اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپ ﷺکا ارشاد ہے :دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسا کہ لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اس کی صفائی کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا:قران کی تلاوت‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابراہیم بن عبد السلام بن عبد اللہ بن باباہ قرشی مخزومی مکی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl نے ’’الثقات‘‘[36] میں ابراہیم بن عبد السلم نامی کا ترجمہ قائم کرکے ’’شيخ‘‘ کہا ہے۔
واضح رہے کہ حافظ ابن حجر عسقلانی lنے حافظ ابن حبان l کا یہ قول ’’تهذیب التهذیب‘‘میں ابراہیم بن عبد السلام مخزومی کے ترجمہ میں نقل کیا ہے، لیکن اس بات کی تعیین نہیں ہوسکی کہ ابراہیم بن عبد السلام مخزومی اور ابراہیم بن عبد السلم ’’شیخ‘‘ ایک ہی راوی ہے یا الگ الگ راوی ہیں، واللہ اعلم[37]۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[38] میں فرماتے ہیں :’’ليس بمعروف، حدث بالمناكير، وعندي أنه يسرق الحديث‘‘. یہ معروف نہیں ہے، مناکیر بیان کرتا ہے، اور میرے نزدیک یہ حدیث میں سرقہ کرتا ہے۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[39] میں مزید فرماتے ہیں :’’وإبراهيم بن عبد السلام هذا هو في جملة الضعفاء من الرواة‘‘. اور یہ ابراہیم بن عبد السلام من جملہ ضعیف راویوں میں سے ہے۔
حافظ مزیl نے ’’تهذيب الكمال‘‘[40] عبد اللہ بن میمون کے ترجمہ میں ابراہیم بن عبد السلام کو ’’أحد الضعفاء المتروكين‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’الكاشف‘‘[41] میں ابراہیم بن عبد السلام کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’قيل: إنه يسرق الحديث‘‘. کہا گیا ہے کہ یہ حدیث میں سرقہ کرتا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[42] میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف، متهم‘‘. ضعیف، متہم ہے۔
حافظ زرکشی l ’’التذكرة‘‘[43] میں ایک روایت کے تحت ابراہیم بن عبد السلام کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وهو ضعيف، يسرق من الحديث‘‘. اور یہ ضعیف ہے، حدیث میں سرقہ کرتا ہے۔
حافظ ابن حجرعسقلانیl نے ’’التقريب‘‘[44] میں ابراہیم بن عبد السلام کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[36] كتاب الثقات:۸/60،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد،الطبعة الأولى۱۳۹۳هـ .
[37] تهذيب التهذيب:1/141، رقم:251، دائرة المعارف ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .
[38] الكامل في ضعفاء الرجال:1/۴۱۹،رقم:91،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[39] الكامل في ضعفاء الرجال:1/۴21،رقم:91،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[40] تهذيب الكمال:۱۶/۲۰۲،رقم:۳۶۰۴،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴07هـ .
[41] الكاشف:1/۲۱۷،رقم:۱۶۸،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[42] ديوان الضعفاء:ص:۱۷،رقم:۲۰۹،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة،الطبعة 1387هـ .
[43] التذکرة في الأحادیث المشتهـرة:ص:147،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة ۱۴۰۶هـ .
[44] تقريب التهذيب:ص:۹۱،رقم:۲۰۹،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .