اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
آپ نے قرآن کریم کے اختتام پریہ دُعا ضرور مشاہدہ کی ہوگی،جسے دعاءِ ختم قرآن یا دعاءِ ماثورہ کے عنوان سے لکھا جاتا ہے :
’’اللّهم آنس وَحْشَتِي في قَبْرِي. اللّهم ارحَمْني بالقرآن العَظِیم، واجْعَلْه لي إماماً ونُوراً وهُدىً ورَحْمَةً، اللّهم ذَکِّرْني منه ما نَسِیْتُ، وعَلِّمْنِي منه ما جَهِلْتُ، وارْزُقْنِي تِلَاوَتَه آناءَ اللیل وآناءَ النَّهار، واجْعَلْه لي حُجَّةً یا رَبَّ العَالَمِین‘‘.
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)احمد بن عبداﷲ بن خالد الجُوَیْبَاری کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال:
ائمہ حدیث نے زیر بحث، موضوع روایت میں احمد بن عبداﷲ بن خالد الجُوَیْبَاری کو کذّاب قرار دیا ہے،جویباری کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال ’’میزان الاعتدال‘‘[7]سے ملاحظہ ہوں:
’’قال ابن عدي: کان یَضَعُ الحدیث لابن کرّام علی مایُرِیدُه ... وقال ابن حبّان: هو أبو علي الجویباري، دجّالٌ من الدَجَاجِلَة ... وقال النسائي والدَّارَقُطْنِي: کذّاب، قلتُ: الجویباري مِمَّن یُضْرَبُ المَثَلُ بکِذْ بِه ... قال البیهقي: فإنّي أعْرِفُه حقّ المعرفة بِوَضْعِ الحدیث على رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم، فقد وَضَعَ علیه أکثرَ مِنْ ألف حدیث‘‘.
ابن عَدِی l فرماتے ہیں کہ احمد جویباری، ابن کرّام [یعنی محمد بن کَرَّام بن عراق السجستانی، یہ شخص فرقۂ امامیہ کے امام ہیں،حافظ ذَہَبِی l ’’تاریخ الإسلام‘‘ ان کے بارے میں لکھتے ہیں: یہ شخص شیخ، گمراہ، اور فرقۂ مجسمہ سے تعلق رکھنے والا ہے] کےلیےاُس کی چاہت کے مطابق، روایتیں گھڑتا تھا۔۔۔ اور ابن حِبّان l رقم طراز ہیں: ابو علی، جویباری ہے، جو دجالوں میں سے بڑا دجال ہے۔۔۔ امام نسائیl اور دارَ قُطْنِی l نے جویباری کو کذّاب کہا ہے۔ میں (یعنی حافظ ذَہَبِیl) کہتا ہوں کہ جویباری ان لوگوں میں سے ہے، جن کا جھوٹ ضرب المثل ہے۔۔۔ امام بیہقی l فرماتے ہیں: میں خوب اچھی طرح اس کی معرفت رکھتا ہوں کہ جویباری رسول اللہ ﷺ پر حدیثیں گھڑتا تھا؛ کیونکہ جویباری نے آپﷺ پر ایک ہزار سے زائد حدیثیں گھڑی ہیں۔
حافظ ابن جَوزِی l ، ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[8] میں شیخ ابن حِبّان l کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ’’... ولعلّهما قد وَضَعَا علی رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم وعلی الصحابة رضی الله عنهم والتابعین مائة ألف حدیث ...‘‘.
’’۔۔۔ شاید کہ جویباری اور محمد بن تمیم سعدی نے رسول اللہ ﷺ پر اور صحابہp وتابعینl پر ایک لاکھ حدیثیں گھڑی ہیں۔۔۔‘‘۔