التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو معمر عباد بن عبدالصمد

ایک روایت میں تذکرہ

ابو معمر عباد بن عبدالصمد کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجودراوی ابو معمر عباد بن عبدالصمد کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ ابن عدی l کا قول

حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘ [2] میں فرماتے ہیں: ’’يحدث عن أنس بالمناكير‘‘. یہ انس r سے مناکیر نقل کرتا ہے۔

حافظ ابن عدی l مزید فرماتے ہیں: ’’وعباد بن عبد الصمد له عن أنس غير حديث منكر، وعامة ما يرويه في فضائل علي، وهو ضعيف منكر الحديث، ومع ذلك غالي في التشيع‘‘.

 عبادبن عبدالصمد کی انس r سے منکر حدیث کے علاوہ احادیث بھی ہیں،اور ان میں سے اکثر روایات حضرت علی r کے فضائل کے متعلق ہیں، عبادبن عبدالصمد ضعیف،منکر الحدیث ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ تشیع میں غالی ہے۔

ابو حاتم l کا کلام

امام ابو حاتم l ’’الجرح والتعدیل‘‘ [3] میں فرماتے ہیں:

’’ضعيف الحديث جدا، منكر الحديث، لا أعرف له حديثا صحيحا‘‘. یہ بہت زیادہ ضعیف الحدیث ہے، منکر الحدیث ہے، میں اس کی کوئی صحیح حدیث نہیں پہچانتا۔

امام بخاری l کا کلام

امام بخاری l فرماتے ہیں: ’’فيه نظر‘‘[4].

حافظ ابن حبان l کا قول

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘ [5] میں لکھتے ہیں:

’’منكر الحديث جدا، يروي عن أنس ما ليس من حديثه، وما أراه سمع منه شيئا، فلا يجوز الاحتجاج به فيما وافق الثقات فكيف إذا انفرد بأوابد‘‘.

یہ بہت زیادہ منکر الحدیث ہے، یہ حضرت انس بن مالک r سے ایسی روایتیں نقل کرتا ہے جو ان کی روایات میں سے نہیں ہیں، اور میرا خیال نہیں ہے کہ اس نے حضرت انس بن مالک r سے کچھ بھی سنا ہو، جن روایتوں میں جماعت ثقہ ان کی موافقت کرتی ہے ان روایتوں سے بھی استدلال کرنا جائز نہیں ہے، تو پھر ان روایات کا کیا کہنا جو نوادرات ہیں اور یہ ان کے نقل کرنے میں متفرد ہے۔

کچھ آگے جاکر حافظ ابن حبان l نے عباد بن عبد الصمد کی زیرِ بحث حدیث کے علاوہ دو حدیثیں تخریج کیں،پھران کے بارے میں سند کےایک راوی کا یہ قول لکھتے ہیں:

 ’’حدثنا عباد بن عبد الصمد في نسخة كتبناها عنه بهذا الإسناد أكثرها موضوعة‘‘. یہ احادیث ہمیں عباد بن عبد الصمد نے ایک نسخہ سے بیان کی تھیں،جسے ہم نے اسی(یعنی سابقہ ذکر کردہ) سند کے ساتھ ان سے لکھی تھیں،اس نسخہ کی اکثر روایات من گھڑت تھیں۔

حافظ عقیلی l کا کلام

حافظ عقیلی l ’’ضعفاء الکبیر‘‘[6] میں فرماتے ہیں: ’’أحاديثه مناكير، لا أعرف أكثرها إلا به‘‘.اس کی حدیثیں مناکیر ہیں، میں نے اس کی اکثر احادیث کو اسی سے پہچانا ہے ۔

حافظ ابن جوزی l کا قول

حافظ ابن جوزی l فرماتے ہیں: ’’قال البخاري: منكر الحديث، وقال الرازي: ضعيف، يروي عن أنس نسخة عامتها مناكير، وعامة ما يروي في فضائل علي، وهو غال في التشيع‘‘[7].

امام بخاری l فرماتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے، اور رازی l [یعنی امام ابو حاتم l ]نے کہا کہ یہ ضعیف ہے،یہ حضرت انس r سے ایک نسخہ نقل کرتا ہے جس میں اکثر روایتیں منکر ہیں ،اور بیشتر روایتیں حضرت علی r کے فضائل میں ہیں، اور وہ غالی شیعہ ہے۔

نوٹ:  بظاہر امام ابو حاتم lکی جانب منسوب کلام،امام ابن عدی l کا ہے،واللہ اعلم۔

حافظ ذہبی l کا کلام

حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘ [8] میں فرماتے ہیں: ’’واه‘‘. یہ واہی ہے۔

نیز حافظ ذہبیl نے عباد بن عبد الصمد کے ترجمہ میں ان کی زیرِ بحث روایت کے علاوہ ایک روایت نقل کرکےاسے ’’اِفْک بَیِّن‘‘ کھلا جھوٹ قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان الميزان‘‘ [9] میں ،اور علامہ برہان الدین حلبی l نے’’الکشف الحثیث‘‘ [10] میں حافظ ذہبی l کے قول ’’واہ‘‘ وغیرہ کونقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حوالہ جات

[2]  الكامل في ضعفاءالرجال:۵/۳۹۷،رقم:۱۱۷۴،ت:محمد أنس مصطفى،الرسالة العالمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۳۳هـ .

[3] الجرح والتعديل:۶/۸۲ ،رقم:۴۲۱،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۳۷۲هـ .

[4] تاريخ الكبير:۶ /۴۱،رقم:۱۶۲۹،ت:عبيد بن فيروز،عمير بن عبدالرحمن ،دارالكتب العلمية ـ بيروت .

[5] المجروحين:۲/۱۷۰،ت:محمودإبراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[6] ضعفاء الكبير:۳/ ۱۳۸ ،رقم:۱۱۲۱،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دارالکتب العلميةـ بيروت .

[7] الضعفاء والمتروكين:۲/ ۷۵،رقم:۱۷۷۹،ت:عبدالله قاضی،دارالکتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[8] ميزان الاعتدال:۲/۳۳۵،رقم:۳۹۲۷،ت:محمد رضوان عرقسوسي،الرسالة العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۳۰هـ .

[9] لسان الميزان:۴/۳۹۳،رقم:۴۰۸۰،ت:عبدالفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامیةـ بيروت،الطبعة ۱۴۲۳هـ .

[10] الكشف الحثيث:۱۴۴،رقم:۳۶۴،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربيةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۷هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ