اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’حضرت ابو بکر صدیق r کی رفاقت حضور اقدس ﷺ کےساتھ شام کے سفر میں ہوئی تھی، جب ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، اور حضور ﷺ کی عمر شریف بیس سال کی تھی، اس سفر میں راستہ میں ایک بیری کے درخت کے پاس ان دونوں حضرات کا قیام ہوا، وہاں ایک راہب تھا، حضرت ابو بکر r اس سے ملنے تشریف لے گئے، اور حضور ﷺ درخت کے سایہ میں تشریف فرما رہے، اس راہب نے حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ یہ شخص جو درخت کے نیچے ہے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب، راہب نے کہا: خدا کی قسم! یہ نبی ہیں، حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بعد سے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخر الزماں ﷺہیں، جب حضور ﷺ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور آپ کو نبوت ملی تو حضرت ابو بکر r مسلمان ہوئے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو الحسن مقاتل بن سلیمان ازدی خراسانی مروزی بلخی صاحبِ تفسیر (المتوفی ۱۵۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام اعظم ابو حنیفہ l فرماتے ہیں: ’’أتانا من المشرق رأيان خبيثان: جهم معطل، ومقاتل مشبه‘‘[31]. ہمارے پاس مشرق سے دو خبیث رائے آئی ہیں: جہم معطل، اور مقاتل مشبہ۔
امام اعظم ابو حنیفہ l ہی ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’يا أبا يوسف! احذر صنفين من خراسان: الجهمية والمقاتلية‘‘[32]. اے ابو یوسف! خراسان کے دو قسم کے لوگوں سے بچنا: جہمیہ اور مقاتلیہ۔
وزیر مہدی علامہ ابو عبید اللہ معاویہ l فرماتے ہیں: ’’قال لي المهدي: ألا ترى ما يقول لي هذا يعني: مقاتلا؟ قال: إن شئت وضعت لك أحاديث في العباس، قال: قلت: لا حاجة لي فيها‘‘[33]. مہدی نے مجھ سے کہا: تمہیں معلوم ہے کہ مجھ سے یہ یعنی مقاتل کیا کہتا ہے؟ کہتا ہے: اگر آپ چاہیں تو میں کےلئے عباس r کے حق میں احادیث گھڑ دوں، مہدی نے کہا: میں نے کہا کہ مجھے ان احادیث کی ضرورت نہیں ہے۔
امام مقاتل بن حیان l فرماتے ہیں: ’’ما وجدت علم مقاتل بن سليمان في علم الناس إلا كالبحر الأخضر في سائر البحور‘‘[34]. میں نے مقاتل بن سلیمان کے علم کو لوگوں کے علم کے مقابلہ میں تمام سمندروں میں سبز سمندر کی طرح پایا ہے۔
علامہ سفیان بن عبد الملک مروزی l فرماتے ہیں: ’’سمعت ابن المبارك وسئل: عن مقاتل بن سليمان، وأبي شَبَّة الواسطي، فقال: ارم بهما، ومقاتل بن سليمان ما أحسن تفسيره لو كان ثقة‘‘[35]. ابن مبارک l سے مقاتل بن سلیمان اور ابو شَبَّہ واسطی کے بارے میں پوچھا گیا، تو میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ان دونوں کو ترک کردو، اور مقاتل کی تفسیر کتنی اچھی ہے اگر وہ ثقہ ہوتا۔
علامہ وہب بن زمعہ l ، امام عبد اللہ بن مبارک l کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’إنه ترك حديث مقاتل بن سليمان‘‘[36]. عبد اللہ بن مبارک l نے مقاتل بن سلیمان کی حدیث کو ترک کردیا تھا۔
حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعديل‘‘[37] میں فرماتے ہیں: ’’أنا محمود بن آدم المروزي، فيما كتب إلي، قال: حضرت وكيعا، وسئل عن كتاب التفسير عن مقاتل بن سليمان، فقال: لا تنظر فيه، قال: ما أصنع به؟ قال: ادفنه، ثم قال: أليس زعموا أنه كان [يحفظ]؟ كنا نأتيه، فيحدثنا، ثم نأتيه بعد أيام، فيقلب الإسناد والحديث‘‘. محمود بن آدم مروزی نے مجھے ایک خط میں بتایا وہ فرماتے ہیں: میں وکیع lکے پاس موجود تھا، اور وکیع سے مقاتل بن سلیمان کی تفسیر سے متعلق پوچھا گیا، تو وکیع l نے فرمایا: اس میں نہ دیکھا کرو، محمود نے کہا: میں اس کی تفسیر کا کیا کروں؟ وکیع l نے فرمایا: اسے دفن کردو، پھر محمود نے کہا: کیا محدثین یہ نہیں کہتے کہ وہ حفظ کرتا تھا؟ (وکیع l نے کہا) ہم اس کے پاس جاتے تھے، وہ ہمیں حدیث بیان کرتا، پھر ہم چند دنوں کے بعد اس کے پاس جاتے تو وہ اسناد اور حدیث میں قلب کردیتا تھا۔
امام وکیع l فرماتے ہیں: ’’سمعت من مقاتل، ولو كان أهلا يروى عنه، لروينا‘‘[38]. میں نے مقاتل سے سنا ہے، اور اگر وہ اس کا اہل ہوتا کہ اس سے روایت کی جائے تو ہم اس سے روایت کرتے۔
امام وکیع l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’ كان مقاتل بن سليمان كذابا‘‘[39]. مقاتل بن سلیمان کذاب تھا۔
امام وکیع l ہی ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’مقاتل بن سليمان لقيناه، ولكنه كان كذابا، فلم نكتب عنه‘‘[40]. مقاتل بن سلیمان سے ہم نے ملاقات کی ہے، لیکن وہ کذاب تھا، سو ہم نے اس سے نہیں لکھا۔
امام عبد الرزاق l فرماتے ہیں: ’’سمعت ابن عيينة، يقول: قلت لمقاتل: تحدث عن الضحاك، وزعموا أنك لم تسمع منه؟ قال: كان يغلق علي وعليه الباب، قال ابن عيينة: قلت في نفسي: أجل، باب المدينة‘‘[41]. میں نے سفیان بن عیینہ l سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقاتل سے کہا: تو ضحاک سے روایت کرتا ہے، اور لوگوں کا گمان یہ ہے کہ تو نے ضحاک سے نہیں سنا، مقاتل نے کہا: مجھ پر اور ضحاک پر دروازہ بند کردیا جاتا تھا، ابن عیینہ l فرماتے ہیں کہ میں نے دل میں کہا: جی ہاں، شہر کا دروازہ[42]۔
علامہ بقیہ l فرماتے ہیں: ’’ كان مقاتل يذكر عند شعبة، فما رأيته يقول فيه إلا خيرا‘‘[43]. مقاتل کا شعبہ l کے ہاں تذکرہ کیا جاتا تھا، میں نے شعبہ l کو اس کے متعلق خیر ہی کہتے دیکھا ۔
حافظ ابو العباس ولید عُذْری l فرماتے ہیں: ’’سألت مقاتل بن سليمان عن أشياء، كان يحدثني بأحاديث كل واحد ينقض الآخر، فقلت: بأيهم آخذ؟ فقال: بأيهم شئت‘‘[44]. میں نے مقاتل سے چند چیزوں سے متعلق پوچھا، تو اس نے مجھے ایسی احادیث بیان کیں کہ ان میں سے ہر ایک حدیث دوسری حدیث کے مناقض تھی، سو میں نے اس سے کہا: میں کس حدیث کو لوں؟ تو مقاتل نے کہا: جس کو بھی چاہو لے لو۔
امام شافعی l فرماتے ہیں: ’’الناس عيال على هؤلاء الأربعة: فمن أراد أن يتبحر في المغازي فهو عيال على محمد بن إسحاق، ومن أراد أن يتبحر في الشعر فهو عيال على زهير بن أبي سُلْمى، ومن أراد أن يتبحر في النحو فهو عيال على الكِسائي، ومن أراد أن يتبحر في تفسير القرآن فهو عيال على مقاتل بن سليمان‘‘[45]. لوگ ان چار لوگوں کے عیال ہیں: سو جو لوگ مغازی میں متبحر ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں وہ محمد بن اسحاق کے عیال ہیں، اور جو لوگ اشعار میں متبحر ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں وہ زہیر بن ابی سُلْمی کے عیال ہیں، اور جو لوگ نحو میں متبحر ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں وہ کسائی کے عیال ہیں، اور جو لوگ قرآن کی تفسیر میں متبحر ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں وہ مقاتل بن سلیمان کے عیال ہیں۔
حافظ یزید بن زریع l فرماتے ہیں: ’’سمعت الكلبي يقول: مقاتل بن سليمان يكذب علي‘‘[46]. میں نے کلبی سے سنا وہ کہہ رہا تھا: مقاتل مجھ پر جھوٹ بولتا ہے۔
حافظ ابن سعد l ’’الطبقات‘‘[47] میں فرماتے ہیں: ’’وأصحاب الحديث يتقون حديثه، وينكرونه‘‘. اور اصحابِ حدیث اس کی حدیث سے بچتے تھے، اور اس کا انکار کرتے تھے۔
حافظ عبد الرحمن بن حکم رازی l فرماتے ہیں: ’’ كان قاصا، ترك الناس حديثه‘‘[48]. یہ قصہ گو تھا، لوگوں نے اس کی حدیث کو ترک کردیا۔
حافظ یحیی بن معین l نے مقاتل بن سلیمان کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[49]۔
حافظ یحیی بن معین l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’حديثه ليس بشيء‘‘[50]. اس کی حدیث لیس بشیء ہے۔
حافظ یحیی بن معین l نے ایک دوسرے مقام پر مقاتل بن سلیمان کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[51]۔
امام اسحاق بن راہویہ l فرماتے ہیں: ’’أخرجت خراسان ثلاثة لم يكن لهم في الدنيا نظير، يعني: في البدعة والكذب: جهم بن صفوان، وعمر بن الصُبْح، ومقاتل بن سليمان‘‘[52]. خراسان نے تین ایسے افراد ظاہر کئے جن کی مثال دنیا میں بدعت اور جھوٹ میں نہیں: جہم بن صفوان، عمر بن صُبْح اور مقاتل بن سلیمان۔
امام احمد بن حنبل l، مقاتل بن سلیمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ما يعجبني أن أروي عنه شيئا‘‘[53]. مجھے پسند نہیں کہ میں اس سے کوئی چیز روایت کروں۔
حافظ ابو الحسن عجلی l نے ’’معرفة الثقات‘‘[54] میں مقاتل بن سلیمان کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو حاتم l نے مقاتل بن سلیمان کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[55]۔
حافظ ابو حاتم l ایک مقام پر ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’رأيت هذا الحديث في أول كتاب، وضعه مقاتل بن سليمان‘‘[56]. میرا خیال ہے کہ یہ حدیث کتاب کی ابتداء میں ہے، جسے مقاتل بن سلیمان نے گھڑا ہے۔
حافظ عمرو بن علی فلاس l فرماتے ہیں: ’’سمعت عبد الصمد بن عبد الوارث، قال: قدم علينا مقاتل بن سليمان، فجعل يحدثنا عن عطاء بن أبي رباح، ثم قال: حدثنا بتلك الأحاديث نفسها عن الضحاك بن مزاحم، ثم حدثنا بها عن عمرو بن شعيب، فقلنا له: ممن سمعتها؟ قال: عنهم كلهم، ثم قال بعد: لا، والله، ما أدري ممن سمعتها، قال: ولم يكن بشيء‘‘[57]. میں نے عبد الصمد بن عبد الوارث کو فرماتے ہوئے سنا: مقاتل بن سلیمان ہمارے پاس آیا تو ہمیں عطاء بن ابی رباح کے انتساب سے حدیثیں بیان کرنا شروع کردیں، پھر وہی ساری احادیث خود سے ضحاک بن مزاحم کے انتساب سے بھی ہمیں بیان کردیں، پھر وہی احادیث عمرو بن شعیب کے انتساب سے بھی ہمیں بیان کردیں، چنانچہ ہم نے اس سے پوچھا: یہ احادیث تم نے کس سے سنی ہیں؟، کہنے لگا کہ ان تمام سے سنی ہیں، پھر بعد میں کہا: نہیں، اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ میں نے یہ احادیث کس سے سنی ہیں، عبد الصمد بن عبد الوارث فرماتے ہیں کہ یہ ’’لم یکن بشیء‘‘ہے۔
حافظ عمرو بن علی فلاس l نے مقاتل بن سلیمان کو ’’ كذاب، متروك‘‘ کہا ہے[58]۔
امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[59] میں مقاتل بن سلیمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لا شيءألبتة‘‘.
امام بخاری l ’’التاريخ الصغير‘‘[60] میں فرماتے ہیں: ’’قال ابن عيينة: سمعت مقاتلا يقول: إن لم يخرج الدجال الأكبر سنة خمسين ومائة، فاعلموا أني كذاب، سكتوا عنه‘‘. ابن عیینہ l فرماتے ہیں: میں نے مقاتل کو یہ کہتے ہوئے سنا: اگر ایک سو پچاس سال تک دجال اکبر نہ نکلا، تو جان لو کہ بےشک میں کذاب ہوں، محدثین نے اس کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے۔
امام بخاری l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’مقاتل بن سليمان خراساني، منكر الحديث، سكتوا عنه‘‘[61]. مقاتل بن سلیمان خراسانی ہے، منکر الحدیث ہے، محدثین نے اس کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[62] میں مقاتل بن سلیمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان دجالا جسورا، سمعت أبا اليمان يقول: قدم هاهنا، فلما أن صلى الإمام، أسند ظهره إلى القبلة، وقال: سلوني عما دون العرش، وحدثت أنه قال مثلها بمكة، فقام إليه رجل، فقال: أخبرني عن النملة أين أمعاؤها؟ فسكت‘‘. بڑی جسارت والا، دجال تھا، میں نے ابو الیمان کو کہتے ہوئے سنا کہ مقاتل یہاں آیا، جب امام نے نماز پڑھا لی تو یہ قبلہ کی طرف ٹیک لگا کر کہنے لگا: عرش کے نیچے کی جس چیز کے بارے میں چاہو مجھ سے پوچھو، (حافظ جوزجانی l فرماتے ہیں) مجھے بیان کیا گیا ہے کہ اس نے مکہ میں بھی اس جیسی کی بات کی تھی، تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: مجھے چیونٹی کے بارے میں بتاؤ کہ اس کی آنتیں کہاں ہوتی ہیں؟ سو مقاتل خاموش ہوگیا[63]۔
حافظ ابو الحسن احمد بن سیار بن ایوب مروزی l فرماتے ہیں: ’’ومقاتل بن سليمان كان من أهل بلخ، تحول إلى مرو، وخرج إلى العراق، ومات بها، يكنى أبا الحسن، وهو متهم، متروك الحديث، مهجور القول، وكان يتكلم في الصفات بما لا تحل الرواية عنه‘‘[64]. اور مقاتل بن سلیمان اہلِ بلخ میں سے تھا، مرو منتقل ہوگیا، اور عراق کی طرف نکلا، اور وہی اس کا انتقال ہوا، اس کی کنیت ابو الحسن ہے، اور یہ متہم، متروک الحدیث، مہجور القول ہے، اور یہ صفات میں ایسا کلام کرتا تھا جسے اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے۔
امام ابو داؤد l فرماتے ہیں: ’’تركوا حديثه‘‘[65]. محدثین نے اس کی حدیث کو ترک کردیا ہے۔
امام نسائی lفرماتے ہیں: ’’الكذابون المعروفون بوضع الحديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعة: إبراهيم بن أبي يحيى بالمدينة، والواقدي ببغداد، ومقاتل بن سليمان بخراسان، ومحمد بن سعيد، ويعرف بالمصلوب بالشام‘‘[66]. کذاب راوی جو رسول اللہ ﷺ پر حدیث گھڑنے میں معروف ہیں، وہ چار ہیں: مدینہ میں ابراہیم بن ابی یحیی، بغداد میں واقدی، خراسان میں مقاتل بن سلیمان، اور شام میں محمد بن سعید، اور یہ مصلوب سے معروف ہے۔
حافظ زکریا بن یحیی ساجی lفرماتے ہیں: ’’مقاتل بن سليمان من أهل خراسان، قالوا: كان كذابا، متروك الحديث‘‘[67]. مقاتل بن سلیمان اہلِ خراسان میں سے ہے، محدثین فرماتے ہیں کہ یہ کذاب، متروک الحدیث ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[68] میں مقاتل بن سلیمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كان يأخذ عن اليهود والنصارى علم القرآن الذي يوافق كتبهم، وكان شبيهيا، يشبه الرب بالمخلوقين، وكان يكذب مع ذلك في الحديث‘‘. یہ یہود ونصاری سے قرآن کا وہ علم لیتا تھا جو ان کی کتب کے موافق ہوتا تھا، اور یہ شبیہی تھا، رب تعالی کو مخلوق سے تشبیہ دیتا تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔
حافظ ابن عدیl’’الکامل‘‘[69] میں مقاتل بن سلیمان کے ترجمہ میں چند احادیث تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولمقاتل غير ما ذكرت من الحديث حديث صالح، وعامة أحاديثه لا يتابع عليه، على أن كثيرا من الثقات والمعروفين قد حدث عنه، والشافعي محمد بن إدريس يقول: الناس عيال على مقاتل بن سليمان في التفسير، وكان من أعلم الناس بتفسير القرآن، وله كتاب الخمسمئة آية التي يرويها عنه أبو نصير منصور بن عبد الحميد البَاوَرْدِي، وفي ذلك الكتاب حديث كثير مسند، وهو مع ضعفه يكتب حديثه‘‘. اور مقاتل کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی صالح حدیث ہے، اور اس کی اکثر احادیث میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی، اس کے ساتھ ساتھ بہت سے ثقہ اور معروف راویوں نے اس سے روایت کیا ہے، اور محمد بن ادریس شافعی l فرماتے ہیں: لوگ تفسیر میں مقاتل بن سلیمان کے عیال ہیں، اور یہ قرآن کی تفسیر لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا تھا، اور اس کی ایک کتاب پانچ سو آیات پر مشتمل ہے، جسے اس سے ابو نصیر منصور بن عبد الحمید بَاوَرْدِی نے روایت کیا ہے، اور اس کتاب میں بہت سی مسند احادیث ہیں، اور ضعف کے باوجود اس کی حدیث کو لکھا جائے گا۔
حافظ ابو احمد حاکم l ’’الأسامي‘‘[70] میں مقاتل بن سلیمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالمتين عندهم‘‘. محدثین کے ہاں متین نہیں تھا۔
حافظ دار قطنی l ’’الضعفاء‘‘[71] میں مقاتل بن سلیمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’خراساني، يكذب‘‘. یہ خراسانی ہے، جھوٹ بولتا ہے۔
حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[72] میں مقاتل بن سلیمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’محله عند أهل التفسير والعلماء محل كبير، واسع العلم، لكن الحفاظ ضعفوه في الرواة [ كذا في الأصل]، وهو قديم معمر، سمع عطاء بن أبي رباح، وعمرو بن دينار، ونافعا، والزهري، والأعمش، وعلقمة بن مرثد، والحكم بن عتيبة، ومحمد بن سيرين، سمع منه كبار خراسان والعراق، وقد روى عنه الضعفاء أحاديث مناكير، والحمل فيها عليهم، وروى عنه جماعة من أهل العراق أحاديث مشهورة‘‘. اہل تفسیر اور علماء کے ہاں اس کا بڑا مقام ہے، وسیع علم والا ہے، لیکن حفاظ نے روایت میں اس کی تضعیف کی ہے، اور یہ عمر رسیدہ ہے، اس نے عطاء بن ابی رباح، عمرو بن دینار، نافع، زہری، اعمش، علقمہ بن مرثد، حکم بن عتیبہ اور محمد بن سیرین سے سنا ہے، اس سے خراسان اور عراق کے بڑوں نے سنا ہے، اور ضعیف راویوں نے اس سے منکر احادیث روایت کی ہیں، اور ان روایات میں حمل ان ضعیف راویوں پر ہے، اور اہل عراق میں سے ایک جماعت نے اس سے مشہور احادیث روایت کی ہیں۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[73] میں فرماتے ہیں: ’’وكان له معرفة بتفسير القرآن، ولم يكن في الحديث بذاك‘‘. مقاتل کو قرآن کی تفسیر کی معرفت تھی، اور حدیث میں ’’لم یکن بذاک‘‘تھا۔
حافظ خطیب بغدادی l ’’المتفق‘‘[74] میں فرماتے ہیں: ’’وكان صاحب مناكير‘‘. یہ صاحبِ مناکیر تھا۔
حافظ ابن جوزی l ’’المنتظم‘‘[75] میں فرماتے ہیں: ’’وجمع تفاسير الناس، فجعلها لنفسه، وكان يروي عن الضحاك، وقد مات الضحاك قبل مولد مقاتل بأربع سنين‘‘. اس نے لوگوں کی تفاسیر جمع کرکے اپنی تفسیر بنالی، اور یہ ضحاک سے روایت کرتا تھا، حالانکہ مقاتل کی پیدائش سے چار سال پہلے ضحاک کا انتقال ہوگیا تھا[76]۔
حافظ ابن الاثیر l ’’الكامل‘‘[77] میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا في الحديث‘‘. مقاتل حدیث میں ضعیف تھا۔
حافظ ذہبی l نے مقاتل بن سلیمان کو ’’تلخيص‘‘[78] میں ’’كذاب‘‘، ’’الكاشف‘‘[79] میں ’’متروك‘‘، ’’تذكرة‘‘[80] میں ’’متروك الحديث‘‘ اور ’’المغني‘‘[81] میں ’’هالك‘‘کہا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’سير‘‘[82] میں مقاتل بن سلیمان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’أجمعوا على تركه‘‘. محدثین کا اس کے ترک پر اجماع ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے مقاتل بن سلیمان کو ’’تلخيص الحبير‘‘[83] میں ایک روایت کے تحت ’’متهم‘‘ اور ’’الزهر النضر‘‘[84] میں ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’التقريب‘‘[85] میں فرماتے ہیں: ’’كذبوه، وهجروه، ورمي بالتجسيم‘‘. محدثین نے اس کو جھوٹا اور مہجور قرار دیا ہے، اور اس کو تجسیم میں متہم قرار دیا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمیl نے ’’الکشف الحثیث‘‘[86] میں مقاتل بن سلیمان کو متہم بالوضع افراد کی فہرست میں شامل کرکے حافظ ذہبی l وغیرہ کے اقوال پر اعتماد کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعه‘‘[87] میں مقاتل بن سلیمان کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال وكيع وغيره: كذاب، وقال النسائي: هو من المعروفين بوضع الحديث‘‘. وکیع l وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ کذاب ہے، اور نسائی l فرماتے ہیں: یہ معروف گھڑنے والوں میں سے ہے۔
حوالہ جات
[31] تاريخ بغداد:15/212،رقم:7095،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[32] المجروحين:3/1۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[33] تاريخ بغداد:15/216،رقم:7095،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[34] الكامل في ضعفاء الرجال:8/187،رقم:1914،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[35] تاريخ بغداد:15/21۳،رقم:7095،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[36] الكامل في ضعفاء الرجال:8/189،رقم:1914،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[37]الجرح التعديل:8/354،رقم:1630،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[38] الكامل في ضعفاء الرجال:8/188،رقم:1914،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[39]الجرح التعديل:8/354،رقم:1630،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[40] تاريخ مدينة دمشق:60/131،رقم:7612،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[41] تاريخ بغداد:15/21۳،رقم:7095،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[42] حافظ ابن عدی l نے ’’الکامل‘‘میں یہ قول اس سیاق سے ذکر کیا ہے: ’’وروى أبو معمر، عن ابن عيينة، سمعت مقاتل بن سليمان يقول: الضحاك، فقيل له: لقيت الضحاك، قال: كان ربما يغلق علي وعليه باب، قال سفيان: قلت: في تفسير كان يغلق عليه وعلى الضحاك باب المقابر، وهو على ظهر الأرض في تلك المدينة‘‘. (الكامل في ضعفاء الرجال:5/151،رقم:944،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت).
[43] الكامل في ضعفاء الرجال:8/189،رقم:1914،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[44] تاریخ الإسلام:۹/۶۴۰،ت:عمر عبد السلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الثانية1411هـ .
[45] تاريخ مدينة دمشق:60/116،رقم:7612،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[46] تاریخ الإسلام:۹/۶40،ت:عمر عبد السلام تدمري،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الثانية1411هـ .
[47] الطبقات الكبرى:7/263،رقم:3647،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[48]الجرح التعديل:8/35۵،رقم:1630،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[49] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:4/383،رقم:4846،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[50] الكامل في ضعفاء الرجال:8/18۷،رقم:1914،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[51] تاريخ مدينة دمشق:60/1۲2،رقم:7612،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[52] تاريخ مدينة دمشق:60/1۲2،رقم:7612،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[53] مسائل الإمام أحمد بن حنبل برواية ابنه أبي الفضل الصالح:۳/۴۳،رقم:۱۳۰۰،ت:فضل الرحمن دين محمد،الدار العلمية ـ الهند،الطبعة الأولى 1408هـ .
[54] معرفة الثقات من رجال أهل العلم والحديث ومن الضعفاء وذكر مذاهبهم وأخبارهم:2/295،رقم:1781، ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مطبعة المدني ـ مصر .
[55] الجرح التعديل:8/35۵،رقم:1630،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷2هـ .
[56] كتاب العلل:4/578، رقم:1652،ت:سعد بن عبد الله الحميد، وخالد بن عبد الرحمن الجريسي،مكتبة الفهد الوطنية ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴27هـ .
[57] تاريخ بغداد:15/21۵،رقم:7095،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[58] تاريخ بغداد:15/21۹،رقم:7095،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[59]التاريخ الكبير:7/325،رقم:11314،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429 هـ .
[60] التاريخ الصغير:2/216،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[61] تاريخ مدينة دمشق:60/111،رقم:7612،ت:محب الدين أبو سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة 1415هـ .
[62] أحوال الرجال:ص:343،رقم:۳78،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان .
[63] حافظ ابو احمد حاکمl نے ’’الاسامی‘‘ میں یہی حکایت سفیان بن عیینہ l کے حوالہ سے ان الفاظ سے ذکر کی ہے: ’’أخبرنا أبو الجهم أحمد بن الحسين القرشي الدمشقي، حدثنا أحمد يعني: ابن أبي الحواري، قال: سمعت مروان بن محمد، قال : سمعت سفيان بن عيينة يقول: مررت بحلقة في المسجد الحرام، فاطلعت فيها، فإذا مقاتل بن سليمان جالس، قال فسمعته يقول: سلوني عما دون العرش، قال سفيان: فانبرى له شيطان من الأنس، فقال: ياأبا الحسن! أخبرني عن نملة وادي سليمان، كان معاها مما يلي رأسها أو مما يلي رجليها؟ قال: فسكت، فما تكلم حتى قام‘‘. (الأسامي والكنى:2/287،رقم:1554،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري، الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ).
[64] تاريخ بغداد:15/21۱،رقم:7095،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[65] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/309،رقم:1952،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[66] تاريخ بغداد:15/21۷،رقم:7095،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[67] تاريخ بغداد:15/21۹،رقم:7095،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[68] المجروحين:3/14،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[69] الكامل في ضعفاء الرجال:8/۱۹۲،رقم:1914،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[70] الأسامي والكنى:2/286،رقم:1554،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .
[71] الضعفاء والمتروکون:ص:371،رقم:527،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[72] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:ص:928،رقم:852،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .
[73] تاريخ مدينة السلام:15/207،رقم:7095،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[74] كتاب المتفق والمفترق:3/1951،رقم:1368،ت:محمد صادق آيدن الحامدى،دار القادري ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۱7 هـ .
[75] المنتظم في تاريخ الملوك والأمم:8/126،رقم:803،ت:محمد عبد القادر عطا ومصطفى عبد القادر عطا، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱415هـ .
[76] حافظ خطیب بغدادی l نے اس جیسا قول حافظ ابراہیم بن اسحاق حربی l کے حوالہ سے اس سیاق سے تخریج کیا ہے: ’’أخبرني العتيقي، قال: حدثنا محمد بن العباس، قال: أخبرنا أبو أيوب سليمان بن إسحاق الجلاب، قال: سئل إبراهيم الحربي، عن مقاتل بن سليمان: هل سمع من الضحاك بن مزاحم شيئا؟ قال: لا، مات الضحاك قبل أن يولد مقاتل بن سليمان بأربع سنين، وقال مقاتل: أغلق علي وعلى الضحاك باب أربع سنين، قال إبراهيم: وأراد بقوله باب يعني: باب المدينة، وذاك في المقابر .
[77] الكامل في التاريخ:5/165،ت:عمر عبد السلام تدمري ،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[78] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:2۴۵،رقم:۶۴۱،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱9هـ .وكذا في:264،رقم:703 .
[79] الكاشف:2/290،رقم:5613،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ جدة،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[80] تذكرة الحفاظ:1/131،رقم:168،ت:زكريا عميرات،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۹ هـ .
[81] المغني في الضعفاء:۲/۴۲۷،رقم:۶۴۰۱،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[82] سير أعلام النبلاء:7/202،رقم:79،ت:شعيب الأرناؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة1405هـ .
[83] تلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير:1/336،رقم:163،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[84] الزهر النضر في حال الخضر:ص:58،ت:صلاح الدين مقبول أحمد،مجمع البحوث الإسلامية ـ الهند، الطبعة الأولى1408هـ .
[85] تقريب التهذيب:ص:۵۴۵،رقم:۶868،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .
[86] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:260،رقم:780،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت:۱۴۰۷هـ .
[87] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/۱۱۹،رقم:۳۶۲،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .