التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عبد اللہ بن عبد العزیز بن ابی رواد

ایک روایت میں تذکرہ

عبد اللہ بن عبد العزیز بن ابی رواد کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی عبد اللہ بن عبد العزیز بن ابی روادکے  بارے میں ائمہ  رجال کا کلام

حافظ ابو الحسن علی بن حسین بن جنید مالکی l فرماتے ہیں: ’’لا يسوي فلسا، يحدث بأحاديث كذب‘‘[49]. ایک پیسے کے برابر بھی نہیں ہے، جھوٹی احادیث بیان کرتا ہے۔

حافظ ابن ابی حاتمl ’’الجرح والتعديل‘‘[50] میں لکھتے ہیں: ’’سمعت أبي يقول: كنا نأتي عفان، وكان بالقرب منه عبد الله بن عبد العزيز بن أبي رواد، فنظرت في [بعض] حديثه، فرأيت أحاديثه أحاديثا [ كذا في الأصل] منكرة، ولم أكتب عنه، ولم يكن محله عندي الصدق‘‘. میں نے اپنے والد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہم عفان کے پاس حاضر ہوتے تھے، عبد اللہ بن عبد العزیز بن ابی رواد ان کے قریب میں تھا، جب  میں نے اس کی بعض روایات کو دیکھا تو میں نے اس کی حدیث میں منکر احادیث پائیں، اور میں نے اس سے نہیں لکھا، میرے نزدیک وہ ’’محلہ الصدق‘‘  نہیں ہے ۔

حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[51] میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه أحاديثه مناكير، غير محفوظة، ليس ممن يقيم الحديث‘‘. یہ اپنے والد کے انتساب سے منکر، غیر محفوظ احادیث روایت کرتا ہے، یہ مقیم الحدیث لوگوں میں سے نہیں ہے۔

حافظ ابن حبان l’’الثقات‘‘[52] میں فرماتے ہیں: ’’يعتبر حديثه إذا روى عن غير  أبيه، وفي روايته عن إبراهيم بن طهمان بعض المناكير‘‘. یہ جب اپنے والد کے علاوہ سے روایت کرے تو اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا، اور اس کی ابراہیم بن طہمان سے منقول روایات میں بعض مناکیر ہیں۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[53] میں فرماتے ہیں: ’’يحدث عن أبيه عن نافع، عن ابن عمر بأحاديث لا يتابعه أحد عليه‘‘. یہ عن ابیہ، عن نافع، عن ابن عمر q کی سند سے ایسی روایات بیان کرتا ہے جن کی کوئی متابعت نہیں کرتا۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[54] میں مزید فرماتے ہیں: ’’وعبد الله بن عبد العزيز له غير ما ذكرت أحاديث لم يتابعه أحد عليها، ولم أر للمتقدمين فيه كلاما، والمتقدمون قد تكلموا فيمن هو أصدق من عبد الله بن عبد العزيز، وإنما ذكرته لما شرطت في أول كتابي [هذا]‘‘. اور عبد اللہ بن عبد العزیز کی میری ذکر کردہ  روایات کے علاوہ بھی احادیث ہیں جن میں کسی ایک نے بھی اس کی متابعت نہیں کی، اور میں نے اس کے بارے میں متقدمین کا کلام نہیں دیکھا، حالانکہ متقدمین عبد اللہ بن عبد العزیز سے زیادہ سچے لوگوں پر کلام کر چکے ہیں، اور میں نے اسے اس لئے ذکر کیا کہ میں نے اپنی اس کتاب کے شروع میں اس کی شرط لگائی تھی۔

امام بیہقیl نے ’’شعب الإيمان‘‘[55] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن عبد العزیز کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبی l نے ’’المهذب‘‘[56] اور ’’تنقيح التحقيق‘‘[57] میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن عبد العزیز کو ’’واه‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[58]  میں ایک روایت کے تحت عبد اللہ بن عبد العزیز کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[59] میں عبد اللہ بن عبد العزیز کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شامل کر کے لکھتے ہیں: ’’قال ابن الجنيد: يحدث بأحاديث كذب‘‘. ابن جنید l فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹی احادیث بیان کرتا ہے۔

حوالہ جات

[49] انظر الجرح والتعديل:۵/۱۰۴،رقم:۴۷۸،دار الكتب العلميةـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[50] الجرح والتعديل:۵/۱۰۴،رقم:۴۷۸،دار الكتب العلميةـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[51] الضعفاء الكبير:۲/۲۷۹رقم:۸۴۲،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[52] الثقات:8/347،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن، الطبعةالأولى1393هـ .

[53] الكامل في الضعفاء:۵/۳۳۵،رقم:۱۰۱۲،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[54] الكامل في الضعفاء:۵/۳۳۶،رقم:۱۰۱۲،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[55] شعب الإيمان:11/503،رقم:8909 ،ت:عبد العلي عبد الحميد حامد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴23هـ .

[56] المهذب في اختصار السنن الكبير:ص:۲۳،رقم:۶۷،ت:أبي تميم ياسر بن إبراهيم،دار الوطن ـ الرياض، الطبعة الأولى1422هـ .

[57] تنقيح التحقيق في أحاديث التعليق:1/32،ت:مصطفى أبو الغيط عبد الحي،دار الوطن ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴21هـ .

[58] مجمع الزوائد:1/120،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[59] تنزيه الشريعة:۱/۷۳،رقم:۶۳،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد صديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ