اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’کمیل بن زیاد lفرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب r کے ساتھ نکلا، جب آپ ایک جنگل پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے قبر والو! اے آزمائش والو! اے وحشت والو! تمہاری کیا خبر ہے؟ ہماری خبر تو یہ ہے کہ (تمہارے جانے کے بعد تمہارے) اموال تقسیم ہوگئے، اولادیں یتیم ہوگئیں، بیویوں نے دوسرے خاوند کرلیے، بس یہی ہماری خبر ہے،تمہاری کیا خبر ہے؟ پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے، اے کمیل! اگر ان کو جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے: ’’بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے‘‘، پھر رونے لگے اور مجھ سے فرمایا: اے کمیل!قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی رُشَید ہَجَری کوفی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ یحیی بن معین l، رُشَید ہَجَری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس برشيد، ولا أبوه‘‘[28]. یہ رُشد والا نہیں ہے، اور نہ ہی اس کا والد۔
حافظ یحیی بن معین l نے ایک مقام پر اسے ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[29]۔
امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[30] میں رُشَید ہَجَری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يتكلمون في رُشَيد‘‘. محدثین رُشَید کے بارے میں کلام کرتے ہیں۔
حافظ جوزجانیl ’’ أحوال الرجال‘‘[31] میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، غير ثقة‘‘. کذاب ہے، ثقہ نہیں ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[32] میں حافظ جوزجانیl کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
امام نسائی l نے’’الضعفاء‘‘[33] میں رُشَید ہَجَری کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حبانl’’المجروحین‘‘[34]میں رُشَید ہَجَری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان يؤمن بالرجعة، قال الشعبي: دخلت عليه يوما، فقال: خرجت حاجا، فقلت: لأعهدن بأمير المؤمنين عهدا، فأتيت بيت علي عليه السلام، فقلت لإنسان: استأذن لي على أمير المؤمنين، قال: أوليس قد مات؟ قلت: قد مات فيكم، والله! إنه ليتنفس الآن تنفس الحي، فقال: أما إذ عرفت سر آل محمد فادخل، قال: فدخلت على أمير المؤمنين، وأنبأني بأشياء تكون، فقال له الشعبي: إن كنت كاذبا فلعنك الله، وبلغ الخبر زيادا، فبعث إلى رُشَيد الهجري، فقطع لسانه، وصلبه على باب [دار] عمرو بن حريث‘‘.
یہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا، شعبی lفرماتے ہیں: ایک دن میں اس کے پاس گیا، اس نے کہا: میں حج کےلئے نکلا، میں نے کہا کہ میں امیر المؤمنین سے ضرور عہد کروں گا، چنانچہ میں علی علیہ السلام کے گھر پہنچا، میں نے ایک شخص سے کہا: آپ میرے لئے امیر المؤمنین سے اجازت لے لیجئے، تو اس شخص نے کہا کہ کیا وہ فوت نہیں ہوگئے؟ میں نےکہا: وہ تم میں فوت ہوگئے ہیں، اللہ کی قسم! وہ زندوں کی طرح سانس لیتے ہیں، تو اس شخص نے کہا: اگر تمہیں آلِ محمد کے بھید کی معرفت ہے تو داخل ہوجاؤ، رُشَید کہتا ہے کہ میں امیر المؤمنین کے پاس آیا، اور انہوں نے مجھے ایسی اشیاء کے بارے میں خبر دی جو ہونی تھیں، تو شعبی lنے رُشَید سے کہا: اگر تو نے جھوٹ بولا ہے تو تجھ پر اللہ تعالی کی لعنت ہو، اور یہ خبر زیاد کو پہنچی، تو اس نے رُشَید کی جانب بھیج کر اس کی زبان کٹوا دی، اور بابِ عمرو بن حریث پر اسے سولی دے دی[35]۔
حافظ دار قطنی l ’’المؤتلف‘‘[36] میں رُشَید ہَجَری کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ولم يكن مستقيما في مذهبه‘‘. اور یہ اپنے مذہب میں مستقیم نہیں تھا۔
نیز حافظ دارقطنیl نے اسے ایک مقام پر ’’متروك‘‘ کہا ہے[37]۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[38] میں رُشَید ہَجَری کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال أبو إسحق الجوزجاني: كذاب‘‘. ابو اسحاق جوزجانی l فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔
حوالہ جات
[28] تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي:ص:110،رقم:326،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ بيروت .
[29] الجرح والتعديل:۳/۵۰۷،رقم:22۹۸،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى1372هـ .
[30] التاريخ الكبير:۳/۲۸۴،رقم:۴۰۲۶،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۲۹هـ .
[31] أحوال الرجال:ص:۴۵،رقم:۱۹،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث اكادمي ـ فيصل آباد باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .
[32] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:۱۳۸،رقم:۱۴۱۶،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة،الطبعة1387هـ .
[33] الضعفاء والمتروكين:ص:۱۷۷،رقم:۲۰۱،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[34] المجروحين من المحدثين:1/298،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[35] حافظ ذہبیl نے ’’ تذکرة الحفاظ‘‘میں ذکر کردہ حکایت ان الفاظ سے ذکر کی ہے: ’’شبابة بن سوار، أنا يزيد بن عياض، وغير واحد، عن مجالد، عن الشعبي، قال: ما كنت اعرف فقهاء الكوفة إلا أصحاب عبد الله، فقال له قيس الأرقب: أفلا تعرف أصحاب علي؟ فقال: نعم، قال: فتعرف الحارث الأعور؟ قال: نعم، لقد تعلمت منه حساب الفرائض والجد، فخشيت على نفسي منه الوسواس، فلا أدري ممن تعلمه، قال: فهل تعرف ابن صبوة؟ قال: نعم، لم يكن بفقيه، ولم يكن فيه خير، قال: فهل تعرف صعصعة بن صوحان؟ قال: كان رجلا خطيبا، ولم يكن بفقيه .
[36] المؤتلف والمختلف:ص:۱۰۶۶،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[37] انظر الضعفاء والمتروکین لابن الجوزي:1/285،رقم:1233،ت:أبو الفداء عبد الله القاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[38] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۶۰،رقم:۹،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .