحرام، والركن، والمقام، والمشعر الحرام، بلغ روح محمد مني تحية وسلاما‘‘. اے حل، حرم، شہر حرام، رکن یمانی، مقام ابراہیم اور مشعر حرام کے پروردگار! میری طرف سے محمد ﷺ کی روح کو درود وسلام بھیج دیجئے، تو اللہ تعالی اس کے لئے دو فرشتے مقرر فرماتے ہیں، وہ دونوں محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دونوں آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں، اے محمد! فلاں بن فلاں نے آپ کو سلام پیش کیا ہے، تو آپ ﷺ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: میری طرف سے فلاں بن فلاں پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو یعقوب اسحاق بن اسماعیل بن عبد اللہ مَذجَحی رملی نحاس (المتوفی ۲۸۸ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’تاريخ أصبهان‘‘[19] میں فرماتے ہیں: ’’حدث بأحاديث من حفظه فأخطأ فيها‘‘.یہ اپنے حفظ سے احادیث بیان کرتا ہے، چنانچہ ان میں خطا کرتا ہے۔
امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’لا أدري ما هو‘‘[20]. مجھے معلوم نہیں کہ یہ کون ہے۔
اسی طرح امام نسائی l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’كتبت عنه، ولم أقف عليه‘‘[21]. میں نے اس سے لکھا ہے، اور میں اس پر واقف نہیں ہوسکا ہوں۔
امام نسائی l نے ایک مقام پر اسے ’’صالح‘‘ کہا ہے[22]۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’دخل أصبهان، وحدث بها بأحاديث من حفظه عن آدم بن أبي إياس، فأخطأ في بعضها‘‘. یہ اصبہان میں آیا تھا، اور یہ اصبہان میں آدم بن ابی ایاس l کے انتساب سے اپنے حفظ سے احادیث بیان کرتا تھا، چنانچہ بعض احادیث میں خطا کرتا تھا۔
حافظ ابن حجرعسقلانی l ’’التقريب‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’صدوق أخطأ في أحاديث‘‘. یہ صدوق ہے، احادیث میں خطا کرتا ہے۔
حوالہ جات
[19] تاريخ أصبهان:۱/262،رقم:430،ت:سيد كسروي حسن،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۰هـ .
[20]انظر تهذيب الكمال:2/408،رقم:339،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴02هـ .
[21]انظر تهذيب الكمال:2/408،رقم:339،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴02هـ .
[22]انظر تهذيب الكمال:2/408،رقم:339،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴02هـ .
[23]تاریخ الإسلام:6/715،رقم:136،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[24]تقريب التهذيب:ص:100،رقم:339،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .