التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

داؤد بن سلیمان الخُراسانی الخوّاص

ایک روایت میں تذکرہ

داؤد بن سلیمان الخُراسانی الخوّاص کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

داؤد بن سلیمان الخُراسانی الخوّاص کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[50] اور’’ المغني‘‘[51] میں فرماتےہیں: ’’قـال الأزدي: ضـعيف جـدا، خـراساني‘‘.ازدیl فرماتےہیں:خراسانی ’’ضعيف جدا ‘‘ (شدید جرح)ہے۔

حافظ ابن جوزیl’’الضعفاءوالمتروكين‘‘[52] میں فرماتے ہیں: ’’قال الأزدي:ضعيف جدا‘‘.ازدیl فرماتےہیں:خراسانی’’ضعيف جدا‘‘. (شدید جرح) ہے۔

’’تاریخ بغداد‘‘ میں حافظ خطیبl ایک دوسری روایت بطریق امام طبرانی l نقل کرکے داؤد بن سلیمان کے بارے میں امام طبرانیl کا قول نقل فرماتے ہیں: ’’تفرد به داود بن سليمان، وهو شيخ لا بأس به‘‘[53]. اس روایت میں داؤد بن سلیمان متفردہے،اور وہ’’ شيخ لا بأس به‘‘ہے۔

حافظ ابن حجرl نے ’’لسان الميزان‘‘[54]میں حافظ ذہبی l کے ذکر کردہ حافظ ازدی l کے قول پر اكتفاء کیا ہے۔

روایت بسندِ ابو سعید خدری r  میں موجود ایک دوسرے راوی خازم بن جَبَلَہ کے بارے میں اقول ملاحظہ ہوں:

حوالہ جات

[50]  ميزان الاعتدال: حرف الدال، ۲/ ۸، رقم:۲۶۰۹، ت:علی محمد البجاوی، دار المعرفة– بيروت، ط: ۱۴۰۶ هـ .

[51]  المغني في الضعفاء:۱/ ۳۱۷، رقم:۱۹۹۳، ت: نورالدین عتر، دار إحیاءالتراث العربی– بيروت، ط: ۱۹۸۷م .

[52]  الضعفاء والمتروكين:۱ /۲۶۳،رقم:۱۱۴۸، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .

[53]  تاريخ بغداد:۱۳/ ۵۲۹،رقم:۶۴۰۶،علي بن محمد بن علي الثقفي، ت: دکتور بشار عوّاد،دار الغرب الإسلامی -  بیروت،ط: ۱۴۱۲ هـ .

[54] لسان الميزان: من اسمه داود،۳/ ۳۹۸،رقم:۳۰۲۶، ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلامیة –  بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ