التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو سہل صبّاح بن سہل بصری مدائنی واسطی

المتوفی مابین 180 – 190ھایک روایت میں تذکرہ

ابو سہل صبّاح بن سہل بصری مدائنی واسطی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود  راوی ابو سہل صبّاح بن سہل بصری مدائنی واسطی (المتوفی مابین 180 – 190ھ[43] )کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال

حافظ عثمان دارمیl ’’تاريخ عثمان‘‘[44] میں فرماتے ہیں: ’’قلت: فالصبّاح أبو سهل الواسطي، تعرفه؟ فقال: لا أعرفه‘‘.میں نے یحیی بن معین l سے پوچھا: آپ صبّاح ابوسہل واسطی کو پہچانتے ہیں؟ یحیی بن معین l نے کہا: میں صباح کو نہیں جانتا۔

حافظ ابن عدی l ’’الکامل‘‘[45] میں حافظ ابن معینl  کا یہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتےہیں: ’’وقول ابن معين لا أعرفه، لأن جميع ما يروى من الحديث لا يبلغ عشرة أحاديث، وهي أحاديث لا يتابعه أحد عليها‘‘. ابن معین l کا یہ کہنا  کہ مجھے اس کی معرفت نہیں ہے،کیوں کہ صبّاح بن سہل کی مجموعی احادیث دس تک بھی نہیں پہنچتیں، اور ان احادیث میں کسی نے اس کی متابعت بھی نہیں کی ہے۔

امام بخاریl نے ’’ التاریخ الکبیر‘‘[46]، ’’ التاریخ الصغير‘‘[47] اور ’’الضعفاء‘‘[48] میں صبّاح بن سہل کو ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے۔

امام مسلمl نے ’’الكنى والأسماء‘‘[49] میں صبَّاح بن سہل کو ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے۔

حافظ عبد الرحمن l ’’الجرح والتعديل‘‘[50] میں حافظ ابو حاتم l وحافظ ابوزرعہ رازیl کا قول نقل فرماتے ہیں: ’’هو منکر الحدیث، وسمعت أبي يقول: يكتب حديثه‘‘. وہ منکر الحدیث ہے، اور میں نے اپنے والد سے سنا کہ اس کی حدیث کو لکھا جائے گا۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[51] میں فرماتے ہیں: ’’يروي الأحاديث المناكير عن أقوام مشاهير، لا يجوز الاحتجاج بخبره، لكثرة المناكير في أخباره‘‘. صبَّاح بن سہل مشہور لوگوں سے مناکیر نقل کرتا تھا، اس کی روایت سےاحتجاج کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ ان کی روایات میں مناکیر کی کثرت ہے۔

حافظ ابو احمد حاكمl ’’الأسامي‘‘[52] میں فرماتے ہیں: ’’ ليس بالقوي عندهم‘‘. صبَّاح بن سہل محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔ 

حافظ دارقطنیl نے صبَّاح بن سہل کو ’’ضعيف‘‘  کہاہے[53]۔

حافظ ذہبی l نے صبّاح بن سہل کو ’’تلخيص الموضوعات‘‘[54] میں ’’واه‘‘، ’’ المقتنى‘‘[55] میں ’’ ليس بالقوي‘‘ اور ’’ديوان الضعفاء‘‘[56] میں ’’ضعفوه‘‘  کہا ہے۔

حوالہ جات

[43] امام بخاری l نے ’’التاریخ الصغیر‘‘ میں صباح بن سہل کو ان افراد میں ذکر کیا ہے جن کا انتقال 180 اور 190ھ کے درمیان ہوا ہے(التاريخ الصغير:2/205،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ).

[44] تاریخ عثمان بن سعید الدارمي:ص:135،رقم:438،ت:أحمد محمد نور سيف،دار المأمون للتراث ـ بيروت .

[45] الكامل في الضعفاء:5/۱۳۲،رقم:۹۳۲ ،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[46] التاريخ الكبير:۴/264،رقم:5855،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[47] التاريخ الصغير:2/230،رقم:ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1406هـ .

[48] الضعفاءالصغير:ص:63،رقم:ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى1409هـ .

[49] الكنى والأسماء:1/398،رقم:1499،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى1404هـ .

[50] الجرح والتعديل:4/۴۴۲،رقم:1942،دار الكتب العلمية ـ  بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .

[51] المجروحين:۱/۳۷۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[52] الأسامي والكنى:4/40،رقم:2930،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثة ـ القاهرة،الطبعة الأولى1436هـ .

[53]  ميزان الاعتدال:2/305،رقم:3843،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .

[54] تلخيص الموضوعات:ص:۲۳۳،رقم:۵۹۲،ت:أبو تميم ياسربن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .

[55] المقتنى فی سرد الکني:ص:296،رقم:2928،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .

[56] ديوان الضعفاء:ص:193،رقم:1943،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ