اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے اہل خانہ کےلئے کوئی چیز خریدے، پھر وہ اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر ان کے پاس لائے، تو اس کے ستر سال کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو جعفر محمد بن زکریا بن دینار غَلابی ضبی بصری (المتوفی ۲۹۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
حافظ عبد الباقی بن قانع lفرماتے ہیں: ’’سألت أبا يحيى الساجي عن حديث إسرائيل أبي موسى، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، لا تسأل الإمارة، فقلت: سمعته من الصلت بن مسعود؟ فقال: هذا حديث وضعه زكريا، فسرقه منه زكريا، أراد بزكريا الأول موسى بن زكريا التستري، وبالثاني محمد بن زكريا الغَلابي‘‘[12].
میں نے ابو یحیی ساجی l سے حدیث: اسرائیل بن موسی، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرہ ’’لا تسال الامارہ ‘‘ کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا: یہ آپ نے صلت بن مسعود سے سنی ہے؟ ابو یحیی ساجی l نے فرمایا کہ اس حدیث کو زکریا نے گھڑا ہے، اور اس سے زکریا نے سرقہ کیا ہے، (حافظ ابو یعلی خلیلی l فرماتے ہیں) ابو یحیی زکریا ساجی l نے پہلے زکریا سے زکریا تُسْتَرِی مراد لیا ہے، اور دوسرے سے محمد بن زکریا غَلابی مراد لیاہے۔
حافظ ابن حبانl نے محمد بن زکریا غَلابی کو ’’ثقات‘‘[13] میں ان الفاظ سے ذکر کیا ہے: ’’ كان صاحب حكايات وأخبار،,يعتبر حديثه إذا روى عن الثقات، لأنه في روايته عن المجاهيل بعض المناكير‘‘. غَلابی حکایات اور خبریں بیان کرتا تھا، اور اس کی حدیث کا اعتبار اس وقت کیا جائے گا جب یہ ثقہ سے روایت کرے، کیونکہ اس کی روایت میں مجاہیل سے بعض مناکیر منقول ہیں۔
امام دار قطنی l ’’الضعفاء‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’يضع [الحديث]‘‘. غَلابی حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ ابن جوزی l نے ’’الموضوعات‘‘[15] میں، حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘[16] اور ’’ديوان‘‘[17] میں، علامہ سیوطی l نے ’’الزيادات‘‘[18] میں، اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[19] میں امام دار قطنی l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن مندہ l فرماتے ہیں: ’’صاحب أخبار، تكلم فيه‘‘[20]. غَلابی خبریں بیان کرنے والا ہے، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
امام بیہقی l ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:’’قلت: وقد روى محمد بن زكريا الغَلابي بإسناده عن ابن عباس، عن حليمة هذه القصة بزيادات كثيرة، وهي لي مسموعة، إلا أن محمد بن زكريا هذا متهم [بالوضع] فالاقتصار على ما هو معروف عند أهل المغازي أولى، والله أعلم، ثم إني استخرت الله تعالى في إيرادها، فوقعت الخيرة على إلحاقه بما تقدمه من نقل أهل المغازي، لشهرته بين المذكورين‘‘[21]. میں کہتا ہوں: اس واقعہ کو محمد بن زکریا غَلابی نے اپنی اسناد سے عن ابن عباس q، عن حلیمہ کی سند سے کئی اضافوں کے ساتھ نقل کیا ہے، اور مجھے اس قصہ کی سماعت حاصل ہے، تاہم محمد بن زکریا متہم بالوضع ہے، چنانچہ جو اہلِ مغازی کے ہاں معروف ہے اسی پر اکتفاء اولی ہے، واللہ اعلم، پھر میں نےاس قصہ کو لانے کےلئے استخارہ کیا، مجھے گزشتہ اہلِ مغازی کی نقل کے ساتھ اس کو ملحق کرنے میں خیر محسوس ہوئی، کیونکہ یہ مذکورہ لوگوں میں شہرت یافتہ ہے۔
حافظ ناصر الدین دمشقی l نے ’’جامع الآثار‘‘[22] میں امام بیہقی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشا پوری l اپنی ’’تاریخ‘‘[23] میں ایک حدیث کی تخریج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’رواته ثقات، إلا محمد بن زكريا، وهو الغَلابي المذكور، فهو آفته‘‘. اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے محمد بن زکریا غَلابی کے، اور وہ مذکورہ غَلابی ہے، تو وہی اس کی آفت ہے۔
حافظ خلیلیl ’’الإرشاد‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’محمد بن زكريا الغَلابي وموسى بن زكريا، حافظان صاحبا أخبار وأشعار، ولهما روايات كثيرة، لكنهما ضعيفان متكلم فيهما‘‘. محمد بن زکریا غَلابی اور موسی بن زکریا دونوں حافظ، صاحب اخبار واشعار تھے، ان کی بہت زیادہ مرویات ہیں، لیکن دونوں ضعیف، متکلم فیہ تھے۔
حافظ سمعانی l ’’الأنساب‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’وسمعت بعض الحفاظ ينسبه إلى التشيع‘‘. میں نے بعض حفاظ کو سنا وہ اسے تشیع کی طرف منسوب کرتے تھے۔
حافظ عراقی l نے ’’المغنی‘‘[26] میں ایک حدیث کے تحت غَلابی کو ’’أحد الضعفاء‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عساکرl ’’تاریخ دمشق‘‘[27] میں مزاحم بن عبد الوارث کے ترجمہ میں ایک حدیث کی تخریج کر کے فرماتے ہیں: ’’غريب جدا، والغَلابي ضعيف‘‘. یہ حدیث غریب جداً ہے، اور غَلابی ضعیف ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[28] میں محمد بن زکریا غَلابی کے ترجمہ میں اسے ’’ضعیف‘‘ کہا ہے، پھر غَلابی کی ایک حدیث نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’فهذا كذب من الغَلابي‘‘. یہ غَلابی کی طرف سے جھوٹ ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[29] میں بشر بن مہران خصاف کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’قد روى عنه محمد بن زكريا الغَلابي [لكن الغَلابي] متهم‘‘. اس سے محمد بن زکریا غَلابی نے روایت کیا ہے، لیکن غَلابی متہم ہے۔
نیز حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘[30] میں ایک حدیث کے تحت غَلابی کو ’’متهم‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی lنے ’’التلخيص الحبير‘‘[31] میں محمد بن زکریا غَلابی کو ’’ضعیف جدا‘‘کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[32] میں محمد بن زکریا غَلابی کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔
حوالہ جات
[12] الإرشاد:۲/۵۲۷،رقم:۲۳۶،235،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .
[13] الثقات:9/154،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعةالأولى1393هـ .
[14] الضعفاءوالمتروكون:ص:350،رقم:483،ت:موفق بن عبد الله،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰4هـ .
[15] کتاب الموضوعات:1/38۱،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى ۱۳۸۶هـ .
[16] المغنی:2/196،رقم:5512،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[17] ديوان الضعفاء:ص:351،رقم:3712،ت:حماد بن محمدالانصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[18] ٍ الزيادات على الموضوعات:ص:286،رقم:324،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[19] تنزيه الشریعة:۱/ 105،رقم:118،ت:عبد الله الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۹۹هـ .
[20] انظر لسان الميزان:۷/۱۴۰،رقم:۶۷۹۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[21] دلائل النبوة:1/139،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثالثة1429هـ .
[22] جامع الآثار:7/274،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح للبحث العلمي،الطبعة الأولى1431هـ .
[23] انظر لسان الميزان:۷/۱۴۰،رقم:۶۷۹۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[24] الإرشاد:۲/۵۲۸،رقم:۲۳۶،235،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .
[25] الأنساب:۱۰/9۵،رقم:۲۹۳۹،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى ۱397هـ .
[26] المغنی عن حمل الأسفار:2/772،رقم:2839،ت:أبو محمد أشرف،مکتبة طبرية ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[27] تاريخ دمشق:57/373،رقم:7346،ت:عمر بن غرامة العمروي،دار الفکر ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱8هـ .
[28] ميزان الاعتدال:۳/۵۵۰،رقم:۷۵۳۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[29] ميزان الاعتدال:۱/۳۲۵،رقم:۱۲۲۴،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[30] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۱۴۷،رقم:۳۲۰،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[31] تلخيص الحبير:4/84 ،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1419هـ .
[32] تنزيه الشريعة:۱/۱۰۵،رقم:۱۱۸،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .