اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’السخي إنما يجود من حسن الظن بالله، والبخيل إنما يبخل من سوء الظن بالله‘‘. جو شخص سخاوت کرتا ہے وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ حسن ظن کی وجہ سے کرتا ہے، اور جو بخل کرتا ہے وہ حق تعالی شانہ کے ساتھ بدظنی سے کرتا ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی قاضی ابو صالح خلف بن یحیی مازنی بخاری (التوفی بعد ۲۲۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو حاتم l، خلف بن یحیی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، كان كذابا، لا يشتغل به ولا بحديثه‘‘[2]. یہ متروک الحدیث ہے، یہ جھوٹا تھا، اس میں اور اس کی حدیث میں مشغول نہیں ہوا جائے گا۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان‘‘[3] میں، حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان‘‘[4] میں اور حافظ سخاوی l نے ’’الأجوبة‘‘[5] میں حافظ ابو حاتم l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابو احمد حاکم l ’’الأسامي‘‘میں خلف بن یحیی کے ترجمہ میں خلف بن یحیی عن ابی مقاتل کی سند سے ایک حدیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’هذا حديث منكر، والله يرحم خَلَف وأبا مقاتل‘‘[6]. یہ منکر حدیث ہے، اور اللہ تعالی خلف اور ابو مقاتل پر رحم فرمائے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘[7] میں ایک حدیث کے تحت خلف بن یحیی کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[8] میں خلف بن یحیی خراسانی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابو حاتم l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حوالہ جات
[2] الجرح والتعديل:3/372،رقم:1697،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى۱۳۷۲هـ .
[3] ميزان الاعتدال:1/663،رقم:2550،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت.
[4] لسان الميزان:3/374،رقم:2971،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشار الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[5] الأجوبة المرضية:۲/۴۹۹،ت:محمد إسحاق محمد إبراهيم،دار الراية ـ الرياض،الطبعة الأولى1418 هـ .
[6] الأسامي والكنى:4/288،رقم:3406،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[7] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:5/34،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[8] تنزيه الشريعة:۱/58،رقم30،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .