اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپ ﷺکا ارشاد ہے :دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسا کہ لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اس کی صفائی کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا:قران کی تلاوت‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو ہشام عبدالرحیم بن ہارون غسانی واسطی (المتوفی نحو ۲۰۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’هو مجهول، لا أعرفه، قال أبو محمد: وكتب لأبي رحمه الله إبراهيم بن اُورْمَة بخطه عن شيخ بسامرا، يقال له: ابراهيم بن جابر المروزى، عن عبد الرحيم بن هارون نحو ورقة، فلم يأته، ولم يسمع منه‘‘[21]. یہ مجہول ہے، میں اس کو نہیں پہچانتا ، ابو محمد (یعنی عبد الرحمن بن ابی حاتم l) فرماتے ہیں: ابراہیم بن اَوْرَمہ نے اپنی تحریر سے سامرا کے ایک شیخ جن کو ابراہیم بن جابر مروزی کہا جاتا تھا، اس کے واسطے سے عبد الرحیم بن ہارون سے تقریباً ایک ورقہ کے بقدر میرے والد کی جانب لکھا، پھر بھی میرے والد نہ ان کے پاس گئے اور نہ ان سے سنا۔
حافظ ابن حبانl ’’الثقات‘‘[22] میں فرماتے ہیں:’’يعتبر حديثه إذا روى عن الثقات من كتابه، فإن فيما حدث من غير كتابه بعض المناكير‘‘. جب یہ ثقات سے اپنی کتاب سے روایت کرے تو ان کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ اس کی اپنی کتاب کے علاوہ بیان کردہ احادیث میں بعض مناکیر ہیں۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[23] میں عبد الرحیم کی زیر بحث روایت دیگر روایات کے ساتھ تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’وهذه الأحاديث التي ذكرتها يحدث بها عبد الرحيم عن ابن أبي رواد، وهشام بن حسان، وعطية، وله غير ما ذكرت، ولم أر للمتقدمين فيه كلاما، وإنما ذكرته لأحاديث رواها مناكير عن قوم ثقات‘‘. یہ احادیث جو میں نے ذکر کی ہیں ان کو عبدالرحیم عن ابن رواد، ہشام بن حسان اور عطیہ کے طریق سے روایت کرتا ہے، اور اس کے علاوہ بھی اس کی احادیث ہیں، اور میں نے اس کے بارے میں متقدمین کا کلام نہیں دیکھا، اور میں نے اس کا تذکرہ اس کی ان منکر روایات کی بنا پر کیا ہے، جو اس نے ثقہ راویوں کے انتساب سے روایت کی ہیں۔
امام دارقطنیl فرماتے ہیں: ’’وعبد الرحيم بن هارون الغساني متروك، يكذب‘‘[24]. عبد الرحیم بن ہارون غسانی متروک ہے ،جھوٹ بولتا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[25] میں ایک روایت کے تحت عبد الرحیم کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص العلل المتناهية‘‘[26] میں عبد الرحیم بن ہارون کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبیl ’’الكاشف‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’قال الدارقطني: يكذب، وحسن الترمذي له‘‘. دار قطنی l فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولتا ہے، اور ترمذی l نے اس کی روایت کو حسن کہا ہے۔
حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’التقريب‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف، كذبه الدارقطني‘‘. یہ ضعیف ہے، دار قطنی l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
حوالہ جات
[21] الجرح والتعديل:۵/۳۴۰،رقم: ۱۶۰۴،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى۱۳۷۲هـ .
[22] كتاب الثقات:۸/۴۱۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد،الطبعة الأولى۱۳۹۳هـ .
[23] الكامل في الضعفاء:۶/۴۹۷،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[24] سؤالات البرقاني للدارقطني:ص:46،رقم:315،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،كتب خانه جميلي ـ لاهور ـ باكستان،الطبعة الأولى1404هـ .
[25] ذخيرة الحفاظ:۲/۱۱۷۱،رقم:۲۴۹۱،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبارالفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴16هـ .
[26] تلخيص العلل المتناهية:3/1146،رقم:876 ،ت:أبي عبيد محفوظ الرحمن زين الله،الجامعة الإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة1400هـ .
[27] الكاشف:1/651،رقم:3360،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[28] تقريب التهذيب:ص:354،رقم:4060،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .