التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

احمد بن عبداﷲ بن خالد الجُوَیْبَاری

2 روایات میں تذکرہ

احمد بن عبداﷲ بن خالد الجُوَیْبَاری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

احمد بن عبداﷲ بن خالد الجُوَیْبَاری کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال:

ائمہ حدیث نے زیر بحث، موضوع روایت میں احمد بن عبداﷲ بن خالد الجُوَیْبَاری کو کذّاب قرار دیا ہے،جویباری کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال ’’میزان الاعتدال‘‘[7]سے ملاحظہ ہوں:

’’قال ابن عدي: کان یَضَعُ الحدیث لابن کرّام علی مایُرِیدُه ... وقال ابن حبّان: هو أبو علي الجویباري، دجّالٌ من الدَجَاجِلَة ... وقال النسائي والدَّارَقُطْنِي: کذّاب، قلتُ: الجویباري مِمَّن یُضْرَبُ المَثَلُ بکِذْ بِه ... قال البیهقي: فإنّي أعْرِفُه حقّ المعرفة بِوَضْعِ الحدیث على رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم، فقد وَضَعَ علیه أکثرَ مِنْ ألف حدیث‘‘.

ابن عَدِی l فرماتے ہیں کہ احمد جویباری، ابن کرّام [یعنی محمد بن کَرَّام بن عراق السجستانی، یہ شخص فرقۂ امامیہ کے امام ہیں،حافظ ذَہَبِی l ’’تاریخ الإسلام‘‘ ان کے بارے میں لکھتے ہیں: یہ شخص شیخ، گمراہ، اور فرقۂ مجسمہ سے تعلق رکھنے والا ہے] کےلیےاُس کی چاہت کے مطابق، روایتیں گھڑتا تھا۔۔۔ اور ابن حِبّان l رقم طراز ہیں: ابو علی، جویباری ہے، جو دجالوں میں سے بڑا دجال ہے۔۔۔ امام نسائیl اور دارَ قُطْنِی l نے جویباری کو کذّاب کہا ہے۔ میں (یعنی حافظ ذَہَبِیl) کہتا ہوں کہ جویباری ان لوگوں میں سے ہے، جن کا جھوٹ ضرب المثل ہے۔۔۔ امام بیہقی l فرماتے ہیں: میں خوب اچھی طرح اس کی معرفت رکھتا ہوں کہ جویباری رسول اللہ ﷺ پر حدیثیں گھڑتا تھا؛ کیونکہ جویباری نے آپﷺ پر ایک ہزار سے زائد حدیثیں گھڑی ہیں۔

حافظ ابن جَوزِی l ، ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[8] میں شیخ ابن حِبّان l کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ’’... ولعلّهما قد وَضَعَا علی رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم وعلی الصحابة رضی الله عنهم والتابعین  مائة ألف حدیث ...‘‘.

’’۔۔۔ شاید کہ جویباری اور محمد بن تمیم سعدی نے رسول اللہ ﷺ پر اور صحابہp وتابعینl پر ایک لاکھ حدیثیں گھڑی ہیں۔۔۔‘‘۔

حوالہ جات

[7] ميزان الاعتدال:1/106،رقم:421،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[8] الضعفاء والمتروكين:من اسمه محمد،3/95،رقم:3170،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

احمد بن عبداﷲ بن خالد الجُوَیْبَاری کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال:

جویباری کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال ’’میزان الاعتدال‘‘[12]سے ملاحظہ ہوں:

’’قال ابن عدي:کان یَضَعُ الحدیث لابن کرّام علی مایُرِیدُه ... وقال ابن حبّان: هو أبو علي الجویباري، دجّال من الدَجَاجِلَة ... وقال النسائي والدَّارَقُطْنِي: کذّاب، قلتُ: الجویباري مِمَّن یُضْرَبُ المَثَلُ بکِذْبِه ... قال البیهقي: فإنّي أعْرِفُه حقّ المعرفة بِوَضْعِ الحدیث على رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم، فقد وضع علیه أکثرَ مِنْ ألف حدیث‘‘.

ابن عَدِی l فرماتے ہیں کہ احمد جویباری، ابن کرّام [یعنی محمد بن کَرَّام بن عراق السجستانی، یہ شخص ’’فرقۂ امامیہ ‘‘کے امام ہیں، حافظ ذَہَبِی l ’’تاریخ الإسلام‘‘ میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں: یہ شخص شیخ، گمراہ، اور فرقۂ  مجسمہ سے تعلق رکھنے والاہے] کےلیے اُس کی چاہت کے مطابق، روایتیں گھڑتا تھا…اور ابن حِبّان l رقم طرازہیں:ابو علی، جویباری ہے، جودجالوں میں سے بڑا دجال ہے…امام نسائی l اور دارَقُطْنِیl نے جویباری کو کذاب کہا ہے۔میں (یعنی حافظ ذہبی l) کہتا ہوں کہ جویباری ان لوگوں میں سے ہے، جن کا جھوٹ ضرب المثل ہے… امام بیہقی lفرماتے ہیںکہ میں خوب اچھی طرح اس کی معرفت رکھتا ہوں کہ جویباری، رسول اللہ ﷺ پر حدیثیں گھڑتا تھا، کیونکہ جویباری نے آپﷺ پر ایک ہزار سے زائد حدیثیں گھڑی ہیں۔

حافظ ابن جَوزِی l ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[13] میں شیخ ابن حِبّانl کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:

’’... ولعلّهما قد وَضَعَا علی رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم وعلى الصحابة والتابعین مائة ألف حدیث...‘‘.

’’شاید کہ جویباری اور محمد بن تمیم السعدی نے رسول اللہ ﷺ پر اور صحابہp وتابعین رحمہم اللہ تعالی پر ایک لاکھ حدیثیں گھڑی ہیں۔۔۔‘‘۔

حوالہ جات

[12] ميزان الاعتدال:1/106،رقم:421،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[13] الضعفاء والمتروكين:من اسمه محمد،3/95،رقم الترجمة:3170،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة 1406هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ