اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت:حدیث عَطَّارَہ حولاء، جس میں حاملہ عورت کی فضیلت،بیوی سےبوس وکنار، ہمبستری اور غسل جنابت کی فضیلت،نیز گھرکے سامان کو سلیقہ سے رکھنے کی فضیلت کو ذکر کیا گیا ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)سند میں موجود راوی ابو عمار زیادبن میمون بصری ثقفی فَاکِہِیْ(المتوفی مابین 150 – 160ھ[18])کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
امام بخاریl ’’التاریخ الکبیر‘‘[19] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه، قال علي بن نصر: أخبرنا بشر بن عمر,سألت زياد بن ميمون أبا عمارة,عن حديث رواه عن أنس، فقال: ويحكم احسبوا كنت يهوديا أو نصرانيا أو مجوسيا، قد رجعت عماكنت أحدث به عن أنس، لم أسمع من أنس شيئا‘‘.
زیاد بن میمون کو ائمہ نے ترک کردیاتھا،علی بن نصر فرماتے ہیں کہ ہمیں بشر بن عمر نے بتایا کہ میں نے زیاد بن میمون ابو عمار ہ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا، جو انہوں نے انسr سے روایت کی ہے، اس پر زیاد نے کہا: تمہارا ناس ہو، تم یہ سمجھ لو کہ میں یہودی تھا،یا نصرانی یا مجوسی تھا،جو روایتیں میں انسr سے روایت کرتاتھا،ان سے میں نے رجوع کرلیا ہے، میں نے انسr سے کچھ نہیں سنا۔
یہی کلام امام بخاری l نے ’’التاريخ الصغير‘‘[20] میں بھی ذکر کیا ہے۔
نیز امام بخاری l ’’الضعفاء‘‘[21] میں میمون بن زیاد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’صاحب الفاكهة، سمع أنسا، تركوه‘‘. یہ صاحب فاکہہ ہے، اس نے حضرت انسr سے سنا ہے، ائمہ نے اس سے روایت کرنے کو ترک کردیا تھا۔
امام مسلم l اپنی ’’صحیح‘‘[22] کے مقدمہ میں فرماتے ہیں: ’’وحدثنا الحسن الحُلْوَاني، قال: سمعت يزيد بن هارون، وذكر زياد بن ميمون، فقال: حلفت ألا أروي عنه شيئا، ولا عن خالد بن مَحْدُوْج، وقال: لقيت زياد بن ميمون، فسألته عن حديث، فحدثني به عن بكر المُزَنِي، ثم عدت إليه، فحدثني به عن مُوَرِّق، ثم عدت إليه، فحدثني به عن الحسن، وكان ينسبهما إلى الكذب،,قال الحُلْوَانِي: سمعت عبد الصمد، وذكرت عنده زياد بن ميمون، فنسبه إلى الكذب‘‘.
’’۔۔۔یزید بن ہارون نے زیاد کے بارے میں قسم کھا کر فرمایا کہ میں زیاد بن میمون سے روایت نہیں کروں گا، اورنہ ہی خالد بن مَحْدُوْج سے روایت کروں گا، اور فرمایا: میں نے زیاد بن میمون سے ملاقات کی تو میں نے ان سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا، تو وہ حدیث زیاد نے مجھ سے بکر مُزَنِیْ کے واسطہ سےروایت کی،پھر دوبارہ میں ان کے پاس آیا تو وہی روایت اس نے مجھ سے مُوَرِّق کے واسطہ سے نقل کی،پھر دوبارہ جب میں ان کے پاس آیا تو وہی روایت اس نے مجھ سے حسن کے واسطہ سے نقل کی، حُلْوَانی فرماتے ہیں کہ زیاد بن میمون اور خالد بن مَحْدُوْج کویزید بن ہارون کذب کی طرف منسوب کرتے تھے، حُلْوَانِیْ فرماتے ہیں جب میں نے عبدالصمد کے سامنے زیاد کا ذکر کیا ،توانہوں نے زیاد کو کذب کی طرف منسوب کیا‘‘۔
امام مسلم l ہی نے ’’الكنى‘‘[23] میں زیاد بن میمون کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ يزيد بن ہارونl فرماتے ہیں: ’’تركت أحاديث زياد بن ميمون، وكان كذابا، قد استبان لي كذبه‘‘[24].میں نے زیاد بن میمون کی احادیث کو ترک کردیا ہے، اوروہ کذاب تھا، اس کا جھوٹ میرے سامنے واضح ہوگیا تھا۔
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’حديث زياد أبي عمار ليس بشيء‘‘[25]. زیادابو عمار کی حديث ليس بشیء ہے۔
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’ كان يقال: إنه كذاب، ترك حديثه‘‘[26]. کہا جاتا تھا کہ یہ جھوٹا ہے، اس کی حدیثیں ترک کردی گئی تھیں۔
حافظ ابو زرعہl نے زیاد بن میمون کو ’’واهي الحديث‘‘ کہا ہے[27]۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[28] میں زیاد بن میمون کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو داؤدطیالسی l فرماتے ہیں: ’’ أتينا زياد بن ميمون، فسمعته يقول: أستغفر الله، وضعت هذه الأحاديث‘‘[29].ہم زیاد بن میمون کے پاس آئے، تو میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا:استغفر اللہ میں نے یہ احادیث گھڑی ہیں‘‘۔
حافظ عقیلی l ’’الضعفاء الكبير‘‘[30] میں فرماتے ہیں: ’’حدثنا محمد، قال: حدثنا الحسن، قال: سمعت عبد الصمد، وذكر عنده زياد بن ميمون، فقال: إني أخاف أن أكون قد أیمت [كذا في الأصل، وفي بعض المخطوطات: أثمت[31] ] في ذكره حين ذكرته، ونسبه إلى الكذب‘‘.
’’۔۔۔عبدالصمد کے سامنے جب زیاد بن میمون کا تذکرہ کیا گیا ،تو عبدالصمد نے فرمایا:مجھے اس بات کا خوف ہے کہ میں زیاد کا تذکرہ کرتے ہوئے گناہ گار ہوجاؤں گا،اور انہوں نے زیاد کو کذب کی طرف منسوب کیا‘‘۔
حافظ عقيلیl بذات خود اس زیاد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وزياد بن ميمون يكذب‘‘[32].زیادبن میمون جھوٹ بولتا ہے۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[33] میں فرماتے ہیں: ’’ كان يروي عن أنس، ولم يره، ولا سمع منه شيئا، وهو صاحب حديثه الطويل في قصة الجماع‘‘.زیادحضرت انسr سے روایت کرتا تھا، حالانکہ زیاد نے حضرت انسr کو نہ دیکھا تھا،اور نہ ہی ان سے کچھ سناتھا،اور جماع سے متعلق ایک لمبی حدیث روایت کرنے والا بھی یہی زیاد ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[34] میں زیاد بن میمون کی چند روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولزياد أبي عمار غير ما ذكرت من الحديث عن أنس، ولا أعرف له عن غير أنس، وأحاديثه مقدار ما يرويه لا يتابعه أحد عليه‘‘. زیاد ابو عمار کی اس کے علاوہ بھی حضرت انس r سے روایات ہیں، اور میں حضرت انس r کے علاوہ سے اس کی روایات کو نہیں جانتا، اور زیاد بن میمون کی جتنی مرویات ہیں اس میں کوئی ان کی متابعت کرنے والا نہیں ہے۔
حافظ دارقطنی l نے زیاد بن میمون كو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے[35]۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’الضعفاء‘‘[36] میں زیاد بن میمون کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’صاحب الفاكهة، سمع أنس بن مالك، متروك‘‘. یہ صاحبِ فاکہہ ہے، اس نے انس بن مالک r سے سنا ہے، یہ متروک ہے۔
حافظ خلیلیl ’’الإرشاد‘‘[37] میں ایک مقام پر زیاد بن میمون کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’والحمل فيه على زياد، لأنه يروي عن أنس المناكير التي لا يتابع عليها‘‘. اس میں ذمہ داری زیاد پر ہے، کیوں کہ وہ انس r سے ایسی مناکیر نقل کرتا ہے، جس میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
حافظ ذہبی l ’’ديوان الضعفاء‘‘[38] میں لکھتے ہیں: ’’هالك، اعترف بالكذب‘‘.یہ ہالک ہے، اس نے خود جھوٹ کا اعتراف کیا ہے۔
حافظ علائیl ’’جامع التحصيل‘‘[39] میں لکھتے ہیں: ’’زياد بن ميمون أحد الضعفاء المتروكين، روى عن أنس، وأقر لعبد الرحمن بن مهدي وأبي داود الطيالسي أنه لم يسمع منه، ولا فائدة في ذكره هنا، لأنه كذاب، وضع أحاديث كثيرة، وإنما ذكرتها تبعا لابن أبي حاتم‘‘. زیاد بن میمون ضعفاء متروکین میں سے ایک ہے، انس r سے روایت نقل کرتا ہے، حالانکہ اس نے عبد الرحمن بن مہدیl اور ابو داود طیالسیl کے سامنے اقرار کیا ہے کہ اس نے انس r سے نہیں سنا، اور یہاں اس کے ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیوں کہ یہ جھوٹا ہے، اس نے بہت سی حدیثیں گھڑی ہیں، اور میں نے صرف ابن ابی حاتمl کی اتباع میں اسے ذکر کردیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’المطالب العالية‘‘[40] میں زیاد بن میمون کو ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمیl ’’الکشف الحثیث‘‘[41] میں زیاد بن میمون کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’ويقال له زياد أبو عمار البصري، وزياد بن أبي عمار، وزياد بن أبي حسان، يدلسونه لئلا يعرف في الحال، وقال أبو داود: أتيته فقال: أستغفر الله، وضعت هذه الأحاديث‘‘.
اور اس کو زیاد ابو عمار بصری، زیاد بن ابو عماراور زیاد بن ابو حسان کہا جاتا ہے، لوگ اس کے نام میں تدلیس کرتے ہیں تاکہ اس کا حال معلوم نہ ہوسکے، اور ابو داؤدl فرماتے ہیں: میں اس کے پاس آیا تو اس نے کہا: استغفر اللہ میں نے یہ احادیث گھڑی ہیں۔
علامہ ابن عراقl ’’تنزيه الشریعة‘‘[42] میں زیاد بن میمون ثقفی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’ويقال له زياد بن أبي حسان، وزياد ابن أبي عمار، وزياد أبو عمار، هالك، اعترف بالكذب‘‘. اور اس کو زیاد بن ابو حسان، زیاد بن ابو عمار اور زیاد ابو عمار بھی کہا جاتا ہے، یہ ہالک ہے، اس نے خود جھوٹ کا اعتراف کیا ہے۔
حوالہ جات
[18] امام بخاری l نے ’’التاریخ الصغیر‘‘ میں زیاد بن میمون کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 150 اور 160ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/104،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ).
[19] التاريخ الكبير:۳/313،رقم:4146،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[20]التاريخ الصغير:2/136،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[21] الضعفاء الصغير:ص:49،رقم:124،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[22] صحيح مسلم:۱/۲۴،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .
[23] الكنى والأسماء:۱/587،رقم:2394،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[24] الجرح والتعديل:3/544،رقم:2458،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[25] تاریخ یحیي بن معین رواية الدوري:4/95،رقم:3325،ت:أحمد محمد نور سيف،جامعة الملك عبد العزيز ـ مكة المكرمة،الطبعة الأولى1399هـ .
[26] الجرح والتعديل:3/ 545 ،رقم:2458،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[27] سؤالات البرذعی:ص:222،رقم:389،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .
[28] الضعفاء والمتروکین: 107،رقم:222،ت:عبد العزيز عزالدين السيروان،دار القلم ـ بيروت،الطبعة الأولى 1405هـ..
[29] الضعفاء الكبير:۲/۷۷،رقم:۵۲۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دارالکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[30] الضعفاء الكبير:۲/۷۷،رقم:۵۲۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دارالکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[31] الضعفاء الكبير مخطوط:مكان وجودها من المكتبة العثمانية بطولقة بسكرة الجزائر، نشرها جمال عزون الجزائري .
[32] الضعفاء الكبير:۱/۹۸،رقم:۱۱۳،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[33] المجروحين:۱/۳۰۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[34] الكامل في الضعفاء:۴/۱۲۹،رقم:۶۸۶،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[35] ميزان الاعتدال:2/94،رقم:2967،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[36] الضعفاء لأبي نعيم:ص:83 ،رقم:74،ت:فاروق حمادة،مطبعة النجاح الجديدة .
[37] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:2/664،رقم:۴۲۰،ت:محمد سعید بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .
[38] ديوان الضعفا:ص:149،رقم:1510،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة.
[39] جامع التحصیل:ص:178،رقم:208،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الثانية1407هـ .
[40] المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية:5/709،رقم:981،ت:باسم بن طاهر خليل،دار العاصمة ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .
[41] الکشف الحثیث:ص:121،رقم:299،ت:صبحي السامرائي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[42] تنزيه الشريعة:1/61،رقم:16،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلميةـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .