التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی ہمدانی کوفی سبیعی دارمی

المتوفی مابین 1۰۰ – 1۱0ھایک روایت میں تذکرہ

ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی ہمدانی کوفی سبیعی دارمی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی ہمدانی کوفی سبیعی دارمی (المتوفی مابین 1۰۰ – 1۱0ھ[52])کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ یحیی بن معین l نے ابو داؤد نفیع کو ’’ ليس بشيء ‘‘[53] کہا ہے۔

حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ولم يكن أبو داود ثقة‘‘[54]. ابو داؤد ثقہ نہیں تھا۔

حافظ یحیی بن معینl نے ایک مقام پر اسے ’’ليس بثقة ولا مأمون‘‘ کہا ہے[55]۔

امام بخاریl ’’التاريخ الكبير‘‘[56] ، ’’التاريخ الصغير‘‘[57] میں نفیع بن حارث ابو داؤد اعمی کا ترجمہ قائم کرکے فرماتے ہیں:  ’’يتكلمون فيه‘‘. محدثین اس کے بارے میں کلام کرتے ہیں۔

نیز امام بخاریl ’’الضعفاء‘‘[58] میں فرماتے ہیں:  ’’يتكلمون فيه، قال ابن مهدي: يعرف وينكر‘‘. محدثین اس کے بارے میں کلام کرتے ہیں، ابن مہدی l نے فرمایا: یہ معروف ومنکر روایات لاتا ہے۔

حافظ جوز جانی l ’’أحوال الرجال‘‘[59]میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب، تناول قوما من الصحابة فرشق‘‘. یہ کذاب ہے، صحابہ p کی ایک جماعت کے بارے میں کلام کرتا تھا، چنانچہ اس پر جرح کی گئی ہے۔

حافظ ہمام بن یحیی عوذی l فرماتے ہیں: ’’قدم علينا أبو داود الأعمى، فجعل يقول: حدثنا البراء، قال: وحدثنا زيد بن أرقم، فذكرنا ذلك لقتادة، فقال: كذب، ما سمع منهم، إنما كان ذلك سائلا يتكفف الناس زمن طاعون الجارف‘‘[60]. ہمارے پاس ابو داؤد آیا تھا، اور کہنے لگا: ہمیں براء بن عازب r نے حدیث بیان کی، اور ہمیں زید بن ارقم r نے حدیث بیان کی، ہم نے یہ بات قتادہ l سے ذکر کی، تو قتادہl نے فرمایا: اس نے جھوٹ بولا ہے، اس نے ان سے کچھ نہیں سنا، یہ تباہ کن طاعون کے زمانے میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر مانگتا تھا۔

امام احمد بن حنبلl نے ’’العلل ومعرفة الرجال‘‘[61] میں اپنی متصل سند سے قتادہ بن دعامہ l کا یہی قول نقل کیا ہے۔

حافظ ہمام بن یحیی عوذی l مزید فرماتے ہیں: ’’دخل أبو داود الأعمى على قتادة، فلما قام، قالوا: إن هذا يزعم أنه لقي ثمانية عشر بدريا، فقال قتادة: هذا كان سائلا قبل الجارف، لا يعرض في شيء من هذا، ولا يتكلم فيه، فوالله! ما حدثنا الحسن عن بدري مشافهة، ولا حدثنا سعيد بن المسيب عن بدري مشافهة، إلا عن سعد بن مالك‘‘[62]. ابو داؤد اعمی، قتادہl کے پاس آیا، جب وہ چلا گیا، تو لوگ کہنے لگے کہ اس کا کہنا ہے کہ اس نے اٹھارہ بدری صحابہ p سے ملاقات کی ہے، قتادہ l نے کہا: یہ تباہ کن طاعون کے زمانے سے پہلے لوگوں سے مانگتا تھا، اس کی اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں تھی، اور اس نے اس بارے میں کوئی بات بھی نہیں کی، اللہ کی قسم! حسن l نے ہمیں کسی بدری صحابی r سے بالمشافہہ حدیث بیان نہیں کی، اور نہ ہی سعید بن مسیب l نے کسی بدری صحابی r سے بالمشافہہ حدیث بیان کی، سوائے سعد بن مالک l کے۔

امام نووی l ’’المنهاج‘‘[63] میں ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی کے بارے میں ’’صحیح مسلم‘‘ کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’المراد بهذا الكلام إبطال قول أبي داود الأعمى هذا، وزعمه أنه لقي ثمانية عشر بدريا، فقال قتادة: الحسن البصري، وسعيد بن المسيب أكبر من أبي داود الأعمى، وأجل وأقدم سنا، وأكثر اعتناء بالحديث، وملازمة أهله، والاجتهاد في الأخذ عن الصحابة، ومع هذا كله ما حدثنا واحد منهما عن بدري واحد، فكيف يزعم أبو داود الأعمى أنه لقي ثمانية عشر بدريا؟ هذا بهتان عظيم‘‘. اس کلام سے مراد ابو داؤد اعمی کے قول کے بطلان کو بتانا ہے، اور اس بات کو باطل کہنا مراد ہے کہ اس کا کہنا یہ ہے کہ اس نے اٹھارہ بدری صحابہ p سے ملاقات کی ہے، چنانچہ قتادہ l  فرماتے ہیں: حسن بصری l اور سعید بن مسیب l ، ابو داؤد اعمی سے بڑے ہیں، اور عمر میں بھی بڑے اور مقدم ہیں، اور ان کی حدیث کی جانب توجہ زیادہ ہے، اور ان کی محدثین سے ملازمت زیادہ ہے، نیز صحابہ p سے حصول کی جستجو بھی بڑھ کر ہے، اس سب کے باوجود ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی کسی بدری صحابی r سے ہمیں کچھ بیان نہیں کیا، تو ابو داؤد اعمی یہ کیسے گمان کرتا ہے کہ وہ اٹھارہ بدری صحابہ p سے ملا ہے؟ یہ بہت بڑا بہتان ہے۔

امام نووی l ’’المنهاج‘‘[64] میں ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متفق على ضعفه‘‘. اس کے ضعف پر اتفاق ہے۔

حافظ عمرو بن علی فلاس l نے ابو داؤد اعمی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[65]۔

حافظ عمرو بن علی فلاس l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:  ’’ كان يحيى وعبد الرحمن لا يحدثان عن نفيع أبي داود،,سمعت عبد الرحمن يقول: عن سفيان، عن إسماعيل، عن رجل، عن أنس، فقال له رجل: هذا أبو داود؟ قال: لم يسمه‘‘[66]. یحییl اور عبد الرحمنl ، نفیع ابو داؤد کے انتساب سے حدیث بیان نہیں کرتے تھے، میں نے عبد الرحمنl کو سفیان، عن اسماعیل، عن رجل، عن انس r کے طریق سے روایت کرتے سنا تو ایک شخص نے کہا کہ یہ رجل ابو داؤد ہے؟ فلاس l نے کہا: عبد الرحمن l نے ان کا نام ذکر نہیں کیا۔

حافظ ابو محمد طلق بن غنام l فرماتے ہیں: ’’قال لى شريك: جلست إلى أبي داود الأعمى، فجعل يقول: سمعت ابن عمر، وسمعت ابن عباس، وسمعت أبا سعيد، وسمعت أنس بن مالك، وجلست إليه مجلسا آخر: فجعل حديث ذا لذا، وحديث ذا لذا، ولو شئت أن يقول: سمعت عبد الله بن مسعود، لقاله‘‘[67]. مجھ سے شریک نے کہا: میں ابو داؤد اعمی کے پاس بیٹھا، تو وہ کہنے لگا: میں نے ابن عمر q سے سنا، اور میں نے ابن عباس q سے سنا، اور میں نے ابو سعید r سے سنا، اور میں نے انس بن مالک r سے سنا، شریک فرماتے ہیں: میں اس کے ساتھ ایک دوسری مجلس میں بیٹھا تھا، تو ابو داؤد اعمی نے مجلس میں  اِس کی حدیث اُس کی بنا دی، اُس کی حدیث اِس کی بنا دی، اور اگر میں چاہتا کہ وہ یہ کہہ دے کہ میں نے عبد اللہ بن مسعود q کو فرماتے سنا، تو وہ یہ کہہ دیتا۔

حافظ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مقدمی قاضی l ’’ كتاب التاريخ‘‘[68] میں ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف، منكر الحديث‘‘. ضعیف، منکر الحدیث ہے۔

حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، ضعيف الحديث‘‘[69]. یہ منکر الحدیث، ضعیف الحدیث ہے۔

حافظ ابو زرعہl نے اسے ’’لم يكن بشيء‘‘ کہا ہے[70]۔

امام نسائی l نے نفیع بن حارث کو ’’ متروك الحديث‘‘ کہا ہے[71]۔

حافظ ساجی l فرماتے ہیں: ’’ كان منكر الحديث، يكذب‘‘[72] . یہ منکر الحدیث ہے، جھوٹ بولتا ہے۔

حافظ ابو بشر دولابی l نے اسے ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[73]۔

حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[74] میں نفیع بن حارث کے بارے میں فرماتے ہیں:  ’’ممن يغلو في الرفض‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو رفض میں غلو کرنے والے ہیں۔

حافظ ابن حبانl نے نفیع بن حارث کو ’’الثقات‘‘[75] میں ذکر کیا ہے۔

نیز حافظ ابن حبانl ہی اسے ’’المجروحین‘‘[76]میں ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي عن الثقات الأشياء الموضوعات توهما، لا يجوز الاحتجاج به ولا الرواية عنه إلا على جهة الاعتبار‘‘. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو بطور توہم ثقہ راویوں کے انتساب سے من گھڑت اشیاء نقل کرتے ہیں، اس سے احتجاج جائز نہیں ہے، اور اس سے روایت کرنا بھی جائز نہیں ہے مگر اعتبار کے طور پر۔

چند سطر آگے چل کر پھر حافظ ابن حبان l نے زیر بحث روایت ان الفاظ سے تخریج کی ہے:

’’وهو الذي روى عن زيد بن أرقم قال: قالوا: يا رسول الله! ما هذه الأضاحي؟...‘‘. ’’یہ وہی شخص ہے جس نے زید بن ارقم r سے روایت کی ہے، زید بن ارقم r فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کے جانور کیا ہیں؟۔۔۔‘‘[77]۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[78] میں ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی کے ترجمہ میں چند احادیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولنفيع هذا أحاديث سوى ما ذكرت، وهو في جملة الغالين بالكوفة‘‘. اور اس نفیع کی میری ذکر کردہ روایات کے علاوہ بھی روایات ہیں، اور یہ کوفہ کے غالی لوگوں میں سے تھا۔

امام دار قطنیl ’’العلل الواردة‘‘[79]  میں فرماتے ہیں: ’’وأبو داود هذا: هو نفيع بن الحارث الأعمى، وكان ضعيفا، رماه قتادة بالكذب‘‘. اور یہ ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی ہے، اور یہ ضعیف ہے، قتادہ l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[80] میں فرماتے ہیں:  ’’روى عن بريدة الأسلمي وأنس بن مالك أحاديث موضوعة‘‘. یہ بریدہ اسلمی r اور انس بن مالک r کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[81] میں ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن أنس والبراء وزيد بن أرقم وبريدة أحاديث منكرة، روى عن [ كذا في الأصل، والصحيح: عنه] إسماعيل بن أبي خالد، والعلاء المسيب، وأبان بن تغلب، لاشيء‘‘. انس r ، براءr ، زید بن ارقم r اور بریدہ r کے انتساب سے منکر احادیث روایت کرتا ہے، اس سے اسماعیل بن ابی خالد، علاء بن مسیب اور ابان بن تغلب نے روایت کیا ہے، یہ لا شیء ہے۔

حافظ ابن عبد البر l ’’الاستغناء‘‘[82] میں فرماتے ہیں: ’’واتفق أهل العلم بالحديث على نكارة حديثه وضعفه، وكذبه بعضهم، وأجمعوا على ترك الرواية عنه، وليس عندهم بشيء‘‘. محدثین اہل علم کا اس کی حدیث کی نکارت اور ضعف پر اتفاق ہے، اور بعض نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور اس کی روایت کے ترک پر اجماع کیا ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک لیس بشیء ہے۔

حافظ ابن قیسرانیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[83] میں ایک روایت کے تحت نفیع بن حارث کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔

علامہ محمد بن عبد الرحمن بن علی نميری l ’’الإعلام‘‘[84] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘. محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔

حافظ مزی l ’’تحفة الأشراف‘‘[85] میں ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أحد الضعفاء المتروكين‘‘. ضعیف، متروک راویوں میں سے ایک ہے۔

حافظ ذہبیl ’’الكاشف‘‘[86] میں ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تركوه، وكان يترفض‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے، اور یہ رافضی تھا۔

نیز حافظ ذہبیl ’’ المغني‘‘[87] میں فرماتے ہیں: ’’هالك، تركوه‘‘. ہالک ہے، محدثین نے اسے ترک کر دیا ہے۔

حافظ علائی l ’’جامع التحصيل‘‘[88] میں فرماتے ہیں: ’’ قال أحمد بن حنبل: أبو داود الأعمى يقول: سمعت العبادلة ابن عمر، وابن عباس، وابن الزبير، ولم يسمع شيئا، قلت: ليس هذا إرسالا، بل نفيع هذا كذاب، متروك، وإنما ذكرته تبعا لابن أبي حاتم، والضياء‘‘. احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ابو داؤد اعمی کہتا ہے کہ میں نے عبادلہ: ابن عمر q ، ابن عباس q اور ابن زبیر q سے سنا ہے، حالانکہ اس نے ان سے کچھ نہیں سنا، میں (حافظ علائی l) کہتا ہوں: یہ ارسال نہیں ہے، بلکہ یہ نفیع کذاب، متروک ہے، اور میں نے اسے ابن ابی حاتم l اور ضیاء l کی اتباع میں ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن کثیرl ’’البداية والنهاية‘‘[89] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وأبو داود هذا هو نفيع بن الحارث الأعمى أحد المتروكين الضعفاء‘‘. ابو داؤد یہ نفیع بن حارث اعمی ہے، جو متروک، ضعفاء راویوں میں سے ایک ہے۔

نیز حافظ ابن کثیرl نے اپنی ’’تفسیر‘‘[90]  میں ایک روایت کے تحت ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی کو ’’ کذاب‘‘ کہا ہے۔

حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘میں مختلف احادیث کے تحت ابو داؤد اعمی کو ’’ضعيف جدا‘‘[91]، ’’متروك‘‘[92] اور ’’ کذاب‘‘[93] کہا ہے۔

حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l  نے ’’جامع الآثار‘‘[94] میں ایک روایت کے تحت نفیع بن حارث اعمی کو ’’أحد المتروكين‘‘ کہا ہے۔

حافظ بدر الدین عینی l ’’مغاني الأخيار‘‘[95] میں فرماتے ہیں: ’’ كوفي، متروك، كذبه ابن معين‘‘. کوفی ہے، متروک ہے، ابن معین l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’التقريب‘‘[96] میں فرماتے ہیں: ’’متروك، وقد كذبه ابن معين‘‘. متروک ہے، اور ابن معین l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’إتحاف المهرة‘‘[97] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهو متروك، متهم بالوضع، لكن ابن حبان خالف ذلك، فذكره في الثقات، والحق عندي أنه غيره، فقد ذكره البخاري فقال: إنه كوفي، لم يصح حديثه. فما أدري كيف خفي هذا على ابن حبان؟‘‘. یہ متروک، متہم بالوضع ہے، لیکن ابن حبان lنے اس میں مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے ’’ثقات‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور میرے نزدیک حق یہ ہے کہ وہ اس کے علاوہ ہے، کیونکہ بخاری l نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یہ کوفی ہے، اس کی حدیث صحیح نہیں ہے، مجھے معلوم نہیں کہ  ابن حبان l پر یہ کیسے مخفی ہوگیا؟

علامہ ابن عرقl نے ’’تنزيه الشريعه‘‘[98] میں ابو داؤد اعمی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کر کے ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔

علامہ ابن علان شافعی مکی l ’’الفتوحات الربانية‘‘[99] میں نفیع بن حارث اعمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’متروك عندهم، وكذبه يحيى بن معين‘‘. محدثین کے نزدیک متروک ہے، اور یحیی بن معین l نے اسے جھوٹا کہا ہے۔

حوالہ جات

[52] امام بخاریl نے  ’’التاريخ الصغير‘‘ میں ابو داؤد نفیع بن حارث اعمی ہمدانی   کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 1۰0 ھ اور 1۱0ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:۱/۳۰۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ).

[53]  من كلام أبي زكريا يحيى بن معين برواية ابن طهمان:ص:77،رقم:219،ت:أحمد محمد نور سيف، دار المامون للتراث ـ دمشق .

[54]  تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/۲۱۷،رقم:۱۴۰۷،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[55] انظر المجروحين:۳/۵۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[56] التاریخ الکبیر:۸/۱۰،رقم:۱۱۷۳۱،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[57] التاريخ الصغير:۱/۳۰۳،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[58] الضعفاء للبخاري:ص:۱۲۰،رقم:۳۸۱،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .

[59] أحوال الرجال:ص:۱۴۳،رقم:۷۱،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوى،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان، الطبعة الأولى۱۴۱۱هـ .

[60]  الصحيح لمسلم:ص:21،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ .

[61]  العلل ومعرفة الرجال:ص:178،رقم:317،ت:وصي الله بن محمد عباس،الدار السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى 1408هـ .

[62]  الصحيح لمسلم:ص:2۲،ت:محمد فواد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ

[63] المنهاج شرح صحيح مسلم:1/10۷،المطبعة المصرية ـ الأزهر،الطبعة الأولى1347هـ .

[64] المنهاج شرح صحيح مسلم:1/105،المطبعة المصرية ـ الأزهر،الطبعة الأولى1347هـ .

[65] انظر الجرح والتعديل:8/490،رقم:2242،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى1372هـ .

[66]  انظر الضعفاء الكبير:4/30۷،رقم:1908،ت:عبد المعطی أمین،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[67] انظر الجرح والتعديل:8/490،رقم:2242،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى1372هـ .

[68] كتاب التاريخ وأسماء المحدثين وكناهم:ص:102،رقم:452،ت:محمد بن إبراهيم اللحيدان،دار الكتاب والسنة ـ الباكستان،الطبعة الأولى1415هـ  .

[69] الجرح والتعديل:8/490،رقم:2242،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى1372هـ .

[70] انظر الجرح والتعديل:8/490،رقم:2242،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى1372هـ .

[71] انظر الكامل في الضعفاء:۸/۳۲۹،رقم:۱۹۸۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[72] انظر إكمال تهذيب الكمال:۱۲/۷۸،رقم:4861،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ  القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[73] انظر إكمال تهذيب الكمال:۱۲/۷۸،رقم:4861،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ  القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[74]  الضعفاء الكبير:4/306،رقم:1908،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[75] الثقات:5/482،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعةالأولى1393هـ .

[76] المجروحين:۳/۵۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[77] ’’المجروحین‘‘ کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’نفيع بن الحارث أبو داود الأعمى القاص الهمداني: من أهل الكوفة، يروي عن بريدة الأسلمي، وأنس بن مالك، روى عنه إسماعيل بن أبي خالد، والعلاء بن المسيب، كان ممن يروي عن الثقات الأشياء الموضوعات توهما، لا يجوز الاحتجاج به ولا الرواية عنه إلا على جهة الاعتبار، أخبرنا الهمداني، قال: حدثنا عمرو بن علي، قال: كان يحيى وعبد الرحمن لا يحدثان عن أبي داود نفيع، سمعت الحنبلي قال: سمعت أحمد بن زهير يقول: سئل يحيى بن معين عن أبي داود الأعمى فقال: ليس بثقة ولا مأمون، قال أبو حاتم: وهو الذي روى عن زيد بن أرقم قال: قالوا: يا رسول الله! ما هذه الأضاحي؟ قال: سنة أبيكم إبراهيم، قالوا: فما لنا فيها من الأجر؟ قال بكل شعرة حسنة، أخبرناه أبو يعلى، قال حدثنا هدبة بن خالد، قال حدثنا سلام بن مسكين، عن عائذ الله، عن أبي داود، عن زيد بن أرقم‘‘.

[78] الكامل في الضعفاء:۸/۳۲۹،رقم:۱۹۸۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[79] العلل الواردة:12/15،ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .

[80] المدخل إلى الصحيح:ص:218،رقم:210،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[81] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/84 ،رقم:253،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[82] الإستغناء في معرفة المشهورين:1/604،رقم:670،ت:عبد الله مرحول السوالمة،دار ابن تيمية ـ الرياض، الطبعة الأولى1405هـ .

[83] ذخيرةالحفاظ:ص:۲۱۱۷،رقم:۴۹۰۶، ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .

[84]  كتاب الإعلام بفضل الصلاة على النبي والسلام:ص:45،رقم:81 ،ت:حسين محمد علي شكري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى2009ء .

[85]  تحفة الأشراف بمعرفة الأطراف:9/144،رقم:11889،ت:عبد الصمد شرف الدين،المكتب الإسلامي ـ بيروت، الطبعة الثانية1403هـ .

[86] الكاشف:۲/۳۲۵،رقم:۵۸۷۰،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة۱۴۱۳هـ .

[87] المغني في الضعفاء:۲/۴۶۴،رقم:۶۶۶۸،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .

[88] جامع التحصيل في أحكام المراسيل:ص:292،رقم:836 ،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،عالم الكتب ـ بيروت، الطبعة الثانية1407هـ .

[89] البداية والنهاية:5/321،مكتبة المعارف ـ بيروت،الطبعةالسادسة1409هـ .

[90] تفسير ابن كثير:۶/۳۶۵،ت:محمد حسين شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 141۹هـ .

[91] مجمع الزوائد:۳/۲۵۲،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[92] مجمع الزوائد:5/119،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[93] مجمع الزوائد:4/194،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .

[94] جامع الآثار في السير و مولد المختار:7/313،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح ـ الفيوم،الطبعة الأولى1431هـ .

[95] مغاني الأخيار في شرح أسامي رجال معاني الآثار:3/565،رقم:693،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ .

[96] تقريب التهذيب:ص:565،رقم:7181،ت:محمد عوامه،دار الرشيد ـ حلب،الطبعة الثالثة1411هـ .

[97] إتحاف المهرة:13/510،رقم:17074ت:عبد القدوس محمد نذير،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنوره، الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .

[98] تنزيه الشريعه:1/۱۳۲،رقم:1۸،ت:عبد الطيف،محمد بن صديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .

[99] الفتوحات الربانية على الأذكار النواوية:5/79،ت:عبد المنعم خليل إبراهيم،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1424هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ