التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو مہدی سعید بن سنان حنفی حمصی

المتوفی ۱۶۸ھ2 روایات میں تذکرہ

ابو مہدی سعید بن سنان حنفی حمصی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو مہدی سعید بن سنان حنفی حمصی (المتوفی ۱۶۸ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ دحیم l نے سعید بن سنان کو ’’ليس بشيء‘‘کہا ہے[6] ۔

حافظ یحیی بن معین l نے سعید بن سنان کے بارے میں ’’ليس بشيء‘‘[7]، ’’ليس بثقة‘‘[8] اور ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[9]۔

امام علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’لا أعرفه‘‘[10]. میں سعید کو نہیں جانتا۔

امام احمد بن حنبل l نے سعید بن سنان کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[11]۔

امام احمد بن حنبل l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’عيسى بن إبراهيم وسعيد بن سنان، ليسا بشيء‘‘[12]. عیسی بن ابراہیم اور سعید بن سنان دونوں ’’لیس بشیء‘‘ ہیں۔

حافظ احمد بن صالح مصری l سعید بن سنان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، ما أعرف من حديثه إلا حديثين أو ثلاثة‘‘[13]. منکر الحدیث ہے، مجھے اس کی احادیث میں سے صرف دو یا تین احادیث ہی کی معرفت ہے۔

امام بخاری l ’’التاريخ الصغير‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’صاحب مناكير‘‘. یہ مناکیر والا ہے۔

امام بخاری l نے ایک دوسرے مقام پر سعید بن سنان کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[15]۔

امام بخاری l ہی نے ’’التاريخ الكبير‘‘[16] اور ’’الضعفاء‘‘[17] میں سعید بن سنان کو’’منكر الحديث‘‘  کہا ہے۔

حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[18]  میں فرماتے ہیں: ’’أحاديثه أخاف أن تكون موضوعة، لا تشبه أحاديث الناس، كان أبو اليمان يثني عليه في فضله وعبادته، قال كنا نستمطر به، فنظرت في حديثه فإذا أحاديثه معضلة، فأخبرت أبا اليمان بذلك، فقال: أما إن يحيى بن معين لم يكتب منها شيئا، فلما رجعت إلى العراق ذكرت أبا المهدي ليحيى بن معين، وقلت ما منعك يا أبا زكريا أن تكتبها، قال: من يكتب تلك الأحاديث؟ من أين وقع عليها؟ لعلك كتبت منها يا أبا إسحاق! قلت: كتبت منها شيئا يسيرا لأعتبر به، قال: تلك لا يعتبر بها، هي بواطيل‘‘.

اس کی احادیث کے بارے میں مجھے من گھڑت ہونے کا خدشہ ہے، اس کی  احادیث لوگوں کی احادیث کی طرح نہیں ہیں، اس کے فضل اور عبادت کی وجہ سے ابو الیمان اس کی تعریف کیا کرتے تھے، فرماتے ہیں کہ ہم ان کے وسیلہ سے بارش مانگا کرتے تھے، (حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب بن ابراہیم جوزجانی l فرماتے ہیں) پھر جب میں نے اس کی احادیث دیکھیں  تو اس کی احادیث معضل نکلیں، میں نے اس کی خبر ابو الیمان کو دی، انہوں نے فرمایا: یحیی بن معین l نے ان میں سے کوئی ایک حدیث بھی نہیں لکھی، (حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l فرماتے ہیں) جب میں عراق لوٹ آیا، تو میں نے یحیی بن معین l سے ابو مہدی کا ذکر کیا اور کہا: اے ابو زکریا! ان احادیث کے لکھنے سے آپ کو کس چیز نے روکا؟ یحیی بن معین l نے کہا: ان احادیث کو کون لکھے، اسے یہ احادیث کہاں سے حاصل ہوئیں؟ اے ابو اسحاق! شاید آپ نے وہ احادیث لکھی ہیں؟ میں نے کہا: میں نے ان میں سے تھوڑی سی احادیث لکھی ہیں، تا کہ میں ان کا ’’اعتبار‘‘ کرسکوں، یحیی بن معین l نے کہا: ان کا ’’اعتبار‘‘نہیں ہوسکتا، یہ باطل ہیں۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[19] میں فرماتے ہیں:’’منكر الحديث، لا يعجبني الاحتجاج بخبره إذا انفرد‘‘. منکر الحدیث ہے، جب یہ متفرد ہو تو مجھے اس کی خبر سے احتجاج کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔

حافظ ابن حبان l چند سطروں کے بعد زیر بحث روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ثناه الحسن بن سفيان، ثنا صفوان بن صالح، ثنا الوليد[ كذا في الأصل، والصحيح: سعيد]، أبو مهدي في نسخة، كتبناها عنه بهذا الإسناد، أكثرها مقلوبة، لا يحل ذكرها في الكتب إلا على سبيل القدح في ناقليها [ كذا في الأصل]‘‘. ہمیں یہ حدیث حسن بن سفیان نے صفوان بن صالح، عن سعید ابو مہدی کے طریق سے ایک ایسے نسخہ میں بیان کی ہے جس کو ہم نے حسن بن سفیان سے اسی سند سے لکھا ہے، اس نسخہ کا اکثر حصہ مقلوب ہے، کتابوں میں اس کا ذکر صرف اس کے ناقل پر بطور قدح کے حلال ہے۔

امام مسلم l نے ’’الكنى والأسماء‘‘[20] میں سعید بن سنان کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں: ’’سألت أبا زرعة عن سعيد بن سنان أبى مهدى، فأومأ بيده [أنه] ضعيف‘‘[21]. میں نے ابو زرعہ l سے سعید بن سنان ابو مہدی کے بارے میں پوچھا تو ابو زرعہ l نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ سعید بن سنان ضعیف ہے۔

حافظ ابو حاتم رازی l فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث، منكر الحديث، يروي عن أبي الزاهرية، عن كثير بن مرة، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحو من ثلاثين حديثا أحاديث منكرة‘‘[22]. سعید بن سنان ضعیف الحدیث، منکر الحدیث ہے، یہ ابی الزاہریہ، عن کثیر بن مرۃ، عن ابن عمر، عن النبی ﷺ کے طریق سے تقریبا تیس منکر احادیث روایت کرتا ہے۔

حافظ ابو بکر ابن ابی خیثمہl فرماتے ہیں: ’’أخبرني أبو محمد صاحب لي من بني تميم، ثقة، قال: قال: أبو مسهر: نا صدقة بن خالد قال: حدثني أبو مهدي سعيد بن سنان مؤذن أهل حمص، وكان ثقة مرضيا ‘‘[23]. مجھے بنو تمیم کے میرے ایک ثقہ ساتھی ابو محمد نے بتایا: کہتے ہیں: ابو مسہر کا کہنا ہے: صدقہ بن خالد نے ہمیں حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: مجھے ابو مہدی سعید بن سنان نے حدیث بیان کی ہے، اور  وہ ثقہ، پسندیدہ شخص ہے۔

حافظ ابو بکر بزار l نے سعید بن سنان کو’’سيء الحفظ‘‘[24] کہا ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[25] میں سعید بن سنان کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’لا يكتب حديثه‘‘[26]. اس کی حدیث کو نہیں لکھا جائے گا۔

حافظ زکریا ساجی l نے سعید بن سنان کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[27]۔

حافظ ابو القاسم عبد اللہ بن احمد بلخی l ’’قبول الأخبار‘‘[28] میں فرماتے ہیں: ’’وسعيد بن سنان أبو المهدى ليس بذاك، يكثر الرواية عن أبى الزاهرية، عن كثير بن مرة، عن ابن عمر، عن النبى صلى الله عليه وسلم بالمناكير‘‘. سعید بن سنان ’’لیس بذاک‘‘ہے، یہ ابو الزاہریہ، عن کثیر بن مرہ، عن ابن عمر، عن النبی ﷺ کے طریق سے کثرت سے مناکیر روایت کرتا ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[29] میں سعید بن سنان کی چند روایات ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ولأبي مهدي سعيد بن سنان هذا غير ما ذكرت من الأحاديث، وعامة ما يرويه وخاصة عن أبي الزاهرية غير محفوظة، ولو قلنا: إنه هو الذي يرويه، عن أبي الزاهرية لا غيره، جاز ذلك لي، وكان من صالحي أهل الشام وأفضلهم، إلا أن في بعض رواياته ما فيه‘‘. اور اس ابو مہدی سعید بن سنان کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی اکثر روایات غیر محفوظ ہیں، خصوصاً وہ روایات جو ابو الزاہریہ سے مروی ہیں، اور اگر ہم یہ کہیں کہ ان روایات کو ابو الزاہریہ سے صرف سعید بن سنان ہی نقل کرتا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور نقل نہیں کرتا، تو یہ کہنا میرے لئے جائز ہوگا، اور سعید شام کے نیک اور افضل لوگوں میں سے تھا، البتہ اس کی بعض روایات میں کچھ ہے۔

حافظ ابو احمد حاکم lفرماتے ہیں: ’’حديثه ليس بالقائم‘‘[30]. اس کی حدیث ’’لیس بالقائم‘‘ہے۔

حافظ دار قطنی l نے ’’المؤتلف والمختلف‘‘[31] میں سعید بن سنان کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

علامہ عبد الرحمن سلمی l کہتے ہیں: ’’وسألته عن سعيد بنِ سنان؟ فقال: هما اثنان: سعيد بن سنان أبو مهدي حمصي، يضع الحديث...‘‘[32]. ’’میں نے دار قطنی l سے سعید بن سنان کے بارے میں پوچھا، تو دار قطنی l نے فرمایا: یہ دو ہیں، (ایک) سعید بن سنان ابو مہدی حمصی ہے، یہ حدیث گھڑتا ہے۔۔۔‘‘۔

حافط ابن جارود l نے اسے ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[33]۔

حافظ ابو یوسف بن یعقوب بن سفیان فسوی l نے ’’المعرفة والتاريخ‘‘[34] میں سعید بن سنان کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو نعیم l ’’المسند المستخرج‘‘[35] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن أبي الزاهرية بالمناكير‘‘. سعید بن سنان ابو الزاہریہ سے مناکیر روایت کرتا ہے۔

امام بیہقی l ’’شعب الإيمان‘‘[36] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وأبو المهدي سعيد بن سنان ضعيف عند أهل العلم‘‘. اور ابو مہدی سعید بن سنان اہل علم کے ہاں ضعیف ہے۔

حافظ عبد الحق اشبیلی l ’’الأحكام الوسطى‘‘[37] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’أبو المهدي كان رجلا صالحا، من صالحي أهل الشام، ولكن حديثه ضعيف، ولا يحتج به‘‘. ابو مہدی نیک شخص تھا، شام کے نیک لوگوں میں سے تھا، لیکن اس کی حدیث ضعیف ہے، اور اس سے احتجاج نہیں کیا جائےگا۔

حافظ ابن جوزی l ’’الموضوعات‘‘[38] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وفيه كذابان، أحدهما أبومهدي‘‘. یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں، اور اس میں دوجھوٹے ہیں، ایک ان میں سے ابو مہدی ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[39] میں سعید بن سنان کے ترجمہ میں زیر بحث روایت کے علاوہ سعید بن سنان کی دیگر چند روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولأبي مهدي أحاديث كثيرة، وهو بين الضعف‘‘. ابو مہدی کی بہت سی احادیث ہیں، اور اس کا ضعف واضح ہے۔

 نیز حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[40] میں دو مقامات پر مختلف روایات کے تحت سعید بن سنان کو ’’متروك‘‘، ’’الكاشف‘‘[41] میں ’’زاهد، ضعيف الحديث‘‘، ’’ديوان الضعفاء‘‘[42] میں ’’هالك‘‘، ’’المغني‘‘[43] میں ’’متروك، متهم‘‘ اور ’’تلخيص المستدرك‘‘ میں ’’متهم، ساقط‘‘[44] اور ’’متهم تالف‘‘[45] کہا ہے۔

حافظ علائی l ، سعید بن سنان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’سعيد بن سنان ضعيف جدا، بل متروك‘‘[46]. سعید بن سنان شدید ضعیف ہے، بلکہ متروک ہے۔

حافظ ہیثمی l ’’مجمع‘‘[47] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفيه أبو مهدي سعيد بن سنان، وهو ضعيف، متروك، قال صدقة بن خالد: حدثني أبو مهدي سعيد بن سنان مؤذن أهل حمص، وكان ثقة مرضيا، ولا يصح إسناد هذه الحكاية‘‘. اس روایت میں ابو مہدی سعید بن سنان ہے، اور وہ ضعیف، متروک ہے، اور صدقہ بن خالد فرماتے ہیں: مجھے حمص والے مؤذن ابو مہدی سعید بن سنان نے حدیث بیان کی، اور وہ ثقہ، پسندیدہ شخص ہے، (حافظ ہیثمی l فرماتے ہیں) اور اس حکایت کی اسناد صحیح نہیں ہے۔

نیز حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع‘‘[48] میں ایک روایت کے تحت ابو مہدی سعید بن سنان کو ’’ ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

علامہ سبط ابن العجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[49] میں سعید بن سنان کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’له ترجمة في الميزان، ولم يذكر فيها أنه وضع، ولكن ذكر عن الجوزجاني أنه قال: أخاف أن تكون أحاديثه موضوعة، وقد ذكر الحاكم في المستدرك حديثا في كتاب الفتن والملاحم قبل آخره نحو كراسة من القطع الكبير، رواه عن أبي الزاهرية، قال الحاكم فيه: صحيح، قال الذهبي عقيبه: بل سعيد متهم به، انتهى‘‘. سعید بن سنان کا ترجمہ ’’میزان‘‘میں موجود ہے، لیکن اس میں یہ مذکور نہیں کہ اس نے حدیث گھڑی ہے، تاہم جوزجانی l کے انتساب سے ذکر کیا گیا ہے کہ جوزجانی l فرماتے ہیں: مجھے سعید بن سنان کی احادیث کے من گھڑت ہونے کا خدشہ ہے، اور حاکم l نے ’’مستدرک‘‘ میں ’’ کتاب الفتن والملاحم‘‘ میں اس کے آخر سے پہلے ایک بڑے حصے کے چھوٹے جزء کے بقدر حدیث ذکر کی ہےجسے انہوں نے ابو الزاہریہ سے روایت کیا ہے، حاکم l اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ صحیح ہے، اس کے متصل بعد ذہبی l فرماتے ہیں: بلکہ سعید اس حدیث میں متہم ہے، انتہی۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’التقريب‘‘[50] میں سعید بن سنان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، ورماه الدارقطني وغيره بالوضع‘‘. یہ متروک ہے، دار قطنی l وغیرہ نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

علامہ ابن عراق l’’تنزيه الشريعة‘‘[51] میں سعید بن سنان کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال يحيى: أحاديثه بواطيل، وقال الجوزجاني: أخاف أن تكون أحاديثه موضوعة‘‘. یحیی l فرماتے ہیں کہ اس کی احادیث باطل ہیں، اور جوزجانی l فرماتے ہیں: مجھے اس کی احادیث کے من گھڑت ہونے کا اندیشہ ہے۔

حوالہ جات

[6] الجرح والتعدیل:4/28،رقم:114،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[7] سؤالات ابن الجنيد:ص:396،رقم:512،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ . وكذا في تاريخ ابن معين برواية الدارمي:ص:118،رقم:366،ت:أحمد محمد نور،درا المامون للتراث ـ بيروت .

[8] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/325،رقم:5078،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[9] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[10] تهذيب التهذيب:4/47،رقم:74،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[11] الكامل في ضعفاء الرجال:4/399،رقم:801،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[12] العلل ومعرفة الرجال:ص:117،رقم:271،ت:صبحي البدري السامرايئ،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة  الأولى 1409هـ .

[13] تهذيب التهذيب:4/47،رقم:74،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[14] التاريخ الصغير:2/۱71،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[15] انظر الكامل في ضعفاء الرجال:4/400،رقم:801 ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[16] التاريخ الكبير:3/393،رقم:1598،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[17] الضعفاء الصغير:ص:52،رقم:135،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[18] أحوال الرجال:ص:۲۸۹،رقم:306،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .

[19] المجروحين:1/322،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[20] الكنى والأسماء:ص:۸۲۹،رقم:۳۳۴۹،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعةالإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ  .

[21] الجرح والتعديل:4/28،رقم:114،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[22] الجرح والتعديل:4/28،رقم:114،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[23] الجرح والتعديل:4/28،رقم:114،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[24] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/31۰،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[25] الضعفاء والمتروكين:ص:189،رقم:268،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[26] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[27] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[28] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/242،رقم:447،ت:أبو عمرو الحسيني بن عمر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .

[29] الكامل في ضعفاء الرجال:4/40۳،رقم:801،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[30] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[31] المؤتلف والمختلف:ص:1212،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت، الطبعة الأولى۱۴06هـ .

[32] سؤالات السلمي للدارقطني:ص:181،رقم:155،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبد الرحمن الجريسى،مكتبة الملك فهد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .

[33] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[34] المعرفة والتاريخ:2/449،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[35] المسند المستخرج:1/66،رقم:81،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل الشافعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[36] شعب الإيمان:9/47۶،رقم:6984،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .

[37] الأحكام الوسطى:3/116،ت:حمدي السلفي صبيحي السامرئي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة1416هـ .

[38] كتاب الموضوعات:3/189،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 138۸هـ .

[39] ميزان الاعتدال:۲/145،رقم:3208،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .                                   

[40] تلخيص الموضوعات:ص:292،رقم:795،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .وكذا في ص:323،رقم:872،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[41] الكاشف:۱/438،رقم:1905،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .

[42] ديوان الضعفاء:ص:160،رقم:1619،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثةـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[43] المغني في الضعفاء:1/406،رقم:2411،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

[44]تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:4/508،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي، دار المعرفة ـ بيروت  .

[45]تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:4/511،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي، دار المعرفة ـ بيروت  .

[46] انظر فيض القدير:2/509،رقم:2413 ،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .

[47] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:8/155،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[48] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۲/۱۸۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[49] الكشف الحثيث:ص:124،رقم:306،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[50] تقريب التهذيب:ص:237،رقم:2333،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .

[51] تنزيه الشريعة:1/63،رقم:14،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف  وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

سند میں موجود راوی ابو مہدی سعید بن سنان حنفی حمصی (المتوفی ۱۶۸ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام

حافظ دحیم l نے سعید بن سنان کو ’’ليس بشيء‘‘کہا ہے[8] ۔

حافظ یحیی بن معین l نے سعید بن سنان کے بارے میں ’’ليس بشيء‘‘[9]، ’’ليس بثقة‘‘[10] اور ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[11]۔

امام علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’لا أعرفه‘‘[12]. میں سعید کو نہیں جانتا۔

امام احمد بن حنبل l نے سعید بن سنان کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[13]۔

امام احمد بن حنبل l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’عيسى بن إبراهيم وسعيد بن سنان، ليسا بشيء‘‘[14]. عیسی بن ابراہیم اور سعید بن سنان دونوں ’’لیس بشیء‘‘ ہیں۔

حافظ احمد بن صالح مصری l سعید بن سنان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، ما أعرف من حديثه إلا حديثين أو ثلاثة‘‘[15]. منکر الحدیث ہے، مجھے اس کی احادیث میں سے صرف دو یا تین احادیث ہی کی معرفت ہے۔

امام بخاری l ’’التاريخ الصغير‘‘[16] میں فرماتے ہیں: ’’صاحب مناكير‘‘. یہ مناکیر والا ہے۔

امام بخاری l نے ایک دوسرے مقام پر سعید بن سنان کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[17]۔

امام بخاری l ہی نے ’’التاريخ الكبير‘‘[18] اور ’’الضعفاء‘‘[19] میں سعید بن سنان کو’’منكر الحديث‘‘  کہا ہے۔

حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[20]  میں فرماتے ہیں: ’’أحاديثه أخاف أن تكون موضوعة، لا تشبه أحاديث الناس، كان أبو اليمان يثني عليه في فضله وعبادته، قال كنا نستمطر به، فنظرت في حديثه فإذا أحاديثه معضلة، فأخبرت أبا اليمان بذلك، فقال: أما إن يحيى بن معين لم يكتب منها شيئا، فلما رجعت إلى العراق ذكرت أبا المهدي ليحيى بن معين، وقلت ما منعك يا أبا زكريا أن تكتبها، قال: من يكتب تلك الأحاديث؟ من أين وقع عليها؟ لعلك كتبت منها يا أبا إسحاق! قلت: كتبت منها شيئا يسيرا لأعتبر به، قال: تلك لا يعتبر بها، هي بواطيل‘‘.

اس کی احادیث کے بارے میں مجھے من گھڑت ہونے کا خدشہ ہے، اس کی  احادیث لوگوں کی احادیث کی طرح نہیں ہیں، اس کے فضل اور عبادت کی وجہ سے ابو الیمان اس کی تعریف کیا کرتے تھے، فرماتے ہیں کہ ہم ان کے وسیلہ سے بارش مانگا کرتے تھے، (حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب بن ابراہیم جوزجانی l فرماتے ہیں) پھر جب میں نے اس کی احادیث دیکھیں  تو اس کی احادیث معضل نکلیں، میں نے اس کی خبر ابو الیمان کو دی، انہوں نے فرمایا: یحیی بن معین l نے ان میں سے کوئی ایک حدیث بھی نہیں لکھی، (حافظ ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l فرماتے ہیں) جب میں عراق لوٹ آیا، تو میں نے یحیی بن معین l سے ابو مہدی کا ذکر کیا اور کہا: اے ابو زکریا! ان احادیث کے لکھنے سے آپ کو کس چیز نے روکا؟ یحیی بن معین l نے کہا: ان احادیث کو کون لکھے، اسے یہ احادیث کہاں سے حاصل ہوئیں؟ اے ابو اسحاق! شاید آپ نے وہ احادیث لکھی ہیں؟ میں نے کہا: میں نے ان میں سے تھوڑی سی احادیث لکھی ہیں، تا کہ میں ان کا ’’اعتبار‘‘ کرسکوں، یحیی بن معین l نے کہا: ان کا ’’اعتبار‘‘نہیں ہوسکتا، یہ باطل ہیں۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[21] میں فرماتے ہیں:’’منكر الحديث، لا يعجبني الاحتجاج بخبره إذا انفرد‘‘. منکر الحدیث ہے، جب یہ متفرد ہو تو مجھے اس کی خبر سے احتجاج کرنا پسندیدہ نہیں ہے۔

حافظ ابن حبان l چند سطروں کے بعد زیر بحث روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ثناه الحسن بن سفيان، ثنا صفوان بن صالح، ثنا الوليد[ كذا في الأصل، والصحيح: سعيد]، أبو مهدي في نسخة، كتبناها عنه بهذا الإسناد، أكثرها مقلوبة، لا يحل ذكرها في الكتب إلا على سبيل القدح في ناقليها [ كذا في الأصل]‘‘. ہمیں یہ حدیث حسن بن سفیان نے صفوان بن صالح، عن سعید ابو مہدی کے طریق سے ایک ایسے نسخہ میں بیان کی ہے جس کو ہم نے حسن بن سفیان سے اسی سند سے لکھا ہے، اس نسخہ کا اکثر حصہ مقلوب ہے، کتابوں میں اس کا ذکر صرف اس کے ناقل پر بطور قدح کے حلال ہے۔

امام مسلم l نے ’’الكنى والأسماء‘‘[22] میں سعید بن سنان کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن ابی حاتم l فرماتے ہیں: ’’سألت أبا زرعة عن سعيد بن سنان أبى مهدى، فأومأ بيده [أنه] ضعيف‘‘[23]. میں نے ابو زرعہ l سے سعید بن سنان ابو مہدی کے بارے میں پوچھا تو ابو زرعہ l نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ سعید بن سنان ضعیف ہے۔

حافظ ابو حاتم رازی l فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث، منكر الحديث، يروي عن أبي الزاهرية، عن كثير بن مرة، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحو من ثلاثين حديثا أحاديث منكرة‘‘[24]. سعید بن سنان ضعیف الحدیث، منکر الحدیث ہے، یہ ابی الزاہریہ، عن کثیر بن مرۃ، عن ابن عمر، عن النبی ﷺ کے طریق سے تقریبا تیس منکر احادیث روایت کرتا ہے۔

حافظ ابو بکر ابن ابی خیثمہ l فرماتے ہیں: ’’أخبرني أبو محمد صاحب لي من بني تميم، ثقة، قال: قال: أبو مسهر: نا صدقة بن خالد قال: حدثني أبو مهدي سعيد بن سنان مؤذن أهل حمص، وكان ثقة مرضيا ‘‘[25]. مجھے بنو تمیم کے میرے ایک ثقہ ساتھی ابو محمد نے بتایا: کہتے ہیں: ابو مسہر کا کہنا ہے: صدقہ بن خالد نے ہمیں حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: مجھے ابو مہدی سعید بن سنان نے حدیث بیان کی ہے، اور  وہ ثقہ، پسندیدہ شخص ہے۔

حافظ ابو بکر بزار l نے سعید بن سنان کو’’سيء الحفظ‘‘[26] کہا ہے۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[27] میں سعید بن سنان کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

امام نسائی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’لا يكتب حديثه‘‘[28]. اس کی حدیث کو نہیں لکھا جائے گا۔

حافظ زکریا ساجی l نے سعید بن سنان کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے[29]۔

حافظ ابو القاسم عبد اللہ بن احمد بلخی l ’’قبول الأخبار‘‘[30] میں فرماتے ہیں: ’’وسعيد بن سنان أبو المهدى ليس بذاك، يكثر الرواية عن أبى الزاهرية، عن كثير بن مرة، عن ابن عمر، عن النبى صلى الله عليه وسلم بالمناكير‘‘. سعید بن سنان ’’لیس بذاک‘‘ہے، یہ ابو الزاہریہ، عن کثیر بن مرہ، عن ابن عمر، عن النبی ﷺ کے طریق سے کثرت سے مناکیر روایت کرتا ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[31] میں سعید بن سنان کی چند روایات ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ولأبي مهدي سعيد بن سنان هذا غير ما ذكرت من الأحاديث، وعامة ما يرويه وخاصة عن أبي الزاهرية غير محفوظة، ولو قلنا: إنه هو الذي يرويه، عن أبي الزاهرية لا غيره، جاز ذلك لي، وكان من صالحي أهل الشام وأفضلهم، إلا أن في بعض رواياته ما فيه‘‘. اور اس ابو مہدی سعید بن سنان کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور اس کی اکثر روایات غیر محفوظ ہیں، خصوصاً وہ روایات جو ابو الزاہریہ سے مروی ہیں، اور اگر ہم یہ کہیں کہ ان روایات کو ابو الزاہریہ سے صرف سعید بن سنان ہی نقل کرتا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور نقل نہیں کرتا، تو یہ کہنا میرے لئے جائز ہوگا، اور سعید شام کے نیک اور افضل لوگوں میں سے تھا، البتہ اس کی بعض روایات میں کچھ ہے۔

حافظ ابو احمد حاکم lفرماتے ہیں: ’’حديثه ليس بالقائم‘‘[32]. اس کی حدیث ’’لیس بالقائم‘‘ہے۔

حافظ دار قطنی l نے ’’المؤتلف والمختلف‘‘[33] میں سعید بن سنان کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔

علامہ عبد الرحمن سلمی l کہتے ہیں: ’’وسألته عن سعيد بنِ سنان؟ فقال: هما اثنان: سعيد بن سنان أبو مهدي حمصي، يضع الحديث...‘‘[34]. ’’میں نے دار قطنی l سے سعید بن سنان کے بارے میں پوچھا، تو دار قطنی l نے فرمایا: یہ دو ہیں، (ایک) سعید بن سنان ابو مہدی حمصی ہے، یہ حدیث گھڑتا ہے۔۔۔‘‘۔

حافط ابن جارود l نے اسے ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[35]۔

حافظ ابو یوسف بن یعقوب بن سفیان فسوی l نے ’’المعرفة والتاريخ‘‘[36] میں سعید بن سنان کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو نعیم l ’’المسند المستخرج‘‘[37] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن أبي الزاهرية بالمناكير‘‘. سعید بن سنان ابو الزاہریہ سے مناکیر روایت کرتا ہے۔

امام بیہقی l ’’شعب الإيمان‘‘[38] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وأبو المهدي سعيد بن سنان ضعيف عند أهل العلم‘‘. اور ابو مہدی سعید بن سنان اہل علم کے ہاں ضعیف ہے۔

حافظ عبد الحق اشبیلی l ’’الأحكام الوسطى‘‘[39] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’أبو المهدي كان رجلا صالحا، من صالحي أهل الشام، ولكن حديثه ضعيف، ولا يحتج به‘‘. ابو مہدی نیک شخص تھا، شام کے نیک لوگوں میں سے تھا، لیکن اس کی حدیث ضعیف ہے، اور اس سے احتجاج نہیں کیا جائےگا۔

حافظ ابن جوزی l ’’الموضوعات‘‘[40] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وفيه كذابان، أحدهما أبومهدي‘‘. یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں، اور اس میں دوجھوٹے ہیں، ایک ان میں سے ابو مہدی ہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[41] میں سعید بن سنان کے ترجمہ میں زیر بحث روایت کے علاوہ سعید بن سنان کی دیگر چند روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولأبي مهدي أحاديث كثيرة، وهو بين الضعف‘‘. ابو مہدی کی بہت سی احادیث ہیں، اور اس کا ضعف واضح ہے۔

 نیز حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[42] میں دو مقامات پر مختلف روایات کے تحت سعید بن سنان کو ’’متروك‘‘، ’’الكاشف‘‘[43] میں ’’زاهد، ضعيف الحديث‘‘، ’’ديوان الضعفاء‘‘[44] میں ’’هالك‘‘، ’’المغني‘‘[45] میں ’’متروك، متهم‘‘ اور ’’تلخيص المستدرك‘‘ میں ’’متهم، ساقط‘‘[46] اور ’’متهم تالف‘‘[47] کہا ہے۔

حافظ علائی l ، سعید بن سنان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’سعيد بن سنان ضعيف جدا، بل متروك‘‘[48]. سعید بن سنان شدید ضعیف ہے، بلکہ متروک ہے۔

حافظ ہیثمی l ’’مجمع‘‘[49] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفيه أبو مهدي سعيد بن سنان، وهو ضعيف، متروك، قال صدقة بن خالد: حدثني أبو مهدي سعيد بن سنان مؤذن أهل حمص، وكان ثقة مرضيا، ولا يصح إسناد هذه الحكاية‘‘. اس روایت میں ابو مہدی سعید بن سنان ہے، اور وہ ضعیف، متروک ہے، اور صدقہ بن خالد فرماتے ہیں: مجھے حمص والے مؤذن ابو مہدی سعید بن سنان نے حدیث بیان کی، اور وہ ثقہ، پسندیدہ شخص ہے، (حافظ ہیثمی l فرماتے ہیں) اور اس حکایت کی اسناد صحیح نہیں ہے۔

نیز حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع‘‘[50] میں ایک روایت کے تحت ابو مہدی سعید بن سنان کو ’’ ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔

علامہ سبط ابن العجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[51] میں سعید بن سنان کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’له ترجمة في الميزان، ولم يذكر فيها أنه وضع، ولكن ذكر عن الجوزجاني أنه قال: أخاف أن تكون أحاديثه موضوعة، وقد ذكر الحاكم في المستدرك حديثا في كتاب الفتن والملاحم قبل آخره نحو كراسة من القطع الكبير، رواه عن أبي الزاهرية، قال الحاكم فيه: صحيح، قال الذهبي عقيبه: بل سعيد متهم به، انتهى‘‘. سعید بن سنان کا ترجمہ ’’میزان‘‘میں موجود ہے، لیکن اس میں یہ مذکور نہیں کہ اس نے حدیث گھڑی ہے، تاہم جوزجانی l کے انتساب سے ذکر کیا گیا ہے کہ جوزجانی l فرماتے ہیں: مجھے سعید بن سنان کی احادیث کے من گھڑت ہونے کا خدشہ ہے، اور حاکم l نے ’’مستدرک‘‘ میں ’’ کتاب الفتن والملاحم‘‘ میں اس کے آخر سے پہلے ایک بڑے حصے کے چھوٹے جزء کے بقدر حدیث ذکر کی ہےجسے انہوں نے ابو الزاہریہ سے روایت کیا ہے، حاکم l اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ صحیح ہے، اس کے متصل بعد ذہبی l فرماتے ہیں: بلکہ سعید اس حدیث میں متہم ہے، انتہی۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’التقريب‘‘[52] میں سعید بن سنان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك، ورماه الدارقطني وغيره بالوضع‘‘. یہ متروک ہے، دار قطنی l وغیرہ نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔

علامہ ابن عراق l’’تنزيه الشريعة‘‘[53] میں سعید بن سنان کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال يحيى: أحاديثه بواطيل، وقال الجوزجاني: أخاف أن تكون أحاديثه موضوعة‘‘. یحیی l فرماتے ہیں کہ اس کی احادیث باطل ہیں، اور جوزجانی l فرماتے ہیں: مجھے اس کی احادیث کے من گھڑت ہونے کا اندیشہ ہے۔

حوالہ جات

[8] الجرح والتعدیل:4/28،رقم:114،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[9] سؤالات ابن الجنيد:ص:396،رقم:512،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ . وكذا في تاريخ ابن معين برواية الدارمي:ص:118،رقم:366،ت:أحمد محمد نور،درا المامون للتراث ـ بيروت .

[10] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:2/325،رقم:5078،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[11] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[12] تهذيب التهذيب:4/47،رقم:74،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[13] الكامل في ضعفاء الرجال:4/399،رقم:801،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[14] العلل ومعرفة الرجال:ص:117،رقم:271،ت:صبحي البدري السامرايئ،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة  الأولى 1409هـ .

[15] تهذيب التهذيب:4/47،رقم:74،دائرة المعارف النظامية ـ الهند،الطبعة الأولى1325هـ .

[16] التاريخ الصغير:2/۱71،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[17] انظر الكامل في ضعفاء الرجال:4/400،رقم:801 ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[18] التاريخ الكبير:3/393،رقم:1598،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[19] الضعفاء الصغير:ص:52،رقم:135،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[20] أحوال الرجال:ص:۲۸۹،رقم:306،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان، الطبعة الأولى1411هـ .

[21] المجروحين:1/322،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[22] الكنى والأسماء:ص:۸۲۹،رقم:۳۳۴۹،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعةالإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ  .

[23] الجرح والتعديل:4/28،رقم:114،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[24] الجرح والتعديل:4/28،رقم:114،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[25] الجرح والتعديل:4/28،رقم:114،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[26] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/31۰،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[27] الضعفاء والمتروكين:ص:189،رقم:268،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[28] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[29] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[30] قبول الأخبار ومعرفة الرجال:2/242،رقم:447،ت:أبو عمرو الحسيني بن عمر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1421هـ .

[31] الكامل في ضعفاء الرجال:4/40۳،رقم:801،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلی محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[32] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[33] المؤتلف والمختلف:ص:1212،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت، الطبعة الأولى۱۴06هـ .

[34] سؤالات السلمي للدارقطني:ص:181،رقم:155،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبد الرحمن الجريسى،مكتبة الملك فهد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .

[35] انظر إكمال تهذيب الكمال:5/311،رقم:1988،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[36] المعرفة والتاريخ:2/449،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[37] المسند المستخرج:1/66،رقم:81،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل الشافعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[38] شعب الإيمان:9/47۶،رقم:6984،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .

[39] الأحكام الوسطى:3/116،ت:حمدي السلفي صبيحي السامرئي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة1416هـ .

[40] كتاب الموضوعات:3/189،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المكتبة السلفية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 138۸هـ .

[41] ميزان الاعتدال:۲/145،رقم:3208،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .                                   

[42] تلخيص الموضوعات:ص:292،رقم:795،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .وكذا في ص:323،رقم:872،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[43] الكاشف:۱/438،رقم:1905،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .

[44] ديوان الضعفاء:ص:160،رقم:1619،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثةـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[45] المغني في الضعفاء:1/406،رقم:2411،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .

[46]تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:4/508،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي، دار المعرفة ـ بيروت  .

[47]تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:4/511،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي، دار المعرفة ـ بيروت  .

[48] انظر فيض القدير:2/509،رقم:2413 ،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الثانية1391هـ .

[49] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:8/155،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[50] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۲/۱۸۹،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ  بيروت .

[51] الكشف الحثيث:ص:124،رقم:306،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .

[52] تقريب التهذيب:ص:237،رقم:2333،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .

[53] تنزيه الشريعة:1/63،رقم:14،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف  وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ