اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’عن عائشة قالت: بينا رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حِجري ليلة ضاحية إذ قلت: يا رسول الله! هل يكون لأحد من الحسنات عددُ نجوم السماء؟ قال: ’’ نعم عمر‘‘. قلت: فأين حسنات أبي بكر؟ قال: ’’إنما جميع حسنات عمر كحسنة واحدة من حسنات أبي بكر‘‘.
ترجمہ: حضرت عائشہ R سے روایت ہے،فرماتی ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روشن رات میں رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا، اس دوران میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا کسی شخص کی ستاروں کی تعداد کے برابر نیکیاں ہو سکتی ہیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں عمر کی ‘‘۔میں نےعرض کیا:پھر ابو بکر r کی نیکیاں کہاں گئیں؟حضور ﷺ نے فرمایا: ’’عمر کی تمام نیکیاں ابو بکر کی ساری نیکیوں میں سے ایک نیکی کے برابر ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دوم)ابو محمدولید بن فضل عَنَزِی بغدادی پر ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[33]میں فرماتےہیں: ’’سمعت أبي يقول: هو مجهول‘‘.میں نے اپنے والد سے سنا کہ یہ ولید مجہول ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[34]میں فرماتے ہیں: ’’شيخ يروي عن عبدالله بن إدريس وأهل العراق المناكير التي لا يشك من تبحر في هذه الصناعة أنها موضوعة، لا يجوز الاحتجاج به بحال إذا انفرد ‘‘.
’’شیخ‘‘ ہے، عبداللہ بن ادریس اور اہل عراق سے مناکیر روایت کرتاتھا،صناعتِ حدیث میں مہارت رکھنے والے کو اس میں شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ تمام مناکیر من گھڑت ہیں، جب یہ کسی روایت میں متفردہو تو اس کی روایت سے احتجاج کسی حال میں جائز نہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ سند میں ولید متفرد ہے، جیسا کہ امام طبرانی l نے اس کی صراحت کی ہے۔
حافظ مقدسیl ’’معرفة التذكرة‘‘[35] میں ایک دوسری روایت: ’’إن أبا بكر وعمر من الإسلام بمنزلة السمع والبصر‘‘ کے تحت لکھتے ہیں: ’’ فيه الوليد بن الفضل، كان يضع الحديث ‘‘.اس میں ولید بن فضل ہے جو روایت گھڑتا تھا۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’کتاب الضعفاء‘‘[36]میں فرماتے ہیں: ’’الوليد بن الفضل العَنَزِي عن الكوفيين الموضوعات‘‘ .ولید بن فضل عَنَزِی کوفیین سے موضوعات نقل کرتا تھا۔
حافظ ابن جوزیl نے’’ الضعفاء والمتروكين‘‘[37] میں حافظ ابو حاتم l اور حافظ ابن حبان l کے قول پر اكتفاء کىا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’ميزان الاعتدال‘‘[38]میں ولید بن فضل کے ترجمہ میں ابن حبانl کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتےہیں: ’’ قلت: هو الذي حديثه في جزء ابن عرفة عن إسماعيل بن عبيد:أن عمر حسنة من حسنات أبى بكر. وإسماعيل هالك، والخبرباطل‘‘ .
یہ ولیدوہ شخص ہےجس کی حدیث’’جزءابن عَرَفہ‘‘میں ہے،جس میں یہ ولید، اسماعیل بن عبیدسے اس روایت کونقل کرتاہے: ’’بے شک عمر r، ابو بکر r کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہے‘‘، اسماعیل ہالک (جرح شدید) ہےاور یہ خبرباطل ہے۔
حافظ ابن حجرl نے’’ لسان المیزان‘‘[39] میں حافظ ذہبی l کا کلام نقل کرنے کے بعدسابقہ حافظ ابو حاتم l اور حافظ ابو نعیم اصبہانی l کا قول بھی نقل کیا ہے۔
حافظ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[40]کے مقدمہ میں ولید کو وضاعین میں شمارکرتے ہیں۔
حوالہ جات
[33] الجرح والتعديل:۹/ ۱۳، رقم:۵۷، دار الكتب العلمية– بيروت، الطبعة الأولى: ۱۳۷۲ هـ .
[34] المجروحين: باب الواو،۳/ ۸۲، ت: محمود إبراهيم زايد، دار المعرفة– بيروت، ط: ۱۴۱۲ هـ .
[35] معرفة التذكرة:حرف الف، ص:۱۱۹، رقم:۲۴۹، میر محمد کتب خانه– کرا چی .
[36] كتاب الضعفاء:باب الواو،ص: ١۵۷،رقم:۲۶۳، ت: فاروق حمادة، دارالثقافة – قاهره ، الطبعة الأولى: ۱۴۰۵ هـ .
[37] الضعفاء والمتروكين:۳/ ۱۸۶،رقم:۳۶۶۳، ت:عبدالله قاضی، دار الکتب العلمية – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۶ هـ .
[38] ميزان الاعتدال:حرف الواو،۴/ ۳۴۳،رقم:۹۳۹۴، ت:علی محمد البجاوی، دار المعرفة– بيروت، ط: ۱۴۰۶ هـ .
[39] لسان الميزان: من اسمه ولید،۶/ ۲۲۵،رقم:۷۹۷، ت:عبدالفتاح أبوغدة،دارالبشائرالإسلإمیة – بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۳ هـ .
[40] تنزيه الشريعة:حرف الواو، رقم:۸، ت: عبد الله بن محمد الغماري، دار الكتب العلمية– بيروت، ط:۱۴۰۱ هـ .