اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’کمیل بن زیاد lفرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب r کے ساتھ نکلا، جب آپ ایک جنگل پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے قبر والو! اے آزمائش والو! اے وحشت والو! تمہاری کیا خبر ہے؟ ہماری خبر تو یہ ہے کہ (تمہارے جانے کے بعد تمہارے) اموال تقسیم ہوگئے، اولادیں یتیم ہوگئیں، بیویوں نے دوسرے خاوند کرلیے، بس یہی ہماری خبر ہے،تمہاری کیا خبر ہے؟ پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے، اے کمیل! اگر ان کو جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے: ’’بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے‘‘، پھر رونے لگے اور مجھ سے فرمایا: اے کمیل!قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی عمر و بن عبد الغفار بن عمرو ابن اخی حسن بن عمرو فُقَیمی کوفی (المتوفی ۲۰۲ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام علی بن مدینی l فرماتے ہیں: عمرو بن عبد الغفار كان رافضيا، رميت بحديثه، وقد كتبت عنه شيئا، وقال في موضع آخر: كان رافضيا فتركته للرفض‘‘[4].عمرو بن عبد الغفار رافضی تھا، میں نے اس کی حدیث کو پھینک دیا،اور میں نے اسے کچھ لکھا تھا،نیز ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: وہ رافضی تھا، چنانچہ میں نے اس کو رافضی ہونے کی وجہ سے ترک کردیا ہے۔
امام بخاریl نے ’’التاريخ الكبير‘‘[5] میں عمرو بن عبد الغفار فُقَیْمی کا ترجمہ قائم کرکے سکوت اختیار کیا ہے۔
حافظ عجلیl’’معرفة الثقات‘‘[6] میں عمرو بن عبد الغفار کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، وقد رأيته‘‘.متروک ہے، اور میں نے اس کو دیکھا ہے۔
حافظ ابوحاتمl نےعمرو بن عبدالغفار کو ’’ضعيف الحديث، متروك الحديث‘‘ کہا ہے[7]۔
حافظ عقیلیlنے’’الضعفاء الكبير‘‘[8] میں اسے ’’ منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبان l نے عمرو بن عبدالغفار فقیمی کو’’الثقات‘‘[9] میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[10] میں حافظ ابن مدینی l اور حافظ عجلی l کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ومشاه بعضهم‘‘. اور بعض نے اسے چلنے دیا ہے۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[11] میں عمرو بن عبد الغفار کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’ليس بالثبت بالحديث، حدث بالمناكير في فضائل علي رضي الله عنه‘‘. یہ حدیث میں ثبت نہیں ہے، اس نے علیr کے فضائل میں مناکیر بیان کی ہیں۔
نیز حافظ ابن عدیl اس عمرو بن عبد الغفار کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’وهو متهم إذا روى شيئا من الفضائل، وكان السلف يتهمونه بأنه يضع في فضائل أهل البيت، وفي مثالب غيرهم‘‘. اور وہ متہم ہے جب وہ فضائل میں کوئی چیز روایت کرے، اور سلف اس کو متہم قرار دیتے تھے، اس طور پر کہ وہ اہل بیت کے فضائل اور دوسروں کی برائی میں حدیث گھڑتا تھا ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان المیزان‘‘[12] میں عمرو بن عبد الغفار فُقَیْمی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’وأخرج له الحاكم في المستدرك‘‘. اور حاکم l نے ’’مستدرک‘‘میں اس کی حدیث تخریج کی ہے[13]۔
حافظ ابن قیسرانیl ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[14] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعمرو هذا كان يتهم بوضع الحديث في المثالب والفضائل‘‘. اور یہ عمرو مثالب اور فضائل میں حدیث گھڑنے میں متہم ہے۔
حافظ ابو الحسن بن قطان فاسیl ’’بيان الوهم‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’وعمرو بن عبد الغفار ليس بشيء، وقد اتهمه الناس بوضع الحديث‘‘. اور عمرو بن عبد الغفار ’’لیس بشیء‘‘ہے، اور لوگوں نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبیl نے عمرو بن عبد الغفارکو’’المغني‘‘[16] میں’’هالك‘‘
اور ’’ميزان الاعتدال‘‘[17] میں’’متهم‘‘کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[18] میں ایک روایت کے تحت عمرو بن عبدالغفار کو ’’متروك‘‘کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[19]میں عمرو بن عبدالغفار کو متہمین کی فہرست میں ذکر کرکے فرماتے ہیں : ’’قال بن عدي: اتهم بوضع الحديث، انتهى، وقد ذكره ابن حبان في ثقاته‘‘.ابن عدی l فرماتے ہیں کہ یہ حدیث گھڑنے میں متہم ہے، انتہی ، اور ابن حبان lنے اسے ’’ثقات‘‘ میں ذکر کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[20] میں عمرو بن عبد الغفار فقَیْمی کو وضاعین و متہمینکی فہرست میں شمار کرکےحافظ ابن عدی lکا کلام نقل کیا ہے۔
حوالہ جات
[4] تاريخ بغداد:۱۴/۱۰۹،رقم:۶۶۱۳،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[5] التاريخ الكبير:۶/۱۶۵،رقم:۸۶۸۲ ،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .
[6] معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم:2/447،رقم:2322، ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مطبعة المدني ـ مصر .
[7] الجرح والتعديل:6/۲۴۶،رقم:۱۳۶۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[8] الضعفاء الكبير:۳/۲۸۶،رقم:1285،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .
[9] الثقات لابن حبان:۸/۴۷۸،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى۱۳۹۳هـ .
[10] تاريخ الإسلام:5/138،رقم:292،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[11] الكامل في ضعفاء الرجال:6/251،رقم:1311،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[12] لسان الميزان:۶/۲۱۶،رقم:۵۸۱۹،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[13] امام ابو عبداللہ حاکم l نے ’’المستدرك‘‘میں عمرو بن عبد الغفار کی صرف ایک ہی روایت تخریج کی ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں: ’’هذا حديث له طرق عن البراء، ولم يخرجاه‘‘. اس حدیث کے براء r سے کئی طرق ہیں، اور شیخین n نے اس کی تخریج نہیں کی۔ (المستدرك على الصحيحين:۳/۴۳،رقم:۴۳۴۸،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ) .
[14] ذخيرةالحفاظ:ص:۱۱۵۶،رقم:2452ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[15] بيان الوهم والإيهام الواقعين في كتاب الأحكام:3/417،ت:الحسين آيت سعيد،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱7هـ .
[16] المغني في الضعفاء:2/۱۴۸،رقم:467۸،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[17] ميزان الاعتدال:۳/۲۷۲،رقم:۶۴۰۳،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[18] مجمع الزوائد:4/65،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[19] الكشف الحثيث:20۲،رقم:5۷۲،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[20] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/93،رقم:355،ت:عبد الوهاب وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .