اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’حضرت ابو بکر صدیق r کی رفاقت حضور اقدس ﷺ کےساتھ شام کے سفر میں ہوئی تھی، جب ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، اور حضور ﷺ کی عمر شریف بیس سال کی تھی، اس سفر میں راستہ میں ایک بیری کے درخت کے پاس ان دونوں حضرات کا قیام ہوا، وہاں ایک راہب تھا، حضرت ابو بکر r اس سے ملنے تشریف لے گئے، اور حضور ﷺ درخت کے سایہ میں تشریف فرما رہے، اس راہب نے حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ یہ شخص جو درخت کے نیچے ہے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب، راہب نے کہا: خدا کی قسم! یہ نبی ہیں، حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بعد سے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخر الزماں ﷺہیں، جب حضور ﷺ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور آپ کو نبوت ملی تو حضرت ابو بکر r مسلمان ہوئے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو محمد عبد الغنی بن سعید بن عبد الرحمن ثقفی مصری (المتوفی ۲۲۷ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ ابو سعید ابن یونس l نے عبد الغنی بن سعید کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[26]۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان‘‘[27] میں حافظ ابن یونس l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن حبان l نے عبد الغنی بن سعید کو ’’الثقات‘‘[28] میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’الإصابة‘‘[29] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وعبد الغني وموسى هالكان‘‘. عبد الغنی اور موسی دونوں ہالک ہیں۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’الإصابة‘‘[30] میں زیر بحث روایت کے تحت عبد الغنی بن سعید کو ’’أحد الضعفاء المتروكين‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[26] تاريخ الإسلام:5/623،رقم:263،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[27] ميزان الاعتدال:2/642،رقم:۵۰51،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[28] كتاب الثقات:۸/424،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد،الطبعة الأولى۱۳۹۳هـ .
[29] الإصابة في تمييز الصحابة:۶/۳۳۰،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[30] الإصابة في تمييز الصحابة:1/476،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .