التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عبد اللہ محمد بن عامر بن رشید بن خباب رَملی

ایک روایت میں تذکرہ

ابو عبد اللہ محمد بن عامر بن رشید بن خباب رَملی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ محمد بن عامر بن رشید بن خباب رَملی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[19] میں فر ماتے ہیں: ’’يقلب الأخبار، ويروي عن الثقات ما ليس من أحاديثهم‘‘. اخبار میں قلب کرتا ہے، اور ثقات کے انتساب سے ایسی احادیث روایت کرتا ہے جو ان کی احادیث میں سے نہیں ہوتیں۔

حافظ ابن قیسرانی lنے ’’تذكرة الحفاظ‘‘[20] میں، حافظ ابن جوزی l نے ’’الضعفاء‘‘[21] میں، حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[22] ، ’’المغني‘‘[23] اور ’’ديوان الضعفاء‘‘[24] میں حافظ ابن حبانl کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

نیز حافظ ابن حبانl اسی محمد بن عامر رَملی کو ’’ثقات‘‘[25] میں ذکر کرکے فرماتے ہیں: ’’لم أر في حديثه مما في القلب منه شيء إلا حديثا واحدا‘‘. میں نے اس کی حدیث میں ایسا کچھ نہیں دیکھا جس کی وجہ سے دل میں کچھ ہو سوائے ایک حدیث کے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیl نے ’’لسان‘‘[26] میں حافظ ابن حبانl کے کلام کو ذکر کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔

حافظ ابن یونس l فرماتے ہیں: ’’هو من أهل فلسطين، يروي عن الوليد بن مسلم، وبقية بن الوليد، قدم مصر قديما وكتبت عنه، آخر من حدث عنه ابن القياس، وقد حدثنا عنه غير واحد‘‘[27]. محمد بن عامر اہل فلسطین میں سے ہے، ولید بن مسلم اور بقیہ بن ولید سے روایت کرتا ہے، یہ بہت پہلے مصر آیا تھا اور میں نے اس سے لکھا ہے، سب سے آخر میں اس سے روایت کرنے والے ابن قیاس ہیں، اور مجھ سے کئی افراد نے اس کی روایات بیان کی ہیں۔

حافظ خطیب بغدادی l نے محمد بن عامر رَملی کو ’’مجهول‘‘ کہا ہے[28]۔

علامہ سبط ابن عجمی l ’’الكشف الحثيث‘‘[29] میں محمد بن عامر خراسانی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’محمد بن عامر الرملي اضطرب فيه كلام ابن حبان في توثيقه وتجريحه، وقال الخطيب مجهول‘‘. محمد بن عامر رَملی کی توثیق اور جرح کے بارے میں ابن حبان l کے کلام میں اضطراب ہے، اور خطیب l  نے اسے مجہول کہا ہے۔

حوالہ جات

[19] المجروحين:۲/۳۰۴،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[20] تذكرة الحفاظ:ص:۹۴،رقم:۲۰۵،ت:حمدي عبد المجيد،دار الصميعي ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .

[21] الضعفاء والمتروکین:۳/۷۲،رقم:۳۰۵۰،ت:أبو الفداء عبد الله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .  

[22] ميزان الاعتدال:۳/۵۸۸،رقم:۷۷۲۱،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[23] المغني في الضعفاء:2/۳۲۳،رقم:۵۶۵۷،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار  الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة  الأولى۱۴18هـ .

[24] ديوان الضعفاء:ص:۳۵۷،رقم:۳۷۸۳،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[25] الثقات:9/۹۶،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن، الطبعةالأولى1393هـ .

[26] لسان الميزان:7/۲۲۱،رقم:۶۹۵۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .

[27] انظر الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة:8/354،رقم:9934،ت:شادي بن محمد بن سالم آل نعمان، مركز النعمان للبحوث والدراسات الإسلامية وتحقيق التراث والترجمة ـ اليمن،الطبعةالأولى1432هـ .

[28] انظر ميزان الاعتدال:۳/۵۸9،رقم:۷۷۲۱،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[29] الكشف الحثيث:ص:2۳۴،رقم:۶۸۰،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ