اس روایت کی تحقیق سے
روایت:’’آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نعم الدواء الأرز، صحيح سليم من كل داء‘‘. چاول کتنی اچھی دواء ہے، صحیح ہے، ہر مرض سے محفوظ ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (بارہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ محمد بن قاسم بن زکریا محاربی سُوْدَانی کوفی (المتوفی ۳۲۶ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ حمزہ بن یوسف سہمی l فرماتے ہیں: ’’سألت أبا الحسن بن حماد الحافظ القرشي بالكوفة عن محمد بن القاسم بن زكريا المُحاربي؟ فقال: ليس بشيء، وهو يعرف بالسُوْدَاني، وكان ابن عقدة يدخل عليه الحديث، وكان غاليا [ كذا في الأصل]، وذكر أنه كان له ابن غال، ما كان يخرج يده من كمه، ويقول: قد صافحت به الإمام، حتى نهاه عنه ابن عمر العلوي أمير الكوفة‘‘[70]. میں نے کوفہ میں حافظ ابو الحسن بن حماد قرشی l سے محمد بن قاسم بن زکریا محاربی کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: لیس بشیء ہے، اور سُوْدَانی سے معروف ہے، اور ابن عقدہ اس پر حدیث داخل کردیتا تھا[71]، اور وہ غالی تھا، اور انہوں نے ذکر کیا کہ اس کا ایک غالی بیٹا تھا، وہ اپنی آستین سے ہاتھ نکالتا اور کہتا کہ میں نے اس سے امام سے مصافحہ کیا ہے، حتی کہ کوفہ کے امیر ابن عمر علوی نے اسے اس سے منع کیا۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان‘‘[72] میں فرماتے ہیں: ’’وقيل: كان يؤمن بالرجعة، قاله أبو الحسن بن حماد الكوفي الحافظ، وزاد فقال: ما رؤي له أصل، وقد حدث بكتاب النهي عن حسين بن نصر بن مزاحم، ولم يكن له فيه سماع‘‘. اور کہا گیا ہے کہ یہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا، یہ بات حافظ ابو الحسن بن حماد کوفی lنے کہی ہے، وہ مزید فرماتے ہیں: ان کی کوئی اصل نہیں دیکھی گئی، اور اس نے حسین بن نصر بن مزاحم کے حوالہ سے ’’کتاب النہی‘‘بیان کی ہے، حالانکہ اس میں اس کا سماع نہیں تھا۔
حافظ ابن نقطہ حنبلی l ’’تكملة‘‘[73] میں محمد بن قاسم بن زکریا کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف، يقال: إنه كان يؤمن بالرجعة‘‘. ضعیف ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[74] میں محمد بن قاسم بن زکریا کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تكلم فيه‘‘. اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[75] میں محمد بن قاسم بن زکریا کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’مشهور، ضعف، يقال: كان يرمى بالرجعة، كذاب‘‘. مشہور ہے، اس کی تضعیف کی گئی ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ رجعت میں متہم تھا، کذاب ہے۔
حافظ ابن ناصر الدین دمشقیl نے ’’توضيح المشتبة‘‘[76] میں محمد بن قاسم بن زکریا کو ’’ ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[70] سؤالات حمزة بن يوسف السهمي للدارقطني وغيره من المشايخ:ص:108،رقم:69،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى1404هـ .
[71] مذکورہ امر کو حافظ خطیب بغدادی l نے ایک دوسرے مقام پر ابو العباس ابن عُقْدہ کے ترجمہ میں ان الفاظ سے ذکر کیا ہے: ’’حدثني علي بن محمد بن نصر، قال: سمعت حمزة بن يوسف، يقول: سألت أبا الحسن محمد بن أحمد بن سفيان الحافظ بالكوفة، عن ابن عقدة، فقال: وأخبرنا أبو طاهر محمد بن محمد بن الحسين المعدل الكوفي في كتابه إلينا، قال: حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن سفيان، واللفظ لحديث حمزة، قال: دخلت إلى دهليز ابن عقدة وفيه رجل، كان مقيما عندنا، يقال له: أبو بكر البُسْتِي، وهو يكتب من أصل عتيق، حدثنا محمد بن القاسم السوداني، قال: حدثنا أبو كريب، فقلت له: أرني، فقال: قد أخذ علي بن سعيد أن لا يراه معي أحد، فرفقت به حتى أخذته منه، فإذا أصل كتاب الأشناني الأول من مسند جابر، وفيه سماعي، وخرج ابن سعيد وهو في يدي، فحرد على البُسْتِي وخاصمه، ثم التفت إلي فقال: هذا عارضنا به الأصل، فأمسكت عنه، قال ابن سفيان: وهو ذا الكتاب عندي، قال: حمزة: سمعت ابن سفيان: يقول: كان أمره أبين من هذا‘‘. (تاريخ بغداد:6/157،رقم:2634،ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ) .
[72] ميزان الاعتدال:۴/14،رقم:8073 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[73] تكملة الإكمال:3/362،رقم:3361،ت:عبد القيوم عبد رب النبي،جامعة أم القرى ـ مكة المكرمة،الطبعة الأولى1410هـ .
[74] ميزان الاعتدال:۴/۱۴،رقم:۸۰۷۳ ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[75] المغني في الضعفاء:۲/362،رقم:5912،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[76] توضيح المشتبه في ضبط أسماء الرواة وأنسابهم وألقابهم وكناهم:5/2۰۷،ت:محمد نعيم العرقسوسي، مؤسسة الرسالة ـ بيروت .