التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو حمزہ ثابت بن دینار ابی صفیہ ثُمالی مولی المہلب ازدی کوفی

المتوفی ۱۴۸ھایک روایت میں تذکرہ

ابو حمزہ ثابت بن دینار ابی صفیہ ثُمالی مولی المہلب ازدی کوفی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو حمزہ ثابت بن دینار ابی صفیہ ثُمالی مولی المہلب ازدی کوفی (المتوفی ۱۴۸ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابو عبید آجری l’’سؤالات أبي عبيد‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’سمعت أبا داود، ذكر أبا حمزة الثمالي، فقال: جاءه ابن المبارك، فدفع إليه صحيفة فيها حديث سوء في عثمان، فرد الصحيفة على الجارية، وقال: قولي له: قبحك الله وقبح صحيفتك‘‘. میں نے ابو داود l سے سنا: انہوں نے ابو حمزہ ثمالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابن مبارک l ثمالی کے پاس آئے، ثمالی نے ان کو ایسا صحیفہ دیا جس میں عثمان r پر مذمت کی حدیث تھی، عبد اللہ بن مبارک l نے وہ صحیفہ باندی کو لوٹایا، اور یہ فرمایا کہ تو ثمالی سے کہہ دے: اللہ تعالی تیرا اور تیرے صحیفہ کا برا کرے۔

علامہ محمد بن زیاد بن معروف l فرماتے ہیں: ’’سمعت عبيد الله بن موسى يذكر أنهم كانوا عند أبي حمزة الثمالي، فحضره ابن المبارك، فذكر أبو حمزة حديثا في عثمان أو، قال: نال من عثمان، فقام ابن المبارك فأخذ كتابه فمزقه، ثم نهض ومضى‘‘[26]. میں نے عبید اللہ بن موسی کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا  کہ وہ ابو حمزہ ثمالی کے پاس تھے، ابن مبارک l ثمالی کے پاس آئے، تو ابو حمزہ ثمالی نے عثمان r  کے بارے میں کوئی بات کہی، یا یہ کہا کہ عثمان r کا برائی سے تذکرہ کیا، تو عبد اللہ بن مبارک l کھڑے ہوئے، اس کی کتاب کو لیا اور ٹکڑے ٹکڑے کردیا، پھر اٹھے اور چل پڑے۔

علامہ ابو حفص عمر بن حفص بن غیاث l فرماتے ہیں: ’’ترك أبي حديث أبي حمزة الثمالي‘‘[27]. میرے والد نے ابو حمزہ ثمالی کی حدیث کو ترک کردیا تھا۔

امام یزید بن ہارون واسطی l فرماتے ہیں: ’’ سمعت أبا حمزة يؤمن بالرجعة‘‘[28]. میں نے ابو حمزہ کو سنا وہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا۔

حافظ ابن سعدl ’’الطبقات ‘‘[29] میں فرماتے ہیں:  ’’وكان ضعيفا‘‘. اور یہ ضعیف تھا۔

حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں: ’’أبو حمزة الثمالي ضعيف الحديث‘‘[30]. ابو حمزہ ثمالی ضعیف الحدیث ہے۔

حافظ یحیی بن معینl ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’وأبو حمزة الثمالي ليس بشيء‘‘[31]. ابو حمزہ ثمالی ’’لیس بشیء‘‘  ہے۔

حافظ عباس دوری l فرماتے ہیں: ’’سمعت يحيى يقول: أبو حمزة صاحب إبراهيم اسمه ميمون، وأبو حمزة الثمالي ثابت، قلت: أيهما أحب إليك؟ قال: لاذا ولا ذاك‘‘[32]. میں نے یحیی l  کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابو حمزہ صاحبِ ابراہیم کا نام میمون ہے، اور ابو حمزہ ثمالی، ثابت ہے، میں نے کہا: ان دونوں میں سے آپ کو کونسا پسند ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہ یہ نہ وہ۔

حافظ ابو موسی محمد بن مثنی عنزی l فرماتے ہیں: ’’ما سمعت يحيى يحدث عن أبي حمزة الثمالي شيئا قط، وما سمعت عبد الرحمن يحدث عنه شيئا قط‘‘[33]. میں نے کبھی بھی یحیی l کو ابو حمزہ ثمالی سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، اور میں نے عبد الرحمن (یعنی ابن مہدیl) کو بھی ان سے روایت کرتے ہوئے نہیں سنا۔

امام احمد بن حنبلl فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث، ليس بشيء‘‘[34]. ثابت ثمالی ’’ضعیف الحدیث، لیس بشیء‘‘  ہے۔

حافظ عمرو بن علی فلاس l نے ابو حمزہ ثمالی کو ’’ليس بثقة‘‘[35] کہا ہے۔

حافظ مغلطائی l ’’إكمال تهذيب الكمال‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’وذكره البرقي في باب من ينسب إلى الضعف ممن حمل بعض أهل الحديث روايته وتركها بعضهم‘‘. اور برقی l نے اسے اس باب میں ذکر کیا ہے: ضعف کی جانب منسوب وہ لوگ جن کی روایات کا بعض نے تحمل کیا ہے، اور بعض نے ان کو ترک کردیا ہے۔

امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[37] میں ثابت ثمالی کا ترجمہ قائم  کرکے سکوت فرمایا ہے۔

امام بخاری l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’وهو عندي مقارب الحديث، ليس له كبير حديث‘‘[38]. وہ میرے نزدیک مقارب الحدیث ہے، اور اس کی حدیثیں زیادہ نہیں ہیں۔

حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l نے ’’أحوال الرجال‘‘[39] میں ابو حمزہ ثمالی کو ’’واهي الحديث‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابو زرعہ رازیl نے ابو حمزہ ثمالی کو ’’ كوفي، لين‘‘ کہا ہے[40]۔

حافظ ابو زرعہ رازیl نے ایک دوسرے مقام پر ابو حمزہ ثمالی کو ’’واهي الحديث‘‘ کہا ہے[41]۔

حافظ ابن ابی حاتم l ’’الجرح والتعدیل‘‘[42] میں فرماتے ہیں: ’’سمعت أبى يقول: أبو حمزة الثمالي: لين الحديث، يكتب حديثه، ولا يحتج به‘‘. میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا: ابو حمزہ ثمالی لین الحدیث ہے، اس کی حدیث لکھی جائے گی، اور اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوِی l ’’المعرفة والتاريخ‘‘[43] میں فرماتے ہیں:  ’’الوليد بن أبي ثور وأبو حمزة الثمالي ضعيفان‘‘. ولید بن ابی ثور اور ابو حمزہ ثمالی دونوں ضعیف ہیں۔

حافظ علی بن حسین بن جنید l نے ابو حمزہ ثمالی کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[44]۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[45]میں نے ابو حمزہ ثمالی کو ’’ ليس بالقوي‘‘ کہا ہے۔

حافظ مغلطائی l’’إكمال تهذيب الكمال‘‘[46] میں فرماتے ہیں: ’’وفي كتاب أبي بشر الدولابي: ابن أبي صفية ليس بثقة‘‘. ابو بشر دولابی کی کتاب میں ہے: ابن ابی صفیہ ’’لیس بثقہ‘‘ ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[47] میں فرماتے ہیں:’’ كثير الوهم في الأخبار حتى خرج عن حد الاحتجاج به إذا انفرد مع غلوم [ كذا في الأصل، والصحيح: غلوه] في تشيعه‘‘. اخبار میں کثیر الوہم تھا، یہاں تک کہ جب وہ منفرد ہو تو احتجاج کی حد سے بھی نکل جاتا ہے، ساتھ ساتھ وہ تشیع میں بھی غلو کرنے والا تھا۔

حافظ ابن عدی l  ’’الكامل‘‘[48] میں فرماتے ہیں: ’’ولأبي حمزة هذا أحاديث، وضعفه بين على رواياته، وهو إلى الضعف أقرب‘‘. اس ابو حمزہ کی یہ احادیث ہیں، اس کا ضعف اس کی روایات میں واضح ہے، اور وہ ضعف کے زیادہ قریب ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم l ’’المستدك‘‘[49] میں ایک موقوف روایت تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’هذا حديث صحيح الإسناد، فإن أبا حمزة الثمالي لم ينقم عليه إلا الغلو في مذهبه فقط‘‘. یہ حدیث ’’صحیح الاسناد‘‘ ہے، کیونکہ (سند کے راوی) ابو حمزہ ثُمالی پر فقط اپنے مذہب میں غلو کی وجہ سے جرح کی گئی ہے۔

حافظ ابو احمدحاکم l ’’الأسامي‘‘[50] میں فرماتے ہیں:  ’’ ليس بالقوي عندهم‘‘. ابو حمزہ ثمالی محدثین کے نزدیک لیس بالقوی ہے۔

حافظ دار قطنیl نے ثمالی کو ضعیف ومتروک راویوں میں ذکر کیا ہے[51]۔

حافظ دارقطنیl نے ایک دوسرے مقام پر ابو حمزہ ثمالی کو ’’متروك‘‘ کہا ہے[52]۔

حافظ ابن عبد البر l فرماتے ہیں: ’’ ليس بالمتين عندهم، في حديثه لين‘‘[53]. ثمالی محدثین کے نزدیک متین نہیں ہے، اس کی حدیث میں لین ہے۔

حافظ ذہبی l  ’’ميزان الاعتدال‘‘[54] میں فرماتے ہیں:  ’’وعده السليماني في قوم من الرافضة‘‘.سلیمانی نے اسے روافض کے ایک گروہ میں سے شمار کیا ہے۔

حافظ ذہبی l  ’’ديوان الضعفاء‘‘[55] میں فرماتے ہیں:  ’’متفق على ضعفه‘‘. ثمالی کے ضعف پر اتفاق ہے۔

نیز حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘[56] میں ابو حمزہ ثمالی کو ’’واه جدا‘‘ کہا ہے۔

حافظ ذہبیl ’’ الكاشف‘‘[57] میں فرماتے ہیں: ’’خلق ضعفوه‘‘. ایک خلقت اسے ضعیف قرار دے چکی ہے۔

حافظ ابن حجرl  ’’تقريب التهذيب‘‘[58] میں فرماتے ہیں:  ’’ضعيف، رافضي ....‘‘.ثمالی  ضعیف اور رافضی تھا۔۔۔‘‘۔

حوالہ جات

[25]  سؤالات أبي عبيد الآجري:1/180،رقم:116،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[26]  الکامل فی الضعفاء:2/2۷۴،رقم:31۲،ت:محمد أنس مصطفى،دار الرسالة العالمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1433هـ .

[27]  الجرح والتعديل:۲/۴۵۱،رقم:۱۸۱۳،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .

[28]  الضعفاء الكبير:۱/۱۷۲،رقم:۲۱۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۸هـ .

[29]  الطبقات الكبرى:6/345،رقم:2615،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .

[30]  معرفة الرجال عن يحيي بن معين برواية ابن محرز:۱/۶۹،رقم:۱۴۹،ت:محمد كامل القصار،مجمع اللغة العربية ـ دمشق، الطبعة1405هـ .

[31]  تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/۲۰۵،رقم:۱۳۳۵،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[32]  التاريخ ليحيى بن معين:3/546،رقم:26۶8،ت:أحمد محمد نور سيف،جامعة الملك عبد العزيز ـ مكة المكرمة،الطبعة الأولى1399هـ .

[33]  الضعفاء الكبير:۱/۱۷۲،رقم:۲۱۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .

[34]  العلل ومعرفة الرجال:۳/۹۶،رقم:۵۳۵۶،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .

[35]  انظر إكمال تهذيب الكمال:3/73،رقم:851 ،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[36]  إكمال تهذيب الكمال:3/7۲،رقم:851 ،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[37]  التاريخ الكبير:۲/۱۴۷،رقم:۲۰۷۳،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثاني1429هـ .

[38]  العلل الكبير للترمذي:1/305 ،ت:صبحي السامرائي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى1409هـ .

[39]  أحوال الرجال:ص:104،رقم:85 ،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث أكادمي ـ فيصل آباد ـ باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .

[40]  الجرح التعديل:1/451،رقم:1813،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .

[41]  سؤالات البرذعي:ص:158،رقم:221،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .

[42]  الجرح والتعدیل:۲/۴۵۱،رقم:۱۸۱۳،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[43]  المعرفة والتاريخ:3/۵۶،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .

[44]  انظر إكمال تهذيب الكمال:3/73،رقم:851 ،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[45]  الضعفاء والمتروكين:ص:1۶2،رقم:93،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[46]  إكمال تهذيب الكمال: 3/7۲،رقم:851 ،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[47]  المجروحين:1/۲06،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[48]  الكامل في الضعفاء:۲/۲۹۵،رقم:۳۱۱،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[49]  المستدرك على الصحيحين:۲/۵۶۵،رقم:۳۹۱۷،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1422هـ .

[50]  الأسامي والكنى:2/403،رقم:1899،ت:أبي عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ . 

[51]  الضعفاء والمتروکون:ص:16۲،رقم:139،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[52]  سؤالات البرقاني للدارقطني:ص:20،رقم:64،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،كتب خانه جميلي ـ لاهور ـ باكستان،الطبعة الأولى1404هـ .

[53]  انظر إكمال تهذيب الكمال:3/7۲،رقم:851 ،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[54]  ميزان الاعتدال:۱/۳۶۳،رقم:۱۳۵۸،ت:علی محمد البجاوی، دار المعرفة ـ بيروت .

[55]  ديوان الضعفاء:ص:۵۶،رقم:۶۸۴،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[56]  المغني في الضعفاء:۱/188،رقم:1036،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .

[57]  الكاشف:۱/۲۸۲،رقم:۶۸۷،ت:محمد عوامة،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جدة،الطبعة۱۴۱۳هـ .

[58]  تقريب التهذيب:ص:۳۴۰،رقم:۳۸۶۵،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ