اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’فِکْرَةُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّیْنَ سَنَة‘‘. ایک گھڑی کا غور وفکر ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)سعید بن مَیْسَرَۃ کے بارے میں ائمہ کے اقوال:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مذکورہ سند میں ایک راوی سعید بن مَیْسَرَۃ ہے، جن کے بارے میں حافظ ابن حجرl’’لسان المیزان‘‘[31]میں لکھتے ہیں:
’’قال البخاري:عنده مَنَاکِیرُ، وقال أیضاً: مُنْکَرُ الحدیث، وقال ابن حِبَّان: یَروِي الموضوعات، وقال الحاکم: روى عن أنسٍ موضوعات وکَذَّبَه یحیی القَطَّان‘‘.
امام بخاری lفرماتے ہیں سعید بن میسرہ کے پاس ’’مناکیر‘‘ ہیں، اور امام بخاریl نے سعید کو ’’منکر الحدیث‘‘ (کلمہ ٔجرح)بھی کہا ہے۔
حافظ ابن حِبّانlفرماتے ہیں کہ سعید بن میسرہ احادیث گھڑتا تھا۔ اور حاکمl فرماتے ہیں کہ سعید، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی نسبت سے حدیثیں گھڑتا تھا۔
امام یحیی القطانl نے سعید کو جھوٹا قرار دیا ہے۔
حوالہ جات
[31] لسان المیزان:4/78،رقم:3490ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1423هـ .