التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو العباس احمد بن محمد بن صلت بن مغلس حمانی ویقال احمد بن صلت او احمد بن محمد بن مغلس او احمد بن عطیہ

المتوفی308ھایک روایت میں تذکرہ

ابو العباس احمد بن محمد بن صلت بن مغلس حمانی ویقال احمد بن صلت او احمد بن محمد بن مغلس او احمد بن عطیہ کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو العباس احمد بن محمد بن صلت بن مغلس حمانی (المتوفی308ھ) ویقال احمد بن صلت او احمد بن محمد بن مغلس او احمد بن عطیہ کے بارے میں ائمہ رجال  کا کلام

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’من أهل بغداد، يروي عن العراقيين، كان يضع الحديث عليهم‘‘.یہ بغداد والوں میں سے ہے، عراقیوں سے روایت کرتا ہے، یہ ان پر حدیث گھڑتا ہے۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[37] میں فرماتے ہیں: ’’رأيته في سنة سبع وتسعين ومئتين يحدث عن ثابت الزاهد، وعبد الصمد بن النعمان وغيرهما من قدماء الشيوخ قوما قد ماتوا قبل أن يولد بدهر ... وما رأيت في الكذابين أقل حياء منه، وكان ينزل عند أصحاب الكتب يحمل من عندهم رزما فيحدث بما فيها، وباسم من كتب الكتاب باسمه، فيحدث عن الرجل الذي اسمه في الكتاب، ولا يبالي ذلك الرجل متى مات، ولعله قد مات قبل أن يولد منهم من ذكرت‘‘.

میں نے ۲۹۷ھ میں اسے دیکھا تھا، یہ ثابت زاہد، عبد الصمد بن نعمان وغیرہ ایسے قدیم شیوخ کے انتساب سے روایت کرتا تھا جو اس کی پیدائش سے ایک زمانہ قبل ہی انتقال کرچکے تھے۔۔۔، اور میں نے جھوٹ بولنے والوں میں اس سے کم حیاء والا کسی کو نہیں دیکھا، یہ کتب والوں کے پاس ٹھہرتا تھا، ان کے پاس سے کتابوں کی گٹھڑیاں لے کر ان میں موجود احادیث بیان کرتا تھا، یہ شخص جس کا نام کتاب میں لکھا ہوتا تھا اسی سے نقل کرکے حدیث بیان کردیتا تھا، اور اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ اس کا انتقال کب ہوا ہے، شاید ان کا انتقال اس کی پیدائش سے بھی پہلے ہو چکا ہوتا تھا، جن میں بعض کا ذکر میں کرچکا ہوں۔ 

حافظ دارقطنیl ’’ الضعفاء‘‘[38] میں فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث‘‘. حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ دارقطنیl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’متروك، يضع الحديث‘‘[39] . متروک ہے، حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ ابو عبداللہ حاکمl ’’ المدخل‘‘[40]میں فرماتے ہیں: ’’من أهل العراق روى عن القعنبي، ومسدد، وإسماعيل بن أبي أويس، وبشر بن الوليد أحاديث وضعها، وقد وضع المتون أيضا مع كذبه في لقي هؤلاء حدثونا عنه ببعضها‘‘. عراق والوں میں سے ہے، اس نے قعنبی، مسدد، اسماعیل بن ابی ادریس اور بشر بن ولید کے انتساب سے ایسی احادیث روایت کی ہیں جنہیں اسی نے گھڑا ہے، اور اس نے متون گھڑنے کے ساتھ ساتھ یہ جھوٹ بھی کہا ہے کہ وہ ان لوگوں سے ملا ہے جن کی بعض احادیث محدثین نے ہمیں اس سے روایت کر کے بیان کی ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصبہانیl ’’المسند المستخرج‘‘[41] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن ابن أبي أويس، والقعنبي، وعن شيوخ لم يلقهم بالمشاهير والمناكير، لا شيء، مات بعد الثلاثمائة‘‘.اس نے ابن ابی اویس، قعنبی، اور  دیگر ایسے شیوخ کے انتساب سے مشہور اور منکر روایات نقل کی ہیں جن سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی، یہ لاشئ ہے، اس کا انتقال تین سو کے بعد ہوا ہے۔  

حافظ ابو بکر برقانیl فرماتے ہیں: ’’وقال لي محمد بن أبي الفوارس: هو ابن أخي جبارة بن مغلس كان يضع‘‘[42]. مجھے محمد بن ابی الفوارس نے کہا کہ یہ جبارہ بن مغلس کا بھتیجا ہے، یہ حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ خطیب بغدادیl ’’تاريخ بغداد‘‘[43] میں فرماتے ہیں: ’’وحدث عن ثابت بن محمد الزاهد، وأبي نعيم الفضل بن دكين، ومسلم بن إبراهيم، وبشر بن الوليد، ومحمد بن عبد الله بن نمير، وجبارة بن مغلس، وأبي بكر بن أبي شيبة، وأبي عبيد القاسم بن سلام أحاديث، أكثرها باطلة، هو وضعها‘‘.اور یہ ثابت بن محمد زاہد، ابو نعیم فضل بن دکین، مسلم بن ابراہیم، بشر بن ولید، محمد بن عبد اللہ بن نمیر، جبارہ بن مغلس، ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو عبید قاسم بن سلام کے انتساب سے احادیث روایت کرتا ہے، جن میں اکثر باطل ہیں، جنہیں اسی نے گھڑا ہے۔

حافظ ابن جوزیl نے ’’المنتظم‘‘[44] میں حافظ خطیب بغدادیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl ’’تذكرة الحفاظ‘‘[45] میں فرماتے ہیں: ’’وأحمد هذا يضع الحديث على الثقات‘‘. اور یہ احمد ثقات کے انتساب سے حدیث گھڑتا ہے۔

حافظ ابو الحسین عبدالباقی بن قانعl نے اسے ’’ ليس بثقة‘‘[46] کہا ہے۔

حافظ ابن عبد الہادی l نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[47] میں احمد بن محمد بن صلت کو ’’ كذاب، وضاع‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl  نے اسے ’’ميزان‘‘[48] میں ایک مقام پر ’’هالك‘‘ اور دوسرے مقام پر ’’ كذاب، وضاع‘‘[49]  کہا ہے، اور ’’المغني‘‘[50] میں فرماتے ہیں:’’ كان يضع الحديث‘‘. یہ حدیث گھڑتا تھا۔

حافظ ابن کثیر ’’البداية‘‘[51] میں فرماتے ہیں: ’’ أحد الوضاعين للأحاديث‘‘. یہ احادیث گھڑنے والوں میں سے ایک ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl نے ’’الإصابة‘‘[52] میں ابن صلت کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[53] میں احمد بن محمد بن صلت کو ’’وضاع‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[36] المجروحين:1/153،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[37] الكامل في ضعفاء:1/328،الرقم:44،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۹۲هـ .

[38] الضعفاءوالمتروكون:ص:124،رقم:59،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الریاض،الطبعة ۱۴۰۴هـ .

[39] سؤالات الحاكم للدارقطني:ص:96، رقم:34،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .

[40] المدخل إلى الصحيح:ص:121،رقم:19،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[41] المسند المستخرج:1/60،رقم:31،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل الشافعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[42] تاريخ بغداد:5/342،رقم:2166،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[43] تاريخ بغداد:5/338،رقم:2166،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[44] المنتظم:۱3/195،رقم:2167،ت:محمد عبد القادر عطا ومصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .

[45] تذكرة الحفاظ:ص:288،رقم:718،ت:حمدي بن عبد المجيد بن اسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى1415هـ . 

[46] انظر تاريخ بغداد:5/342،رقم:2166،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .

[47] تنقيح التحقيق:2/5۲۶،ت:سامي بن محمد بن جاد الله،دار أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴28هـ .

[48] ميزان الاعتدال:۱/۱۰5،رقم:۴10،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[49] ميزان الاعتدال:۱/140،رقم:۴10،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[50] المغني:1/55،رقم:426،ت:نور الدین عتر،دار إحیاء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة۱۹۸۷م .

[51] البداية والنهاية:14/816،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1419هـ .

[52] الإصابة:4/572،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .

[53] تنزيه الشريعة:1/33،رقم:198،ت:عبد الوهاب وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ