روایت: آپﷺ کی موجودگی میں پیالے میں موجود ثرید کا تسبیح کرنا، اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا اسے سننا، پھر درخواست کی گئی کہ سب ہی لوگوں کو سنوایا جائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اگر کسی کو ان میں سے سنائی نہ دے تو لوگ سمجھیں گے کہ یہ گناہ گار ہے۔
حکم: شدید ضعیف ہے، بیان نہیں کرسکتے، تاہم یہ مضمون ثابت ہے کہ عبد اللہ بن مسعودr فرماتے ہیں: ہم کھانا کھاتے ہوئے تسبیح سنا کرتے تھے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] كتاب العظمة:5/1726،رقم:1192،ت:رضاء الله بن محمد إدريس،دار العاصمة ـ الرياض .
[2] امام بخاری l نے ’’التاریخ الصغیر‘‘ میں زیاد بن میمون کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 150 اور 160ھ کے درمیان ہوا ہے (التاريخ الصغير:2/104،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ).
[3] التاريخ الكبير:۳/313،رقم:4146،ت:مصطفى عبد القادر،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[4] التاريخ الصغير:2/136،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[5] الضعفاء الصغير:ص:49،رقم:124،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .
[6] صحيح مسلم:۱/۲۴،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .
[7] الكنى والأسماء:۱/587،رقم:2394،ت:عبد الرحيم محمد أحمد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[8] الجرح والتعديل:3/544،رقم:2458،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[9] تاریخ یحیي بن معین رواية الدوري:4/95،رقم:3325،ت:أحمد محمد نور سيف،جامعة الملك عبد العزيز ـ مكة المكرمة،الطبعة الأولى1399هـ .
[10] الجرح والتعديل:3/545،رقم:2458،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷1هـ .
[11] سؤالات البرذعی:ص:222،رقم:389،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1430هـ .
[12] الضعفاء والمتروكين:ص:۱۸۱،رقم:۲۲۲،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[13] الضعفاء الكبير:۲/۷۷،رقم:۵۲۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[14] الضعفاء الكبير:۲/۷۷،رقم:۵۲۶،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[15] الضعفاء الكبير مخطوط:مكان وجودها من المكتبة العثمانية بطولقة بسكرة الجزائر، نشرها جمال عزون الجزائري .
والضعفاء الكبير مخطوط:مكتبة الأستاذ الدكتور محمد بن تركي التركي،ص:129.
[16] الضعفاء الكبير:۱/۹۸،رقم:۱۱۳،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[17] المجروحين:۱/۳۰۵،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[18] الكامل في الضعفاء:۴/۱۲۹،رقم:۶۸۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلميةـ بيروت .
[19] ميزان الاعتدال:2/94،رقم:2967،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[20] المسند المستخرج على صحيح مسلم:ص:66،رقم:76،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[21] الإرشاد في معرفة علماء الحديث:2/664،رقم:۴۲۰،ت:محمد سعید بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .
[22] ديوان الضعفا:ص:149،رقم:1510،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة.
[23] جامع التحصيل:ص:178،رقم:208،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الثانية1407هـ .
[24] المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية:5/709،رقم:981،ت:باسم بن طاهر خليل عناية،دار العاصمة ـ الرياض،الطبعة الأولى1419هـ .
[25] الکشف الحثیث:ص:121،رقم:299،ت:صبحي السامرائي،عالم الكتب ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .
[26] تنزيه الشريعة:1/61،رقم:16،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[27] صحيح البخاري:4/194،ت:محمد زهير بن ناصر الناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ قالوا: ما لنا منها؟ قال: بكل شعرة حسنة، قالوا: يا رسول الله! فالصوف؟ قال: بكل شعرة من الصوف حسنة‘‘. صحابہ رضی اللہ عنہمنے عرض کیا: ہمارے لئے اس قربانی میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہمنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اون کے بدلہ میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے۔
روایت: رسول اللہ ﷺ کے ذمہ ایک یہودی کا قرض، آپ ﷺ کا یہودی سے مہلت طلب کرنا، اور اس یہودی کا آپ ﷺ کو اپنے پاس قرض کی ادائیگی تک روکے رکھنا مہلت نہ دینا، اور آپ ﷺ کا اسی جگہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے روز صبح کی نماز بھی وہیں ادا کرنا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر رنج کا اظہار کرنا، آخر کار یہودی کا اسلام قبول کرنا۔
روایت: ’’سورۂ یاسین کا نام تورات میں معمہ ہے کہ اپنے پڑھنے والے کےلئے دنیا وآخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہے، اور یہ دنیا وآخرت کی مصیبت کو دور کرتی ہے، اور آخرت کی ہَول کو دور کرتی ہے، اس سورت کا نام رافعہ خافضہ بھی ہے یعنی مؤمنوں کے رتبے بلند کرنے والی اور کافروں کو پست کرنے والی‘‘۔
نیز اس میں یہ مضمون بھی ہے: ’’سورۂ یاسین کا سننا اللہ کے راستے میں بیس دینار خرچ کرنے کے برابر ہے، اور اس کا پڑھنا بیس حج کرنے کے برابر ہے، جس نے سورۂ یاسین لکھ کر اس کا پانی پی لیاتو یہ پڑھنے والے کے سینے میں ہزار یقین، ہزار نور، ہزار برکتیں، ہزار رحمتیں اور ہزار رزق داخل کرے گی، اور یہ سورت اس سے ہر قسم کی کھوٹ اور بیماری نکال دے گی‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت والے جنت میں بھی علماء کے محتاج ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنتی ہر جمعہ کو اللہ کی زیارت کےلئے جائیں گے،باری تعالی ان سے فرمائیں گے:جو چاہو تمنا کرو، چنانچہ جنتی علماء سے جاکر ملیں گےکہ ہم کیا تمنا کریں؟ علماء کہیں گے: تم یہ یہ تمنا کرو، آپﷺنے فرمایا: چنانچہ جنت والے جنت میں بھی ان کے ایسے ہی محتاج ہوں گے جیسے وہ دنیا میں ان کے محتاج ہیں‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: مؤمن اپنے گناہ کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا ایک پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور وہ پہاڑ اس پر گرنے لگا، اور فاجر شخص گناہ کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا ایک مکھی بیٹھی تھی اڑادی‘‘۔