اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’عن عائشة قالت: بينا رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حِجري ليلة ضاحية إذ قلت: يا رسول الله! هل يكون لأحد من الحسنات عددُ نجوم السماء؟ قال: ’’ نعم عمر‘‘. قلت: فأين حسنات أبي بكر؟ قال: ’’إنما جميع حسنات عمر كحسنة واحدة من حسنات أبي بكر‘‘.
ترجمہ: حضرت عائشہ R سے روایت ہے،فرماتی ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روشن رات میں رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا، اس دوران میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا کسی شخص کی ستاروں کی تعداد کے برابر نیکیاں ہو سکتی ہیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں عمر کی ‘‘۔میں نےعرض کیا:پھر ابو بکر r کی نیکیاں کہاں گئیں؟حضور ﷺ نے فرمایا: ’’عمر کی تمام نیکیاں ابو بکر کی ساری نیکیوں میں سے ایک نیکی کے برابر ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)داؤد بن سلیمان الخُراسانی الخوّاص کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[50] اور’’ المغني‘‘[51] میں فرماتےہیں: ’’قـال الأزدي: ضـعيف جـدا، خـراساني‘‘.ازدیl فرماتےہیں:خراسانی ’’ضعيف جدا ‘‘ (شدید جرح)ہے۔
حافظ ابن جوزیl’’الضعفاءوالمتروكين‘‘[52] میں فرماتے ہیں: ’’قال الأزدي:ضعيف جدا‘‘.ازدیl فرماتےہیں:خراسانی’’ضعيف جدا‘‘. (شدید جرح) ہے۔
’’تاریخ بغداد‘‘ میں حافظ خطیبl ایک دوسری روایت بطریق امام طبرانی l نقل کرکے داؤد بن سلیمان کے بارے میں امام طبرانیl کا قول نقل فرماتے ہیں: ’’تفرد به داود بن سليمان، وهو شيخ لا بأس به‘‘[53]. اس روایت میں داؤد بن سلیمان متفردہے،اور وہ’’ شيخ لا بأس به‘‘ہے۔
حافظ ابن حجرl نے ’’لسان الميزان‘‘[54]میں حافظ ذہبی l کے ذکر کردہ حافظ ازدی l کے قول پر اكتفاء کیا ہے۔
روایت بسندِ ابو سعید خدری r میں موجود ایک دوسرے راوی خازم بن جَبَلَہ کے بارے میں اقول ملاحظہ ہوں:
حوالہ جات
[50] ميزان الاعتدال: حرف الدال، ۲/ ۸، رقم:۲۶۰۹، ت:علی محمد البجاوی، دار المعرفة– بيروت، ط: ۱۴۰۶ هـ .
[51] المغني في الضعفاء:۱/ ۳۱۷، رقم:۱۹۹۳، ت: نورالدین عتر، دار إحیاءالتراث العربی– بيروت، ط: ۱۹۸۷م .
[52] الضعفاء والمتروكين:۱ /۲۶۳،رقم:۱۱۴۸، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .
[53] تاريخ بغداد:۱۳/ ۵۲۹،رقم:۶۴۰۶،علي بن محمد بن علي الثقفي، ت: دکتور بشار عوّاد،دار الغرب الإسلامی - بیروت،ط: ۱۴۱۲ هـ .
[54] لسان الميزان: من اسمه داود،۳/ ۳۹۸،رقم:۳۰۲۶، ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلامیة – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .