اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’ الصلاة تسود وجه الشيطان‘‘. نماز شیطان کا منہ کالا کرتی ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن وہب بن بشر بن صالح دِیْنَوَرِی (المتوفی ۳۰۸ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
واضح رہے کہ ان کا نام کبھی عبد اللہ بن وہب اور کبھی عبد اللہ بن حمدان بن وہب بھی آتا ہے[5]، اور حمدان کا نام محمد ہے[6]۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[7] میں فرماتے ہیں: ’’سمعت عمر بن سهيل [ كذا في الأصل، والصحيح: سهل] يعرف بابن كدو الدينوري: يرميه بالكذب ويصرح به‘‘. میں نے عمر بن سہل جو کہ ابن کدو[8] دینوری سے معروف تھے سے سنا: وہ عبد اللہ بن حمدان کو جھوٹ میں متہم قرار دیتے تھے، اور صاف لفظوں میں یہ بات فرماتے تھے۔
حافظ عمر بن سہل بن اسماعیل المعروف کدو l فرماتے ہیں: ’’سمعت ابن وهب يقول: لقنت أبا عمير بن النحاس بحمص (أربعين حديثا)، فلما بلغت (إحدى وأربعين) قال لي: أما تستحي أتجشمني أن أشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم في مجلس واحد أكثر من أربعين شهادة‘‘[9].میں نے ابن وہب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابو عمیر بن نحاس کو حمص میں چالیس حدیثوں کی تلقین کی، جب میں اکتالیسویں حدیث پر پہنچا تو انہوں نے کہا: تمہیں اس سے حیا نہیں آتی کہ ایک ہی مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف چالیس سے زائد گواہیاں دینے کا بوجھ مجھ پر لاد رہے ہو؟
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[10] میں ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم بن زیاد طیالسی کے ترجمہ میں عبد اللہ بن محمد بن وہب کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ قال صالح: وسمعت أبا جعفر يقول: توهمت أن الناس لا يحملون حديثه لضعفه‘‘. صالح (یعنی حافظ صالح بن احمد l) کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر l کو کہتے ہوئے سنا ، وہ فرما رہے تھے: میرا گمان ہے کہ لوگ عبد اللہ بن محمد بن وہب کے ضعف کی وجہ سے اس سے تحملِ حدیث نہیں کرتے تھے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l فرماتے ہیں: ’’سمعت أبا عبد الله الزبير بن عبد الواحد الحافظ بأسَداباذ يقول: ما رأيت لأبي علي زلة قط إلا روايته عن عبد الله بن وهب الدينوري وأحمد بن عمير بن جوصا‘‘[11]. میں نے ابو عبد اللہ زبیر بن عبد الواحد کو اَسَداباذ میں فرماتے ہوئے سنا: وہ فرما رہے تھے کہ میں نے ابو علی کی عبد اللہ بن وہب دِیْنَوَری اور احمد بن عمیر جَوْصَا سے روایت کرنے کے علاوہ کوئی لغزش نہیں دیکھی۔
امام ابو عبد اللہ حاکم l فرماتے ہیں: ’’سألت أبا علي الحافظ عن عبد الله بن محمد بن وهب الدينوري، فقال: كان صاحب حديث، حافظا، ثم قال أبو علي: بلغني أن أبا زرعة كان يعجز عن مذاكرته في زمانه‘‘[12]. میں نے حافظ ابو علی l سے عبد اللہ بن محمد بن وہب دِیْنَوَرِی کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: وہ صاحبِ حدیث حافظ تھا، پھر ابو علی l نے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ابو زرعہ l اپنے زمانے میں عبد اللہ بن محمد دِیْنَوَری کے ساتھ مذاکرہ کرنے سے عاجز ہوجاتے تھے۔
حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[13]میں فرماتے ہیں: ’’ كان يعرف ويحفظ‘‘. یہ صاحبِ معرفت وحفظ تھے۔
اس کے بعد حافظ ابن عدی l دیگر ائمہ کے اقوال نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’وعبد الله بن حمدان قد قبله قوم وصدقوه، والله أعلم‘‘. اور عبد اللہ بن حمدان کو ایک جماعت نے قبول کیا ہے، اور ان کی تصدیق کی ہے۔
حافظ دار قطنی l فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث‘‘[14]. وہ حدیث گھڑتا ہے۔
نیز حافظ دار قطنیl ’’الضعفاء والمتروكون‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’حدثونا عنه، [متروك]‘‘. محدثین نے ہمیں ان سے حدیث بیان کی ہے، یہ متروک ہے۔
حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[16] میں حافظ ابن عدی l اور حافظ دار قطنی l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ خلیلی l ’’ الإرشاد‘‘[17] میں فرماتے ہیں: ’’حافظ، مشهور، ارتحل إلى العراقين، وإلى الجبل، والري، وإلى الشام، ومصر، لكنه يخالف في بعض ما يرويه‘‘. حافظ ہے، مشہور ہے، اس نے عراقَیْن، جبل، ری، شام، مصر کی جانب اسفار کئے ہیں، لیکن اس کی بعض مرویات میں ان کی مخالفت کی گئی ہے۔
حافظ مزی l نے ’’تهذيب الكمال‘‘[18] میں احمد بن سعید بن بشر کے ترجمہ میں عبد اللہ بن محمد بن وہب دینوری کو ’’أحد الضعفاء‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’سير أعلام النبلاء‘‘[19] میں فرماتےہیں: ’’وما عرفت له متنا يتهم به، فأذكره، أما في تركيب الإسناد، فلعله‘‘. میں ایسا کوئی متن نہیں پہچانتا جس کی وجہ سے اس کو متہم قرار دوں، اور اس متن کو ذکر کروں، البتہ یہ سند جوڑنے والوں میں ہوسکتا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[20] اور ’’ المغني في الضعفاء‘‘[21] میں لکھتے ہیں: ’’قال الدارقطني: متروك‘‘. دار قطنی l نے اسے متروک کہا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[22] میں عبد اللہ بن محمد بن وہب کو ’’متہم‘‘ قرار دیا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے’’الكشف الحثيث‘‘[23] میں حافظ دار قطنی lکے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[24] میں عبد اللہ بن محمد بن وہب دینوری کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ابن عدی l اور حافظ دار قطنی l کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
حوالہ جات
[5] انظر ميزان الاعتدال:۲/494،رقم:4566،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[6] انظر لسان الميزان:۴/467،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[7] الکامل فی الضعفاء:5/296،رقم:1106،ت:محمد أنس مصطفى،دار الرسالة العالمية ـ دمشق،الطبعة الأولى1433هـ .
[8] حافظ سمعانی l ، علامہ شہاب الدین یاقوت بن عبد اللہ حموی l اور حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ان کا لقب ’’ابن کدو‘‘ کے بجائے ’’ کدو‘‘ ذکر کیا ہے۔ انظر: الأنساب:10/389،رقم:3213،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى۱397هـ . وانظر معجم البلدان:4/331،دار صادر ـ بيروت،الطبعة1397هـ . وانظر نزهة الألباب في الألقاب:۲/116،رقم:2357،ت:عبد العزيز محمد بن صالح السديري،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .
[9] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:2/627،رقم:367،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى 1409هـ .
[10] تاريخ بغداد:2/300،رقم:336،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[11] انظر تاريخ مدينة دمشق:32/376،رقم:3540،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[12] انظر تاريخ مدينة دمشق:32/374،رقم:3540،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[13] الکامل فی الضعفاء:5/439،رقم:1103،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[14] سؤالات السلمي للدارقطني:ص:209،رقم:216،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبد الرحمن الجريسى،مكتبة الملك فهد الوطنية ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .
[15] الضعفاء والمتروکون:ص:267،رقم:326،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[16] الضعفاء والمتروکین:۲/۱۲۰،رقم:۲۰۱۲،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[17] الإرشاد:2/627،رقم:367،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1409هـ .
[18] تهذيب الكمال:1/313،رقم:38،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴07هـ .
[19] سير أعلام النبلاء:14/401،رقم:218،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثالثة1405هـ
[20] ديوان الضعفاء:ص:228،رقم:2302،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة .
[21] المغني في الضعفاء:1/566،رقم:3346،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[22] ميزان الاعتدال:۲/4۱۲،رقم:۴۲۸۱،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[23] الكشف الحثيث:ص:15۸،رقم:407،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[24] تنزيه الشريعة:1/75، رقم:95،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .