اس روایت کی تحقیق سے
آپ نے قرآن کریم کے اختتام پریہ دُعا ضرور مشاہدہ کی ہوگی،جسے دعاءِ ختم قرآن یا دعاءِ ماثورہ کے عنوان سے لکھا جاتا ہے :
’’اللّهم آنس وَحْشَتِي في قَبْرِي. اللّهم ارحَمْني بالقرآن العَظِیم، واجْعَلْه لي إماماً ونُوراً وهُدىً ورَحْمَةً، اللّهم ذَکِّرْني منه ما نَسِیْتُ، وعَلِّمْنِي منه ما جَهِلْتُ، وارْزُقْنِي تِلَاوَتَه آناءَ اللیل وآناءَ النَّهار، واجْعَلْه لي حُجَّةً یا رَبَّ العَالَمِین‘‘.
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)عمرو بن شمِر کے بارے میں ائمہ کے اقوال:
عمرو بن شمِر کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال ’’میزان الاعتدال‘‘[16] سے ملاحظہ ہوں:
’’یحیی بن مَعِین lنے عمرو بن شمِر کو ’’لیس بشيء‘‘ (کلمۂ جرح)، امام بخاریl نے ’’منکر الحدیث‘‘ (کلمۂ جرح)، جوزجانی l نے ’’زَائغ کذّاب‘‘ (کج رو، جھوٹا)، نسائی l اور دارَ قُطْنِی l نے ’’متروک الحدیث‘‘ (شدید جرح) کہا ہے، اور ابن حِبّان l فرماتے ہیں کہ یہ رافضی صحابہ p کو سبّ وشتم کرتا تھا،اور ثقہ راویوں پر حدیثیں گھڑتا تھا‘‘۔
ائمہ رجال کے اقوال سے واضح ہے کہ ’’شعب الإیمان‘‘ کی یہ روایت، ’’عمرو بن شمِر الجُعفی‘‘ کی وجہ سے ساقط الاعتبار ہے،اور ضعفِ شدید کی وجہ سے فضائل میں بھی اسے بیان نہیں کر سکتے۔
۴-علامہ تاج الدین سُبْکِی lکا قول:
علامہ تاج الدین سُبْکِی l نے ’’طبقات الشافعیة الکبرى‘‘[17] میں زیرِ بحث روایت کو امام غزالی l کے ترجمے میں اُن احایث کے تحت ذکر کیا ہے، جن کی سند علامہ تاج الدین سُبْکِیl کو نہیں ملی۔