التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عمرو بن شمِر

ایک روایت میں تذکرہ

عمرو بن شمِر کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

عمرو بن شمِر کے بارے میں ائمہ کے اقوال:

عمرو بن شمِر کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال ’’میزان الاعتدال‘‘[16] سے ملاحظہ ہوں:

’’یحیی بن مَعِین lنے عمرو بن شمِر کو ’’لیس بشيء‘‘ (کلمۂ جرح)، امام بخاریl نے ’’منکر الحدیث‘‘ (کلمۂ جرح)، جوزجانی l نے ’’زَائغ کذّاب‘‘ (کج رو، جھوٹا)، نسائی l اور دارَ قُطْنِی l نے ’’متروک الحدیث‘‘ (شدید جرح) کہا ہے، اور ابن حِبّان l فرماتے ہیں کہ یہ رافضی صحابہ p کو سبّ وشتم کرتا تھا،اور ثقہ راویوں پر حدیثیں گھڑتا تھا‘‘۔

ائمہ رجال کے اقوال سے واضح ہے کہ ’’شعب الإیمان‘‘ کی یہ روایت، ’’عمرو بن شمِر الجُعفی‘‘ کی وجہ سے ساقط الاعتبار ہے،اور ضعفِ شدید کی وجہ سے فضائل میں بھی اسے بیان نہیں کر سکتے۔

۴-علامہ تاج الدین سُبْکِی lکا قول:

علامہ تاج الدین سُبْکِی l نے ’’طبقات الشافعیة الکبرى‘‘[17] میں زیرِ بحث روایت کو امام غزالی l کے ترجمے میں اُن احایث کے تحت ذکر کیا ہے، جن کی سند علامہ تاج الدین سُبْکِیl کو نہیں ملی۔

حوالہ جات

[16] ميزان الاعتدال:3/268،رقم:6384،تحقيق:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[17]  طبقات الشافعية الكبرى:الطبقة الخامسة،3/482،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1420هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ