اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’کمیل بن زیاد lفرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب r کے ساتھ نکلا، جب آپ ایک جنگل پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے قبر والو! اے آزمائش والو! اے وحشت والو! تمہاری کیا خبر ہے؟ ہماری خبر تو یہ ہے کہ (تمہارے جانے کے بعد تمہارے) اموال تقسیم ہوگئے، اولادیں یتیم ہوگئیں، بیویوں نے دوسرے خاوند کرلیے، بس یہی ہماری خبر ہے،تمہاری کیا خبر ہے؟ پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے، اے کمیل! اگر ان کو جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے: ’’بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے‘‘، پھر رونے لگے اور مجھ سے فرمایا: اے کمیل!قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو عبداللہ محمد بن علی بن خلف عطار کوفی بغدادی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ابن عدیl’’الكامل‘‘[21] میں حسین اشقر کے ترجمہ میں ایک حدیث کے تحت محمد بن علی بن خلف عطار کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ومحمد بن علي هذا عنده من هذا الضرب عجائب، وهو منكر الحديث، والبلاء فيه عندي من محمد بن علي بن خلف‘‘. اور اس محمد بن علی کے پاس اس قسم کے عجائب ہیں، اور یہ منکر الحدیث ہے، اور میرے نزدیک اس حدیث میں ’’بلاء‘‘ محمد بن علی بن خلف کی جانب سے ہے۔
حافظ ابن جوزی l نے’’الضعفاء‘‘[22] میں، حافظ ذہبیl نے ’’المغني‘‘[23] اور’’ديوان‘‘[24] میں، اور علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[25] میں حافظ ابن عدیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ محمد بن منصور فرماتے ہیں: ’’ كان محمد بن علي بن خلف ثقة مأمونا، حسن العقل‘‘. محمد بن علی بن خلف ثقہ مامون، حسن العقل ہے[26]۔
واضح رہے کہ محمد بن منصور کی تعیین نہیں ہوسکی۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[27] میں محمد بن علی بن خلف عطار کوفی کو متہمین کی فہرست میں ذکر کرکے سابقہ ائمہ کے اقوال ذکر کئے ہیں۔
حوالہ جات
[21] الكامل في ضعفاء الرجال:3/236،رقم:490 ،ت:عادل أحمد,عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت.
[22] الضعفاء والمتروکین:3/86 ،رقم:313۰،ت:أبو الفداء عبد الله القاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[23] المغني في الضعفاء:2/351،رقم:۵۸۳۸،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[24] ديوان الضعفاء:ص:367،رقم:3891،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة- مكة،الطبعة الثانية.
[25] تنزيه الشريعة:1/110،رقم:214،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .
[26] انظر تاريخ بغداد:4/93،رقم:1266،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[27] الكشف الحثيث:240،رقم:۷۰۶،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضةالعربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .