التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

دینار ابو مِکْیَسْ حبشی

متوفی ۲۲۹ھایک روایت میں تذکرہ

دینار ابو مِکْیَسْ حبشی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

 روایت کی سند میں موجود دینار ابو مِکْیَسْ حبشی(متوفی ۲۲۹ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[21] میں فرماتے ہیں:

’’عن أنس ذاك التالف المتهم، قال ابن حبان: يروي عن أنس أشياء موضوعة، وقال ابن عدي: ضعيف ذاهب‘‘. یہ انس r سے روایات نقل کرتا ہے،یہ تباہ حال،متہم شخص ہے،ابن حبان l کا کہنا ہے کہ یہ انس r کے انتساب سے من گھڑت چیزیں نقل کرتا ہے،ابن عدی l نے اسےضعیف،ذاہب کہا ہے۔

اس کے بعد حافظ ذہبی l نے اس کی حضرت انس r سے روایت کردہ چند احادیث نقل کیں،پھر لکھتے ہیں:

’’إن كان من هذا الضرب، فيقدر أن يروي عنه عشرين ألفا كلها كذب ‘‘ .جب یہ اس قسم کا شخص ہے،پھر تو انس r سے بیس ہزار احادیث بھی نقل کر سکتا ہے،جو تمام تر جھوٹی ہوں۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ،حافظ ذہبی l کے قول کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’وقال الحاكم: روى عن أنس قريبا من مئة حديث موضوعة ‘‘ . حاکم l کا کہنا ہے کہ اس نے انس r کے انتساب سے ایک سو احادیث گھڑی ہیں[22]۔

حوالہ جات

[21]  ميزان الاعتدال:۲/۳۰،رقم:۲۶۹۲،ت:علی محمد البجاوی،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۶هـ .

[22]  لسان الميزان:۳/۴۲۶،رقم:۳۰۷۷،ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلامیةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ