اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’ قالوا: ما لنا منها؟ قال: بكل شعرة حسنة، قالوا: يا رسول الله! فالصوف؟ قال: بكل شعرة من الصوف حسنة‘‘. صحابہ رضی اللہ عنہمنے عرض کیا: ہمارے لئے اس قربانی میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہمنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اون کے بدلہ میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی ابو معاذ عائذ اللہ مجاشعی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[39] اور ’’الضعفاء‘‘[40] میں عائذ اللہ مجاشعی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں: ’’عن أبي داود، روى عنه سلام بن مسكين، لا يصح حديثه‘‘. یہ ابو داؤد سے روایت کرتا ہے، اس سے سلام بن مسکین روایت کرتا ہے، اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’الكاشف‘‘[41] میں امام بخاریl کے کلام کو نقل کیا ہے۔
حافظ ساجی l فرماتے ہیں: ’’ لا يصح حديثه‘‘[42] . اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔
حافظ ابو حاتمl نے اسے ’’ منكر الحديث ‘‘ کہا ہے[43]۔
حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[44] میں فرماتے ہیں: ’’عائذ الله المجاشعي: عن أبي داود، لا يعرف إلا به، حدثني آدم بن موسى، قال: سمعت البخاري قال: عائذ الله المجاشعي، عن أبي داود، روى عنه سلام بن مسكين، لا يصح حديثه، وهذا الحديث حدثناه محمد بن إسماعيل ...‘‘. ’’عائذ اللہ مجاشعی یہ ابو داؤد سے روایت کرتا ہے، یہ صرف اسی سے معروف ہے، مجھے آدم بن موسی نے بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے بخاری l کو فرماتے ہوئے سنا: ’’عائذ اللہ مجاشعی یہ ابو داؤد سے روایت کرتا ہے، اس سے سلام بن مسکین نے روایت کی ہے، اس کی حدیث صحیح نہیں ہے‘‘، (حافظ عقیلی l فرماتے ہیں) اور یہ حدیث ہمیں محمد بن اسماعیل نے بیان کی ہے۔۔۔‘‘[45]۔
پھر حافظ عقیلی l نے مذکور ابو جعفر محمد بن اسماعیل بن سالم سے زیر بحث روایت تخریج کی ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[46] میں فر ماتے ہیں: ’’يروي عن أبي داود، أحسبه نفيع، روى عنه سلام بن مسكين، منكر الحديث على قلته، لا يجوز تعديله إلا بعد السبر، ولو كان ممن يروي المناكير ووافق الثقات في الأخبار لكان عدلا مقبول الرواية، إذ الناس أحوالهم على الصلاح والعدالة، حتى يتبين منهم ما يوجب القدح، فيجرح بما ظهر منه من الجرح، هذا حكم المشاهير من الرواة، وأما المجاهيل الذين لم يرو عنهم إلا الضعفاء، فهم متروكون على الأحوال كلها‘‘.
یہ ابو داؤد سے روایت کرتا ہے، میرا گمان یہ ہے کہ ابو داؤد کا نام نفیع ہے، عائذ اللہ سے سلام بن مسکین روایت کرتا ہے، قلت روایت کے باوجود یہ منکر الحدیث ہے، اس کی تعدیل کرنا جائز نہیں ہے مگر سبر (اعتبار) کے بعد، اگر یہ اُن لوگوں میں سے ہو جو مناکیر روایت کرتے ہیں اور اخبار میں ثقات کی موافقت کرتے ہیں تو یہ عادل، مقبول الروایہ ہوگا، اس لئے کہ لوگوں کے احوال صلاح اور عدالت پر ہیں، یہاں تک کہ اگر اِن میں ایسی چیز ظاہر ہوجائے جو جرح کا موجب ہو، چنانچہ اس سے ظاہر ہونے والے امر جرح کی وجہ سے اس کی جرح کی جائے گی، یہ حکم اُن راویوں کے اعتبار سے ہے جو مشاہیر ہیں، البتہ ایسے مجاہیل جن سے صرف ضعفاء ہی روایت کرتے ہیں وہ تمام احوال میں متروک ہی ہوں گے۔
نیز حافظ ابن حبانl نے عائذ اللہ مجاشعی کو ’’الثقات‘‘[47]میں بھی ذکر کیا ہے۔
حافظ ذہبیl نے ’’المغني‘‘[48] میں حافظ ابو حاتمl کے قول کو نقل کیا ہے۔
حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[49] میں عائذ اللہ مجاشعی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’عن أبي داود، روى عنه سلام بن مسكين، لا يصح حديثه‘‘.یہ ابو داؤد سے روایت کرتا ہے، اس سے سلام بن مسکین روایت کرتا ہے، اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔
اس کے بعد حافظ ابن عدی l نے سابقہ امام بخاری l کا قول نقل کرکے زیر بحث روایت تخریج کی ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[50] میں عائذ اللہ مجاشعی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’عن أبي داود نفيع، قال أبو حاتم: منكر الحديث، وعنه سلام بن مسكين، حديثه في الأضحية: وأن بكل شعرة حسنة، وقال البخاري: لا يصح حديثه‘‘. یہ ابو داؤد نفیع سے روایت کرتا ہے، ابو حاتم l فرماتے ہیں: یہ منکر الحدیث ہے، اور اس سے سلام بن مسکین روایت کرتا ہے، اور اس عائذ اللہ مجاشعی کی قربانی کے باب میں ایک حدیث ہے: ’’ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے‘‘، بخاری l کا کہنا ہے کہ اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔
حافظ ابن حجرعسقلانیl نے ’’تقريب التهذيب‘‘[51] میں عائذ اللہ مجاشعی کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[39] التاریخ الکبیر:۶/۳۹۲،رقم:۹۷۱۴،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[40] الضعفاء للبخاري:ص:96،رقم:289،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[41] الكاشف:۱/5۲۸،رقم:2553،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة۱۴۱۳هـ .
[42] انظر إكمال تهذيب الكمال:7/159،رقم:2678،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[43] الجرح والتعديل:7/38،رقم:201،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى1372هـ .
[44] الضعفاء الكبير:۳/۴۱۹،رقم:۱۴۶۰،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[45] حافظ عقیلیl کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’عائذ الله المجاشعي: عن أبي داود، لا يعرف إلا به، حدثني آدم بن موسى، قال: سمعت البخاري قال: عائذ الله المجاشعي، عن أبي داود، روى عنه سلام بن مسكين، لا يصح حديثه، وهذا الحديث حدثناه محمد بن إسماعيل، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا سلام بن مسكين، عن عائذ الله المجاشعي، عن أبي داود، عن زيد بن أرقم، قالوا: يا رسول الله! هذا الأضحى ما هو؟ قال: سنة أبيكم إبراهيم، قالوا: فما لنا فيه؟ قال: بكل شعرة حسنة، قالوا: فالصوف؟ قال: بكل شعرة من الصوف‘‘.
[46] المجروحين:2/192،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[47] الثقات:5/277،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة۱۳۹۳هـ .
[48] المغني في الضعفاء:۱/۵۱۳،رقم:۳۰۲۴،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[49] الكامل في الضعفاء:7/63،رقم:1515،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[50] ميزان الاعتدال:۲/۳۶۴،رقم:۴۱۰۳،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[51] تقريب التهذيب:ص:289،رقم:3116،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .