التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

علی بن موسی الرضا

ایک روایت میں تذکرہ

علی بن موسی الرضا کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی علی بن موسی الرضا کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن حبان l فرماتے ہیں: ’’يروي عن أبيه العجائب، روى عنه أبو الصلت وغيره، كأنه كان يهم ويخطئ‘‘[21]. یہ اپنے والد سے عجائب روایت کرتا ہے، ان سے ابو الصلت وغیرہ نے روایت کی ہے، گویا کہ ان سے وہم اور خطاء ہوتی تھی۔

حافظ ابن حبان l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’يجب أن يعتبر حديثه إذا روى عنه غير أولاده وشيعته وأبى الصلت خاصة، فإن الأخبار التي رويت عنه وتبين [ كذا في الأصل] بواطيل، إنما الذنب فيها لأبي الصلت ولأولاده وشيعته، لأنه في نفسه كان أجل من أن يكذب...‘‘[22]. ضروری ہے کہ ان کی احادیث کا اعتبار کیا جائے جب ان سے نقل کرنے والا ان کی اولاد، ان کے متبعین اور خاص طور پر ابو الصلت کے علاوہ کوئی راوی ہو، اس لئے کہ علی بن موسی کی جو اخبار ابو الصلت سے منقول ہیں، اور جن کا باطل ہونا واضح ہے، ان اخبار میں برائی ابو الصلت، ان کی اولاد اور ان کے متبعین کی وجہ سے ہے، کیونکہ علی بن موسی بذاتِ خود اس سے بلند ہے کہ وہ جھوٹ بولے۔۔۔‘‘۔

حافظ ذہبی l فرماتے ہیں: ’’وقد كذبت الرافضة على علي الرضا وآبائه رضي الله عنهم أحاديث ونسخا، هو بريء من عهدتها، ومنزه من قولها، وقد ذكروه من أجلها في كتب الرجال...‘‘[23]. اور رافضیوں نے علی بن موسی اور ان کے آباء پر جھوٹی احادیث اور نسخے گھڑے ہیں، وہ ان احادیث سے بری ہیں، اور وہ ان کی باتوں سے منزہ ہیں، اسی وجہ سے محدثین نے ان کو رجال کی کتب میں ذکر کیا ہے۔۔۔‘‘۔

حافظ ذہبی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’رويت عنه نسخة فيها عجائب، وهو صدوق‘‘[24]. ان سے ایک نسخہ منقول ہے جس میں عجائب ہیں، اور یہ ’’صدوق‘‘ ہے۔

حوالہ جات

[21] المجروحين:2/106،ت:محمودإبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[22] الثقات لابن حبان:8/456،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة ۱۳۹۳هـ .

[23] تاريخ الإسلام:14/272،رقم:281،ت:عمر عبد السلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱1هـ .

[24] ديوان الضعفاء:ص:286،رقم:2969،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ المكة المكرمة،الطبعة1387هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ