اس روایت کی تحقیق سے
روا یت : ’’ لرد دانق من حرام يعدل عند الله سبعين ألف حجة‘‘. حرام کا ایک دانق لو ٹا نا اللہ تعا لی کے ہاں ستر ہزار مقبو ل حج کے برابر ہے ۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی ابو یعقوب اسحاق بن وہب بن عبداللہ طُہرْمُسِی مصری (المتوفى ۲۵۹ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن یونسl فرماتے ہیں: ’’روى عن ابن وهب أحاديث، كان ابن وهب أتقى لله من أن يحدث بها، وأحسبه وهم فيها، لأنه لم يكن من أصحاب الحديث، وكان يحدث حفظا‘‘[19].اسحاق نے ابن وہب کے انتساب سے روایات نقل کی ہیں، اور ابن وہب ان احادیث کو بیان کرنے سے اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ اسحاق بن وہب کو ان احادیث میں وہم ہوگیا ہے، کیونکہ وہ اصحاب حدیث میں سے نہیں تھا۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[20] میں فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث صراحا، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه‘‘.وہ کھلم کھلا حدیث گھڑتا تھا، اس کا ذکر کرنا کتب میں حلال نہیں ہے سوائے اس پر جرح کو بیان کرنے کےلئے۔
اس کے بعد حافظ ابن حبانl نے زیر بحث روایت ذکر کی ہے۔
حافظ ابن قیسرانیl نے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[21] میں حافظ ابن حبانl کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
حا فظ ابن عد یl’’الكامل‘‘[22] میں فر ما تے ہیں : ’’روى عن ابن وهب بأحاديث مناكير، وما أظنه رآه‘‘. یہ ابن وہب کے انتساب سے منکر احادیث روایت کرتا ہے، اور میرا خیال نہیں ہے کہ اس نے ابن وہب کو دیکھا ہے۔
امام دارقطنیl فرماتے ہیں: ’’ كذاب، متروك، يحدث بالأباطيل عن عبد الله بن وهب وغيره‘‘[23] . یہ کذاب، متروک ہے، عبد اللہ بن وہب اور دیگر کے انتساب سے باطل احادیث روایت کرتا ہے۔
حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[24] میں امام دار قطنی l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’الضعفاء‘‘[25] میں اسحاق بن وہب طُہرْمُسِی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’الراوي عن ابن وهب، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر: (لرد دانق حرام...)، لا شيء‘‘.یہ راوی ابن وہب ، عن مالک، عن نافع، عن ابن عمر q کی سند سے روایت ’’لرد دانق حرام‘‘نقل کرتا ہے ، یہ لا شیء ہے۔
حافظ ابو عبداللہ حاکمl ’’ المدخل‘‘[26] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’روى عن عبد الله بن وهب أحاديث موضوعة‘‘.اس نے عبداللہ بن وہب کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں۔
حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[27] میں اسے ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[19] انظر لسان الميزان:2/83 ،رقم:1081،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[20] المجروحين:1/139،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[21] تذكرة الحفاظ:ص:270،رقم:670،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[22] الكامل:1/560،رقم:176،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[23] الضعفاء والمتروكون:ص:147،رقم:101،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1404هـ .
[24] الضعفاءوالمتروکین:۱/۱۰۵،رقم:۳۳۷،ت:أبو الفداء عبدالله القاضی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[25] الضعفاء:ص:61،رقم:17،ت:فاروق حماة،مطبعة النجاح الجديدة.
[26] المدخل إلى الصحيح:ص:119،رقم:13،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[27] ديوان الضعفاء:ص:۲۹،رقم:۳۵،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة .