اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’حضرت ابو بکر صدیق r کی رفاقت حضور اقدس ﷺ کےساتھ شام کے سفر میں ہوئی تھی، جب ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، اور حضور ﷺ کی عمر شریف بیس سال کی تھی، اس سفر میں راستہ میں ایک بیری کے درخت کے پاس ان دونوں حضرات کا قیام ہوا، وہاں ایک راہب تھا، حضرت ابو بکر r اس سے ملنے تشریف لے گئے، اور حضور ﷺ درخت کے سایہ میں تشریف فرما رہے، اس راہب نے حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ یہ شخص جو درخت کے نیچے ہے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب، راہب نے کہا: خدا کی قسم! یہ نبی ہیں، حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بعد سے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخر الزماں ﷺہیں، جب حضور ﷺ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور آپ کو نبوت ملی تو حضرت ابو بکر r مسلمان ہوئے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو محمد موسی بن عبد الرحمن مفسر ثقفی صنعانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[10] میں موسی بن عبد الرحمن کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’شيخ، دجال، يضع الحديث، روى عنه عبد الغني بن سعيد الثقفي، وضع على ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس كتابا في التفسير، جمعه من كلام الكلبي، ومقاتل بن سليمان، وألزقه بابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، ولم يحدث به ابن عباس، ولا عطاء سمعه، ولا ابن جريج سمع من عطاء، وإنما سمع ابن جريج من عطاء الخراساني، عن ابن عباس في التفسير أحرفا شبيها بجزء، وعطاء الخراساني لم يسمع من ابن عباس شيئا، ولا رواه، لا تحل الرواية عن هذا الشيخ، ولا النظر في كتابه إلا على سبيل الاعتبار‘‘. یہ شیخ ہے، دجال ہے، حدیث گھڑتا ہے، اس سے عبد الغنی بن سعید ثقفی نے روایت کیا ہے، اس نے ابن جریج پر عطاء، عن ابن عباس q کے طریق سے ’’تفسیر‘‘میں ایک کتاب گھڑی ہے، جس میں اس نے کلبی اور مقاتل بن سلیمان کا کلام جمع کرکے عطاء، عن ابن عباس q کے طریق سے ابن جریج پر چسپاں کردیا ہے، حالانکہ ابن عباس q نے اس کو بیان نہیں کیا، اور نہ عطاء نے ان سے سنا ہے، اور نہ ابن جریج نے عطاء سے سنا ہے، البتہ ابن جریج نے عطاء خراسانی، عن ابن عباس q کے طریق سے ’’تفسیر‘‘ میں کچھ حروف سنے ہیں جو ایک جزء کے مشابہ ہیں، اور عطاء خراسانی نے ابن عباس q سے کوئی چیز نہیں سنی اور نہ ہی ابن عباس q سے روایت کیا ہے، اس شیخ سے روایت کرنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی اس کی کتاب میں دیکھنا حلال ہے، مگر اعتبار کے طور پر۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[11] میں موسی بن عبد الرحمن صنعانی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن حبان l کے قول پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن عدی l نے ’’الكامل‘‘[12] میں موسی بن عبد الرحمن کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘میں موسی بن عبد الرحمن کے ترجمہ میں چند روایات ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وموسى بن عبد الرحمن هذا لا أعلم له أحاديث غير ما ذكرته، وقد يقبل بابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، وهذه الأحاديث بواطيل‘‘. اور اس موسی بن عبد الرحمن کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ روایات کا مجھے علم نہیں ہے، اور موسی بن عبد الرحمن، ابن جریج، عن عطاء، عن ابن عباس q کے طریق سے بکثرت روایت کرتا ہے، اور یہ احادیث باطل ہیں۔
علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[13] میں موسی بن عبد الرحمن کو متہم افراد میں شامل کرکے حافظ ابن حبان l اور حافظ ابن عدی l کا قول لائے ہیں۔
امام بیہقی l نے ’’السنن الكبرى‘‘[14] میں ایک روایت کے تحت موسی بن عبد الرحمن کو ’’ضعيف جدا‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[15] میں ایک روایت کے تحت موسی بن عبد الرحمن کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، ولم يتكلم فيه المتقدمون، والحديث باطل‘‘. منکر الحدیث ہے، اور اس کے بارے میں متقدمین نے کوئی کلام نہیں کیا، اور حدیث باطل ہے۔
حافظ ابن تیمیہ l ’’مجموع فتاوى‘‘[16] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وموسى بن عبد الرحمن هذا من الكذابين‘‘. اور یہ موسی بن عبد الرحمن جھوٹوں میں سے ہے۔
حافظ ذہبی l نے موسی بن عبد الرحمن کو ’’ميزان‘‘[17] میں ’’ليس بثقة‘‘، ’’ديوان‘‘[18] میں ’’دجال‘‘، ’’المغني‘‘[19] میں ’’هالك‘‘ اور ’’تاريخ الإسلام‘‘[20] میں ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘میں موسی بن عبد الرحمن کو ایک روایت کے تحت ’’كذاب‘‘[21] اور دوسرے مقام پر ’’وضاع‘‘[22] کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے موسی بن عبد الرحمن کو ’’تلخيص‘‘[23] میں ایک روایت کے تحت’’متروك‘‘ اور ’’العجاب‘‘[24] میں ’’كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl ’’العجاب‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’ومن التفاسير الواهية لوهاء رواتها التفسير الذي جمعه موسى بن عبد الرحمن الثقفي الصنعاني، وهو قدر مجلدين، يسنده إلى ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، وقد نسب ابن حبان موسى هذا إلى وضع الحديث، ورواه عن موسى عبد الغني بن سعيد الثقفي، وهو ضعيف‘‘. اور راویوں کے واہی ہونے کی وجہ سے ’’واہی تفاسیر‘‘میں سے ایک وہ تفسیر ہے جسے موسی بن عبد الرحمن ثقفی صنعانی نے جمع کیا ہے، اور وہ دو جلدوں کے بقدر ہے، موسی بن عبد الرحمن اسے ابن جریج، عن عطاء، عن ابن عباس q کے طریق سے بیان کرتا ہے، اور ابن حبان l نے اس موسی کو حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا ہے، اور موسی سے اسے عبد الغنی بن سعید ثقفی نے روایت کیا ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
حوالہ جات
[10] المجروحين:2/۲۴۲،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[11] تنزيه الشريعة:1/120،رقم:386،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .
[12] الكامل في ضعفاء الرجال:۸/6۶،رقم:1831،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[13] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:263، رقم:794،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[14] السنن الكبرى للبيهقي:7/62،رقم:13272،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
[15] ذخيرةالحفاظ:4/2177،رقم:5050،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱6هـ .
[16] مجموع فتاوى:1/259،ت:عبد الرحمن بن محمد بن قاسم،مجمع الملك فهد ـ المدينة،الطبعة 1425هـ .
[17] ميزان الاعتدال:۴/۲۱۱،رقم:۸۸۹۱،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[18] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:۴۰۲،رقم:۴۲۹۱،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[19] المغني في الضعفاء:۲/۴۴۰،رقم:۶۵۰۷،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[20] تاريخ الإسلام:۵/623،رقم:263،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[21] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:8ٍ/264،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت.
[22] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:۱۰/۳۷۸،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت.
[23] تلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير:1/243،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[24] العجاب في بيان الأسباب:ص:755،ت:عبد الحكيم محمد الأنيس،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .
[25] العجاب في بيان الأسباب:ص:۲۲۰،ت:عبد الحكيم محمد الأنيس،دار ابن الجوزي ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .