اس روایت کی تحقیق سے
روایت: حضرت انس r کا تنور کی آگ سے آپ ﷺ کےرومال کے میل کچیل کو صاف کرنا،اور رومال کا نہ جلنا
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ سوم)سند میں موجودراوی ابو الحسن عبداللہ بن محمد بن مغیرہ کوفی (المتوفى ۲۱۰ھ)کے بارے میں ائمہ کا کلام
ابو حاتم l کا کلام
امام ابو حاتم l ’’الجرح والتعدیل‘‘ [11] میں فرماتے ہیں: ’’لیس بالقوي‘‘. یہ قوی نہیں ہے۔
حافظ عقیلی l کا قول
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الکبیر‘‘ [12] میں فرماتے ہیں:
’’وكان يخالف في بعض حديثه، ويحدث بما لا أصل له‘‘. یہ بعض حدیثوں میں دوسروں کی مخالفت کرتا ہے،نیز ایسی حدیثیں نقل کرتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی۔
حافظ ابن جوزی l کا کلام
حافظ ابن جوزی l نے حافظ عقیلی l، حافظ ابوحاتم l،اور حافظ ابن عدی l کے کلام کو لانے پر اکتفاء کیا ہے [13]۔
حافظ ذہبی l کا قول
’’قال أبو حاتم: ليس بقوي، قال ابن يونس: منكر الحديث، وقال ابن عدى: عامة ما يرويه لا يتابع عليه.... قال النسائي: روى عن الثوري ومالك بن مِغْوَل أحاديث، كانا أتقى الله من أن يحدثا بها‘‘[14].
’’ابو حاتم l کا کہنا ہے کہ یہ قوی نہیں ہے،ابن یونسl فرماتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہے،اور ابن عدی l فرماتے ہیں کہ اس کی عام روایتیں ایسی ہیں کہ ان کا کوئی متابع نہیں ہے ۔۔۔ امام نسائی l فرماتے ہیں کہ ثوری l اور مالک بن مِغْوَلl سے روایتیں نقل کرتا ہے ،اور ثوری اور مالک بن مِغْوَل اللہ تعالی سے ڈرنے والے تھے اس جیسی رایات بیان کرنے سے ‘‘ ۔
حافظ ذہبی l ان کے ترجمہ میں حافظ ابن عدی l کی ذکر کردہ بعض احادیث لا کر فرماتے ہیں: ’’هذه موضوعات‘‘. یہ من گھڑت ہیں۔
علامہ برہان الدین حلبی l ،حافظ ذہبی l کے اس جملہ کے بعد لکھتے ہیں:
’’فيحتمل أنه وضعها، ويحتمل غيره‘‘[15]. احتمال ہے کہ ان روایات کواس نے گھڑا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور نے گھڑا ہو۔
حافظ ذہبی l ہی ’’تاريخ الإسلام‘‘ [16] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’كوفي متروك، سكن مصر، وروى الطامات‘‘. کوفی متروک ہے،مصر میں رہتا تھا، ’’مصائب‘‘ لاتا تھا۔
حافظ ابن عراق l کا قول
حافظ ابن عراق l فرماتے ہیں: ’’روى عن الثوري ومالك بن مِغْوَل موضوعات‘‘[17]. ثوری اور مالک بن مِغْوَل کے انتساب سے موضوعات نقل کرتاہے ۔
حوالہ جات
[11] الجرح والتعديل:۵/ ۱۵۸،رقم:۷۳۲،دارالکتب العلميةـ بيروت، الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[12] الضعفاء الكبير:۲/ ۳۰۱ ،رقم:۷۷۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دارالکتب العلميةـ بيروت .
[13] الضعفاء والمتروكين:۲/۱۴۰،رقم:۲۱۱۵،ت:عبدالله قاضی،دار الکتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[14] ميزان الاعتدال:۲/ ۴۳۵،رقم:۴۳۱۴،ت:محمدرضوان عرقسوسي،الرسالة العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۳۰هـ .
[15] الكشف الحثيث:۲/ ۱۵۷،رقم:۴۰۶،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربيةـ بيروت،الطبعة ۱۴۰۷هـ .
[16] تاريخ الإسلام:۱۴/۲۱۹،رقم:۲۲۹،ت:عمر عبدالسلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة ۱۴۰۷هـ .
[17] تنزيه الشريعة:۱/ ۷۵،ت:عبد الله الغماري،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۴۰۱هـ .