اس روایت کی تحقیق سے
روایت: حضرت انس r کا تنور کی آگ سے آپ ﷺ کےرومال کے میل کچیل کو صاف کرنا،اور رومال کا نہ جلنا
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)روایت کی سند میں موجود دینار ابو مِکْیَسْ حبشی(متوفی ۲۲۹ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[21] میں فرماتے ہیں:
’’عن أنس ذاك التالف المتهم، قال ابن حبان: يروي عن أنس أشياء موضوعة، وقال ابن عدي: ضعيف ذاهب‘‘. یہ انس r سے روایات نقل کرتا ہے،یہ تباہ حال،متہم شخص ہے،ابن حبان l کا کہنا ہے کہ یہ انس r کے انتساب سے من گھڑت چیزیں نقل کرتا ہے،ابن عدی l نے اسےضعیف،ذاہب کہا ہے۔
اس کے بعد حافظ ذہبی l نے اس کی حضرت انس r سے روایت کردہ چند احادیث نقل کیں،پھر لکھتے ہیں:
’’إن كان من هذا الضرب، فيقدر أن يروي عنه عشرين ألفا كلها كذب ‘‘ .جب یہ اس قسم کا شخص ہے،پھر تو انس r سے بیس ہزار احادیث بھی نقل کر سکتا ہے،جو تمام تر جھوٹی ہوں۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ،حافظ ذہبی l کے قول کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’وقال الحاكم: روى عن أنس قريبا من مئة حديث موضوعة ‘‘ . حاکم l کا کہنا ہے کہ اس نے انس r کے انتساب سے ایک سو احادیث گھڑی ہیں[22]۔