روایت: آپ ﷺ کا بچپن میں گم ہونا، پھر حضرت حلیمہ سعدیہ کا پریشان ہونا، اور ایک بوڑھے کا حضرت حلیمہ کو بتوں کے پاس لے جانا، اور آپ ﷺ کا نام سن کر بتوں کا گرجانا۔
حکم: عنوان میں ذکر کردہ سیاقِ خاص کے ساتھ اس روایت کے بارے میں حافظ ابن عساکر l فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث غریب جداً ہے، اور اس میں رکیک الفاظ ہیں، جو درستگی کے مشابہ نہیں ہیں‘‘، نیز حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l نے بھی اسے ’’مردود وباطل کے مشابہ‘‘ قرار دیا ہے، اس لئے اس حکایت کو رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] دلائل النبوة:1/139،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثالثة1429هـ .
[2] تاريخ دمشق:3/473،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[3] مثنوي مولوي معنوي:4/98،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .
’’مثنوی شریف‘‘ کی مکمل عبارت ملاحظہ فرمائیں:
قصۂ رازِ
حلیمہؓ گوئمت
تا زداید داستاں اُوغمت
میں تجھ سے حلیمہ کے راز کا قصہ کہتا ہوں تاکہ اس کی داستاں تیرے غم کو دور کرے
مصطفیؐ را چوں ز شیر اُو باز کرد
بر کفش برداشت چوں ریحان و ورد
(حضرت ) مصطفیﷺ کا جب انھوں نے دودھ چُھڑایا ان کو ریحان اور گلاب کی طرح ہتھیلی پر رکھا
می گریز انیدش از ہر نیک و بد
تا سُپار دآں شہنشہ را بجدّ
وہ ان کو ہر اچھے برے سے بچاتی تھی تاکہ ان شہنشاہ کو دادا کے سُپرد کردے
چوں ہمی آوردامانت راز بیم
شد بکعبہ آمد اُو اندر حطیم
جب وہ خوف کی وجہ سے امانت کو لائی، کعبہ میں پہنچی اور وہ حطیم میں آئی
از ہوا بشنید بانگے کاے حطیم
تافت بر تو آفتا بے بس عظیم
ہوا کی جانب سے آواز سُنی کہ اے حطیم! تجھ پر بہت بڑا سورج چمکا ہے
اے حطیم اِمروز آید بر تو زود
صد ہزاراں نور از خورشید جود
اے حطیم! آج تجھ پر بہت جلد آئیں گے لاکھوں نور سخاوت کے سورج سے
اے حطیم اِمروز آرد در تو رخت
محتشم شاہے کہ پیکِ اُوست بخت
اے حطیم!آج تجھ میں سامان لا رہا ہے وہ باحشمت شاہ، نصیبہ جس کا قاصد ہے
اے حطیم!اِمروز بے شک از نوی
منزل جا نہائے بالامی شوی
اے حطیم!بے شک آج از سرِ نو تو بالائی روحوں کی منزل بنے گا
جانِ پاکاں طُلب طُلب و جُوق جُوق
آیدت از ہر نَواحی مستِ شوق
پاک لوگوں کی روحیں جماعت جماعت گروہ گروہ شوق سے مست ہو کر ہر جانب سے تیرے اندر آئیں گی
گشتہ حیراں آں حلیمہ زاں صدا
نے کسے در پیش نے سوی قفا
حلیمہ اس آواز سے حیران ہوگئی نہ کوئی سامنے تھا نہ گدّی کی جانب
شش جہت خالی ز صورت ویں ندا
شد پیاپے آں ندا را جاں فدا
چھوؤں جانب انسان سے خالی اور یہ آواز پے در پے آئی، اُس آواز پر جان قربان ہے
مصطفیؐ رابر زمیں بنہاد اُو
تا کند آں بانگ خوش را جستجوُ
اس نے(حضرت)مصطفیﷺ کو زمین پر بٹھادیا تا کہ وہ اس اچھی آواز کی جستجو کرے
چشم می انداخت آں
دم سُو بسُو
کہ کجا است آں
شَہِ اسرار گوُ
وہ اس وقت ہر جانب نظر ڈال رہی تھی کہ وہ رازوں کو بتانے والا شاہ کہاں ہے؟
کاینچنیں بانگِ
بُلند از چپ و راست
می رسد یارب
رسانِند ہ کُجاست
کہ ایسی بلند آواز دائیں اور بائیں سے آرہی ہے اے خدا! پہنچانے والا کہاں ہے؟
چوں ندید او خیرہ
و نومید شد
جسم لرزاں ہمچو
شاخِ بید شد
جب انہوں نے نہ دیکھا حیران اور نااُمید ہوگئیں بدن بید کی شاخ کی طرح لرزنے والا ہوگیا
باز آمد سوئے آں
طفلِ رشید
مصطفیؐ را بر
مکانِ خود نہ دید
وہ اُس بھلے بچّے کی طرف لوٹ آئیں مصطفیؐ کو اپنی جگہ نہ دیکھا
حیرت اندر حیرت
آمد بردلش
گشت بس تاریک از
غم منزلش
اُس کے دل پر حیرانی در حیرانی آگئی غم سے اُس کی جگہ بہت تاریک ہوگئی
سوی منزلہا دو ید و بانگ داشت
کہ بر در دانہ ام
غارت گماشت
مکانات کی جانب دوڑی اور چیخی کہ میرے موتی کی کس نے لوٹ مچائی ہے؟
مکّیاں گفتند
مارا علم نیست
ماندا نستیم کا
نجا کو دکے ست
مکہ والوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں ہے ہمیں یہ (بھی) معلوم نہ تھاکہ وہاں کوئی بچّہ ہے
ریخت چنداں اشک و
کرد اوبس فغاں
کہ از وگریاں
شدند آں دیگراں
اُس نے اِس قدر آنسو بہائے اور فریاد کی کہ اُس سے دوسرے رونے لگے
سینہ کو باں
آنچناں بگریست خوش
کآخر اں گریاں
شدند از گریہ اش
چھاتی پیٹتے ہوئے اتنا زیادہ روئی کہ اُس کے رونے سے دوسرے رونے لگے
پیر مردے پشیش
آمد باعصا
کاے حلیمہؓ چہ
فتاد آخر تُرا
ایک بوڑھا شخص لاٹھی تھامے سامنے آیا کہ اے حلیمہؓ! آخر تجھے کیا ہوا ہے؟
کہ چنیں آتش ز دل
افروختی
ویں جگر ہا را ز
ماتم سوختی
کہ تو نے دل سے ایسی آگ بھڑکائی ہے اور ماتم سے جگروں کو جَلادیا ہے
گفت احمدؐ
را رَضیعم معتمد
پس بیا وردم کہ
بسپارم بجَد
اُس نے کہا میں احمدؐ کی معتمد دایہ ہوں میں اُن کو لائی تھی کہ دادا کے سپرد کردوں
چوں رسیدم در
حطیم آواز ہا
می رسید و می
شنیدم از ہَوا
جب میں حطیم میں پہنچی بہت سی آوازیں آئیں اور میں نے ہوا میں سے سُنیں
من چوں آں الحاں
شنیدم از ہَوا
طفل را بنہا دم
آنجازاں صدا
جب میں نے ہوا میں سے وہ آوازیں سنیں اُس آواز کی وجہ سے میں نے بچہ کو(زمین پر) بٹھا دیا
تابہ بینم ایں
ندا آوازِ کیست
کہ ندائے بس لطیف
و بس شہی ست
تا کہ میں دیکھوں کہ یہ کس کی آواز ہے؟ کیوں کہ بڑی لطیف اور بہت پسندیدہ آواز ہے
نِز کسے دیدم
بگرد خوِد نشاں
نہ ندای منقطع شد
یک زماں
نہ میں نے اپنے چاروں طرف کسی کا نشان پایا نہ ایک لمحہ کے لئے آواز بند ہوئی
چونکہ واگشتم
زحیر تہائے دل
طفل را آنجا
ندیدم وائے دل
جب میں دلی حیرانیوں کے ساتھ واپس لوٹی میں نے بچے کو وہاں نہ دیکھا، ہائے دل
گفتش اے فرزند تو
اَندُہ مدار
کہ نُمایم مر
تُرا ایک شہر یَار
اُس نے اُس سے کہا اے بیٹا!غم نہ کر میں تجھے ایک شاہ کا پتہ بتاتا ہوں
کہ بگوید گر
بخواہد حال طفل
اُو بداند منزل
وتر حال دل
اگر وہ چاہے گا تو بچہ کا حال بتا دے گا کیوں کہ وہ بچہ کی منزل اور سفر کو جانتا ہے
پس حلیمہؓ گفت اے جانم فدا
مر ترا اے شیخ
خوبِ خوش ندا
تو حلیمہ ؓنے کہا: میری جان قربان ہو تجھ پر، اے بہتر اور اچھی آواز والے بزرگ!
ہیں مرا بنمای آں
شاہ ِنَظر
کش بود از حالِ
طفل من خَبَر
ہاں اُس شاہ نظر کو مجھے دکھا دے جس کو میرے بچہ کے حال کی خبر ہو
بُرد اُو را پیش
عزّی کایں صنم
ہست در اخبار
غیبی مغتنم
وہ اُس کو عزّی کے سامنے لے گیا کہ یہ بت غیبی خبریں دینے میں غنیمت ہے
ما ہزاراں گم شدہ
زو یافتیم
چوں بخدمت سُوی
اُو بشتافتیم
ہم نے ہزاروں گم شدہ اُس کی وجہ سے پا لئے ہیں جب ہم عقیدت سے اُس کی طرف دوڑے ہیں
پیر کرد اُو را
سجود و گفت زود
اے خدا وندِ عرب
وے بحر جود
بوڑھے نے اُس کو سجدہ کیا اور فوراً کہا اے عرب کے خدا، اے سخاوت کے دریا
گفت اے عزّی تو
بس اکرامہا
کردہ تا رستہ ایم
از دا مہا
اُس نے کہا اے عزّی تونے بہت سے کرم کئے ہیں ، حتی کہ ہم نے جالوں سے رہائی پائی ہے
بر عرب حق ست از
اکرام تو
فرض گشتہ تا عرب
شد رامِ تو
تیری مہربانی کا عرب پر حق ہے جو فرض بن گیا ہے حتی کہ عرب تیرا فرمانبردار ہو گیا ہے
اے حلیمہ سعدی از
امید تو
آمد اندر ظلِّ
شاخِ بیدِ تو
یہ حلیمہ سعدیہ تیری امید پر تیرے بید کی شاخ کے سایہ میں آئی ہے
کہ از و فرزند
طفلے گم شدہ ست
نامِ آں کو دک
محمدؐ آمدہ ست
کہ اُس کا ایک چھوٹا بچہ گم ہو گیا ہے اُس بچّے کا نام محمدؐ ہے
چوں محمدؐ گفت
آں جُملہ بُتاں
سرنگوں گشتند و
ساجد آں زماں
جب اُس نے محمدؐ کہا، وہ سب بت فوراً اوندھے منہ اور سجدہ کرنے والے ہوگئے
کہ بر و اے پیر
ایں چہ جستجو ست
آں محمدؐ را کہ
عزلِ مااز و ست
کہ اے بوڑھے!جا، یہ کیا تلاش ہے؟ اُس محمدؐ کی کہ اُس کی وجہ سے ہماری معزولی ہے
مانگون وسنگسار
انیم ازُو
ماکسا دوبے عیار
انیم ازُو
ہم اُس کی وجہ سے اوندھے اور سنگسار ہیں ہم اُس کی وجہ سے کھوٹے اور بے رونق ہیں
آں خیالاتے کہ
دیدندے زما
وقت فترت گاہ گاہ
اہل ہوا
وہ خیالی باتیں کہ جو ہم سے دیکھی ہیں اہل ہوا نے فترت کے زمانہ میں کبھی کبھی
گم شود چوں
بارگاہِ او رسید
آب آمد مر تیمّم
را درید
گم ہو جائیں گی کیونکہ اُن کا دربار(کا وقت)آگیا ہے پانی آگیا، اُس نے تیمّم کو توڑدیا ہے
دور شو اے پیر ،
فتنہ کم فروز
ہیں زر شک احمدیؐ
مارا مسوز
اُو بوڑھے دور ہو جا فتنہ نہ بھڑکا خبردار!احمدیؐ رشک سے ہمیں نہ جلا
دُور شَو بہرِ خدا اے
پیر تُو
تا نسوزی ز آتشِ
تقدیر تُو
اُو بوڑھے!خدا کےلئے تو دفع ہو، تا کہ تو تقدیر کی آگ سے نہ جل جائے
اینچہ دُمِّ اژدہا
افشر دن است
ہیچ دانی چہ خبر
آوردن است
یہ کیا اژدھے کی دُم دَبانا ہے؟ تو جانتا ہے کہ کیسی خبر لانا ہے؟
زیں خبر خوں شدُ دل
دریا وکاں
زیں خبر لرزاں شودہفت
آسماں
اِس خبر سے دریا اور کان کا دل خون ہوگیا ہے اِس خبر سے ساتوں آسمان لرز جائیں گے
چوں شنید از سَنگہا
پیر ایں سخن
پس عصَا انداخت آں
پیر کہن
جب بوڑھے نے پتھروں سے یہ بات سُنیں اُس پُرانے بوڑھے نے لاٹھی پھینک دی
پس زلرز و خوف و بیم
آں ندے
پیر دندانہابہم بَری
زدے
اُس آواز کے لرزے اور خوف اور ڈر سے بوڑھے کے دانت بجنے لگے
آنچناں کاند ر زمستاں
مردِ عُور
اُو ہمی لرزید و می
گفت اے ثبُور
جس طرح کہ جاڑوں میں ننگا انسان وہ کانپ رہا تھا اور کہتا تھا ہائے ہلاکت!
چوں در آں حالت بدید
آں پیرا
زاں عجب گم کرد زن
تدبیر را
جب اُس (حلیمہ)نے بوڑھے کو اِس حالت میں دیکھا اُس عجب (بات) سے عورت نے تدبیر کو گم کردیا
گفت پیرا گرچہ من در
محنتم
حیرت اندر حیرت اندر
حیرتم
بولی اے بوڑھے! اگرچہ میں مصیبت میں ہوں(لیکن) حیرت درحیرت در حیرت میں ہوں
ساعتے بادم خطیبی می
کند
ساعتے سَنگم ادیبی می
کند
کسی وقت ہوا مجھ سے باتیں کرتی ہے کسی وقت پتّھر مجھے ادب سِکھاتے ہیں
باد باحرفم سخنہامی
دہد
سنگ و کوہم فہم
اَشیامی دہد
ہوا، حروف کے ذریعے مجھ سے باتیں کرتی ہے مجھے پتّھر اور پہاڑ چیزیں سمجھاتے ہیں
گاہ طِفلم را رَبودہ
غیَبَیاں
غیَبیَانِ سبز پوش
آسماں
کبھی میرے بچے کو غیبی لے جاتے ہیں آسمان کے سبز پوش غیبی
از کہ نالم با کہ
گویم ایں گِلہ
من شُدم سَودائی
اکنوں صددلہ
کس سے فریاد کروں، کس سے شکوہ کروں؟ میں اب دیوانی اور پریشان ہوگئی ہوں
غیرتش از شرحِ غیبم
لب بہ بَست
ایں قدر گویم کہ
طِفلم گم شُدست
اُس کی غیرت نے غیب کی تشریح کرنے سے میرے ہونٹ بند کردئیے ہیں (بس) اتنا کہتی ہوں کہ میرا بچہ گم ہو گیا ہے
گر بگویم چیزِ دیگر
من کنوں
خلق بَندندم بزنجیرِ
مجنوں
اب اگر میں کوئی دوسری بات کہوں لوگ مجھے پاگل پن کی زنجیر میں باندھ دیں گے
گفت پیرش اے حلیمہ
شادباش
سجدۂ شکر آرو رو را کم
خراش
بوڑھے نے اُن سے کہا اے حلیمہ! خوش ہوجا شکر کا سجدہ کر اور چہرے کو نہ نوچ
تو مخور غم کہ
نگردَدیاوہ اُو
بلکہ عالم یاوَہ گردد
اندرُو
تو فکر نہ کر کیوں کہ وہ گم نہ ہوگا بلکہ عالم اُس میں گم ہوجائے گا
ہر زماں از رشک و
غیرت پیش و پس
صَد ہزاراں پاسبانست
و حَرِس
ہر وقت رشک اور غیرت کی وجہ سے اس کے آگے اور پیچھے لاکھوں نگہبان اور محافظ ہیں
آں ندیدی کاں بُتانِ ذو
فنون
چوں شدند از نامِ
طفلت سَرنگوں
تو نے یہ نہیں دیکھا وہ ہنر مند بت تیرے بچّے کے نام سے کس طرح سرنگوں ہوگئے
ایں عجب قرنے ست
بر روئے زمیں
پیر گشتم من نہ
دیدم جِنس ایں
یہ روئے زمین پر عجب زمانہ ہے میں بوڑھا ہوگیا میں نے ایسا نہ دیکھا تھا
زیں رسالت سنگہا
چوں نالہ داشت
تاچہ خواہد بر
گناہگاراں گماشت
اس رسالت سے جبکہ پتّھر فریاد کرنے لگے گناہگاروں پر کیا چیز مُسلّط کرے گی؟
سَنگ بے جُرم ست
دَر معبودیش
تو نہ مُضطر کہ
بَندہ بُودیش
اپنے معبود ہونے میں پتّھر بے قصور ہیں تو مجبور نہیں ہے کہ اُس کا بندہ ہے
آنکہ مُضطر اینچنیں
ترساں شدست
تاکہ بر مُجرم
چہا خواہند بست
جو مجبور ہے وہ ایسا خوفزدہ ہے تو مجرم پر کس قدر بندشیں ہوں گی؟
چوں خبر یا بید
جَدِ مُصطفیؐ
از حلیمہؓ وز
فُغانش بَرمَلا
جب مُصطفیؐ کے دادا نے خبر پائی حلیمہؓ اور ان کے برملا رونے کی
وز چُناں بانگِ
بُلند و نَعرہا
کہ بہ میلے می رسید از وے صدا
اور ایسے زور کی آواز اور نعروں سے کہ جن کی آواز ایک میل تک پہنچ رہی تھی
زود عبدالمطلب
دانست چیست
دَست بر سینہ ہمی
ز دمی گریست
فوراً عبدالمطلب سمجھ گئے کیا ہوا ہے سینہ کوبی کرتے تھے اور روتے تھے
آمد از غَم بر درِ
کعبَہ بسوز
کاے خبیر از سرّ
شب وز رازِ روز
رنج سے کعبہ کے دروازے پر سوزش کیساتھ آئے کہ اے رات کے راز اور دن کے بھید کے جانکار
خویشتن را من نمی
بینم فنے
تا بُوَد ہمرازِ
تو ہمچوں منَے
میں اپنے لئے کوئی ایسا ہنر نہیں دیکھتا ہوں کہ (جس میں)مجھ جیسا تیرا ہمراز بنے
خویشتن را من نمی
بینم ہنر
تا شَوم مقبولِ
ایں مسعود دَر
میں اپنے آپ میں کوئی ہنر نہیں دیکھتا ہوں کہ اس مبارک دروازہ پر میں مقبول بنوں
یا سر و سجدہ مرا
قدرے بُوَد
یا باشکم دولتے
خنداں شَوَد
یا میرے سر اور سجدے کی کوئی قدر ہو یا میرے آنسؤوں سے قسمت جاگ اٹھے
لیک در سیمائے آں
درِّ یتیم
دیدہ اَم آثارِ
لُطفت اے کریم
لیکن اُس دُرِّ یکتا کی پیشانی میں اے کریم! میں نے تیری مہربانی کے بڑے آثار دیکھے
کہ نمی مَاند بما
گر چہ زماست
ماہمہ مسیم و
احمدؐ کیمیا ست
کہ جو ہم جیسا نہیں ہے، اگر چہ ہم میں سے ہے ہم سب تانبہ ہیں اور احمدؐ کیمیا ہیں
آں عجائبہا کہ من
دیدم دَرُو
من نہ دیدم بَر
ولی وبَر عَدُو
وہ عجائب جو میں نے اس میں دیکھے ہیں میں نے کسی دوست اور دشمن میں نہیں دیکھے ہیں
انچہ فضلِ تو
دریں طفلیش داد
کس نشاں ند ہد
بَصد سالہ جہاد
تیری مہربانی نے جو اس کو بچپن میں عطا کیا ہے کسی نے سو سال کے مجاہدے کے بعد بھی اُس کی مثال پیش نہیں کی
چوں یقیں دیدم
عنایتہائے تو
بر وَے اُو
دُرّیست از دریائے تو
جب میں نے یقینی طور پر تیری عنایتیں دیکھ لی ہیں اس پر، تو وہ تیرے دریا کا ایک موتی ہے
من ہموُ را می
شفیع آرم بتوُ
حال اُو اے حال داں باما بگوُ
میں اُسی کو تیرے پاس سفارشی لایا ہوں اے حال کے جاننے والے اُس کا حال ہمیں بتادے
از درونِ کعبہ
آمد بانگ زوُد
کہ ہم اکنوں رُخ
بتو خواہد نمود
فوراً کعبہ کے اندر سے آواز آئی کہ وہ ابھی اپنا چہرہ تجھے دکھادے گا
بادو صد اقبال
اُو محفوظ ماست
بادو صد طُلب ملک
محفوظ ماست
وہ دو سو اقبال مندیوں کی ساتھ ہماری جانب سے نصیبہ ور ہے دو سو فرشتوں کی جماعت کے ذریعے وہ ہمارے پاس محفوظ ہے
ظاہرش را شہرۂ
گیہاں کُنیم
باطِنش را از ہمہ
پنہاں کُنیم
ہم اس کے ظاہر کو عالم میں مشہور کریں گے اُس کے باطن کو سب سے پوشیدہ رکھیں گے۔
۔۔۔ گفت
عبدالمُطلب کایندم کُجاست
اے علیمُ الِّسر
نشان دہ راہِ راست
(خواجہ)عبدالمُطلب نے کہا اس وقت کہاں ہے؟ اے راز کو جاننے والے !سیدھے راستہ کا پتہ بتادے
از درونِ کعبہ
آوازش رَسید
گفت اے جویندۂ
طفلِ رَشید
کعبہ کے اندر سے اُن کو آواز آئی اُس نے کہا، اے راہ یاب بچّے کے تلاش کرنے والے
ہاتِفش گفتا مخور
گم کایں زماں
باتو زاں شاہِ
جہاں بدہم نشاں
غیبی آواز نے اُن سے کہا غم نہ کر ابھی میں تجھے اُس شاہ جہاں کا پتہ بتاتا ہوں
دَر فلاں وادیست
زیرآں درخت
پس رواں شُد زود
پیر نیک بخت
فلاں میدان میں، درخت کے نیچے ہے تو وہ نیک نصیب بڑے میاں فوراً روانہ ہوگئے
در رِکاب اُو
امیرانِ قریش
زانکہ کہ جَدّش
بود ز اعیانِ قریش
قریش کے سردار اُن کی ہمراہی میں تھے کیوں کہ اُن کے دادا قریش کے سَرداروں میں سے تھے
تابہ پشت آدمؑ
اَسلافش ہمہ
مہترانِ رَزم و
بَزم و مَلحَمہ
اُن کے تمام بزرگ(حضرت) آدم eکی پشت تک رزم و بزم اور میدان جنگ کے سردار ہوئے ہیں
ایں نسب خود پوست
اُو را بودہ است
کز شہنشاہانِ مہ
پالودہ است
یہ نسب بھی اُن کےلئے چھلکا ہے کیوں کہ(وہ) عظیم بادشاہوں سے بھی برگزیدہ ہیں
مغز اُو خود از
نسب دو رست و پاک
نیست جنسش از سمک
کس تا سماک
اُن کا جوہر خود نسب سے دور اور پاک ہے سمک سے سماک تک کوئی اُن جیسا نہیں ہے
نورِ حق را کس
نجوید زاد و بُود
خَلعَتِ حق را چہ
حاجت تارو پور
اللہ کے نور کےلئے کوئی پیدائش اور وجود نہیں ڈھونڈتا ہے اللہ کی خلعت کو تانے بانے کی کیا ضرورت ہے؟
کمتریں خلَعت کہ
بد ہد دَر ثواب
بر فزاید بَر
طراز آفتاب
وہ جو ادنی درجہ کی خلعت ثواب میں دیتا ہے وہ سورج کے نقش و نگار سے بڑھ جاتی ہے
(مثنوي مولوي معنوي:4/107، مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور) .
[4] دلائل النبوة:1/13۲،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثالثة1429هـ .
’’دلائل النبوہ‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو:’’وأخبرنا أبو عبد الله [الحافظ] ، قال: حدثنا أبو العباس، قال: حدثنا أحمد بن عبد الجبار، قال: حدثنا يونس بن بكير، قال: حدثنا ابن إسحاق، قال: حدثني جهم بن أبي جهم مولى لامرأة من بني تميم، كانت عند الحارث بن حاطب، فكان يقال: مولى الحارث بن حاطب قال: حدثني من سمع عبد الله بن جعفر بن أبى طالب، يقول: حدثت عن حليمة بنت الحارث أم رسول الله، صلى الله عليه وسلم، التي أرضعته، أنها قالت: قدمت مكة في نسوة من بني سعد بن بكر، ألتمس بها الرضعاء وفي سنة شهباء، فقدمت على أتان لي قمراء كانت أذمت بالركب، ومعي صبي لنا، وشارف لنا، والله ما تبض بقطرة، وما ننام ليلنا ذلك أجمع مع صبينا ذاك، ما يجد في ثديي ما يغنيه، ولا في شارفنا ما يغذيه، فقدمنا مكة، فو الله ما علمت منا امرأة إلا وقد عرض عليها رسول الله، صلى الله عليه وسلم، فتأباه، إذا قيل: إنه يتيم تركناه، قلنا: ماذا عسى أن تصنع إلينا أمه؟ إنما نرجو المعروف من أب الوليد، وأما أمه فماذا عسى أن تصنع إلينا، فو الله ما بقي من صواحبي امرأة إلا أخذت رضيعا غيري. فلما لم أجد رضيعا غيره قلت لزوجي الحارث بن عبد العزى: والله إني لأكره أن أرجع من بين صواحبي ليس معي رضيع، لأنطلقن إلى ذلك اليتيم فلآخذنه. فقال: لا عليك. فذهبت فأخذته، فو الله ما أخذته إلا أني لم أجد غيره، فما هو إلا أن أخذته فجئت به إلى رحلي، فأقبل عليه ثدياي بما شاء من لبن، فشرب حتى روي، وشرب أخوه حتى روي، وقام صاحبي إلى شارفنا تلك، فإذا إنها لحافل، فحلب ما شرب، وشربت حتى روينا، فبتنا بخير ليلة، فقال صاحبي: يا حليمة! والله إني لأراك قد أخذت نسمة مباركة، ألم تري ما بتنا به الليلة من الخير والبركة حين أخذناه؟ فلم يزل الله عز وجل يزيدنا خيرا حتى خرجنا راجعين إلى بلادنا، فو الله! لقطعت أتاني بالركب حتى ما يتعلق بها حمار، حتى إن صواحباتي يقلن: ويلك يا ابنة أبي ذؤيب! أهذه أتانك التي خرجت عليها معنا؟ فأقول: نعم، والله إنها لهي، فيقلن: والله إن لها لشأنا، حتى قدمنا أرض بني سعد، وما أعلم أرضا من أرض الله تعالى أجدب منها، فإن كانت غنمي لتسرح، ثم تروح شباعا لبنا، فنحلب ما شئنا، وما حولنا أحد تبض له شاة بقطرة لبن، وإن أغنامهم لتروح جياعا، حتى إنهم ليقولون لرعيانهم: ويحكم! انظروا حيث تسرح غنم ابنة أبي ذؤيب، فاسرحوا معهم. فيسرحون مع غنمي حيث تسرح، فيريحون أغنامهم جياعا ما فيها قطرة لبن، وتروح غنمي شباعا لبنا نحلب ما شئنا.
فلم يزل الله تعالى يرينا البركة ونتعرفها حتى بلغ سنتيه، فكان يشب شبابا لا يشبه الغلمان، فو الله ما بلغ السنتين حتى كان غلاما جفرا، فقدمنا به على أمه ونحن أضن شيء به مما رأينا فيه من البركة، فلما رأته أمه، قلنا لها: يا ظئر، دعينا نرجع ببنينا هذه السنة الأخرى، فإنا نخشى عليه وباء مكة، فو الله ما زلنا بها حتى قالت: فنعم، فسرحته معنا، فأقمنا به شهرين أو ثلاثة، فبينا هو خلف بيوتنا مع أخ له من الرضاعة في بهم لنا، جاءنا أخوه ذلك يشتد، فقال: ذاك أخي القرشي، قد جاءه رجلان عليهما ثياب بياض، فأضجعاه، فشقا بطنه، فخرجت أنا وأبوه نشتد نحوه، فنجده قائما منتقعا لونه، فاعتنقه أبوه، فقال: أي بني! ما شأنك؟ فقال: جاءني رجلان عليهما ثياب بياض، فأضجعاني، فشقا بطني، ثم استخرجا منه شيئا، فطرحاه، ثم رداه كما كان، فرجعنا به معنا.
فقال أبوه: يا حليمة، لقد خشيت أن يكون ابني قد أصيب، فانطلقي بنا، فلنرده إلى أهله قبل أن يظهر فيه ما نتخوف. قالت حليمة: فاحتملناه، فلم ترع أمه إلا به قد قدمنا به عليها، فقالت: ما ردكما به؟ فقد كنتما عليه حريصين، فقلنا لها: لا والله يا ظئر! إلا أن الله تعالى قد أدى عنا، وقضينا الذي علينا، فقلنا نخشى الإتلاف والأحداث نرده على أهله، قالت: ما ذاك بكما، فاصدقاني شأنكما، فلم تدعنا حتى أخبرناها خبره. قالت: أخشيتما عليه الشيطان؟ كلا، والله ما للشيطان عليه سبيل، وإنه لكائن لابني هذا شأن، ألا أخبركما خبره؟ قلنا: بلى، قالت: حملت به، فما حملت حملا قط أخف منه، فأريت في المنام حين حملت به كأنه خرج مني نور أضاءت له قصور الشام، ثم وقع حين ولدته وقوعا ما يقعه المولود، معتمدا على يديه، رافعا رأسه إلى السماء، فدعاه عنكما‘‘.
نیز یہ روایت اس سیاق کے ساتھ حافظ ابن حبان l نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں تخریج کی ہے(صحيح ابن حبان:14/243، رقم:6335، ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1412هـ) .
حافظ ذہبی l’’تاریخ الاسلام‘‘ میں عبد اللہ بن جعفر کی روایت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’هذا حديث جيد الإسناد‘‘ (تاريخ الإسلام:1/498 ،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ ).
[5] دلائل النبوة:1/139،ت:عبد المعطي قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثالثة1429هـ .
[6] تاريخ دمشق:3/47۹،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .
[7] واضح رہے کہ عبد اللہ بن جعفر کے مذکورہ طریق کو حافظ ابن عساکر l نے ’’تاریخ دمشق‘‘ (۳/۹۱ ) میں تخریج کیا ہے، یہ وہی طریق ہے جسے امام بیہقی l نے محمد بن زکریا غلابی کے طریق سے سے پہلے نقل کیا تھا۔
[8] جامع الآثار:3/269،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح للبحث العلمي،الطبعة الأولى1431هـ .
[9] حافظ ابن ناصر الدین دمشقی l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو’’وقد روى الأموي أبو عثمان سعيد بن يحيى بن سعيد بن أبان بن سعيد بن العاص حديث الرضاع عن أبي الهيثم سعيد بن قطن العامري، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن بن عمر بن سعد بن أبي وقاص، حدثني محمد بن مسلم بن عبيد الله الزهري، عن سعيد بن المسيب وعن غيره: أن عبد المطلب لما فرغ من أمر بنيه ونذره، وذكر القصة مطولة من الزواج والحمل والرضاع وغير ذلك بألفاظ منكرة ووقائع مفتعلة، أضربنا عن ذكرها لاطراحها وبطلانها، ومن نمط ذلك وشكله ما قال الإمام أبو بكر البيهقي رحمه الله في كتابه دلائل النبوة، وقد روى محمد بن زكريا الغلابي بإسناده عن ابن عباس عن حليمة هذه القصة بزيادات كثيرة، وهي لي مسموعة، إلا أن محمد بن زكريا هذا متهم، والاقتصار على ما هو معروف عند أهل المغازي أولى، والله اعلم، ثم إني استخرت الله تعالى في إيراده، فوقعت الخيرة على إلحاقه بما تقدمه. ثم ساقه البيهقي بإسناده إلى محمد بن زكريا الغلابي، وهو في الأول من الأحاديث الهاشميات جمع محمد بن زكريا بن دينار الغلابي المذكور، فقال ....‘‘. (جامع الآثار:3/269،ت:أبو يعقوب نشأت كمال،دار الفلاح للبحث العلمي،الطبعة الأولى1431هـ ) .
[10] الإرشاد:۲/۵۲۷،رقم:۲۳۶،235،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .
[11] الثقات:9/154،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعةالأولى1393هـ .
[12] زیر بحث روایت میں بھی محمد بن زکریا غلابی سند کے راوی یعقوب بن جعفر بن سلیمان بن علی سے نقل کر رہا ہے، اس یعقوب کو حافظ ابن عساکر l نے ’’غیر مشہور بالروایہ‘‘ کہا ہے، جیسا کہ گزر چکا ہے، نیز حافظ ذہبی l نے بھی ہاشمیین کی ایک سند کو ’’لیسوا بمعتمدین‘‘ کہا ہے، جس میں یہ یعقوب بن جعفر بھی موجود ہے، واللہ اعلم (انظر تلخيص المستدرك للذهبي على ذيل المستدرك:3/332، ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت) .
[13] الضعفاءوالمتروكون:ص:350،رقم:483،ت:موفق بن عبد الله،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰4هـ .
[14] کتاب الموضوعات:1/38۱،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى ۱۳۸۶هـ .
[15] المغنی:2/196،رقم:5512،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[16] ديوان الضعفاء:ص:351،رقم:3712،ت:حماد بن محمدالانصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[17] ٍ الزيادات على الموضوعات:ص:286،رقم:324،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴31هـ .
[18] تنزيه الشریعة:۱/ 105،رقم:118،ت:عبد الله الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۹۹هـ .
[19] انظر لسان الميزان:۷/۱۴۰،رقم:۶۷۹۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[20] انظر لسان الميزان:۷/۱۴۰،رقم:۶۷۹۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
’’لسان المیزان‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وقال الحاكم في تاريخه: حدثنا الحسن بن محمد، حدثنا محمد بن زكريا، حدثنا إبراهيم بن بشار، حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، عن جابر رضي الله عنه، رفعه: لا تسبوا ربيعة ومضر، فإنهما كانا مسلمين، ولا تسبوا ضبة من أد، ولا تيم بن مرة، ولا أسد بن خزيمة، فإنهم كانوا على دين إسماعيل. رواته ثقات إلا محمد بن زكريا وهو الغلابي المذكور فهو آفته‘‘.
[21] الإرشاد:۲/۵۲۸،رقم:۲۳۶،235،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .
[22] الأنساب:۱۰/9۵،رقم:۲۹۳۹،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى ۱397هـ .
[23] المغنی عن حمل الأسفار:2/772،رقم:2839،ت:أبو محمد أشرف،مکتبة طبرية ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[24] تاريخ دمشق:57/373،رقم:7346،ت:عمر بن غرامة العمروي،دار الفکر ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱8هـ .
[25] ميزان الاعتدال:۳/۵۵۰،رقم:۷۵۳۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
’’میزان الاعتدال‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’ الصولى، حدثنا الغلابى، حدثنا إبراهيم بن بشار، عن سفيان، عن أبي الزبير، قال: كنا عند جابر، فدخل على بن الحسين، فقال جابر: دخل الحسين، فضمه النبي صلى الله عليه وسلم إليه وقال: يولد لابنى هذا ابن يقال له على، إذا كان يوم القيامة نادى مناد: ليقم سيد العابدين، فيقوم هذا، ويولد له [ولد، يقال له] محمد، إذا رأيته يا جابر! فاقرأ عليه منى السلام. فهذا كذب من الغلابى‘‘.
[26] ميزان الاعتدال:۱/۳۲۵،رقم:۱۲۲۴،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[27] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:۱۴۷،رقم:۳۲۰،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[28] تلخيص الحبير:4/84،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[29] تنزيه الشريعة:۱/۱۰۵،رقم:۱۱۸،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[30] السيرة النبوية لابن هشام:1/167،ت:مصطفى السقا وإبراهيم الأبياري وعبد الحفيظ الشلبي،شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي وأولاده ـ مصر،الطبعة الثانية1375هـ .
’’السیرۃ النبویہ‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’قال ابن إسحاق: وزعم الناس فيما يتحدثون، والله أعلم: أن أمه السعدية لما قدمت به مكة أضلها في الناس وهي مقبلة به نحو أهله، فالتمسته فلم تجده، فأتت عبد المطلب، فقالت له: إني قد قدمت بمحمد هذه الليلة، فلما كنت بأعلى مكة أضلني، فو الله! ما أدري أين هو؟ فقام عبد المطلب عند الكعبة يدعو الله أن يرده، فيزعمون أنه وجده ورقة بن نوفل بن أسد ورجل آخر من قريش، فأتيا به عبد المطلب، فقالا له: هذا ابنك وجدناه بأعلى مكة، فأخذه عبد المطلب، فجعله على عنقه وهو يطوف بالكعبة يعوذه ويدعو له، ثم أرسل به إلى أمه آمنة‘‘.
[31] الطبقات الكبرى:۱/۹۰،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
’’الطبقات الکبری‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’ قال: أخبرنا محمد بن عمر، عن أصحابه، قال: مكث عندهم سنتين حتى فطم، وكأنه ابن أربع سنين، فقدموا به على أمه زائرين لها، وأخبرتها حليمة خبره، وما رأوا من بركته، فقالت آمنة: ارجعي بابني فإني أخاف عليه وباء مكة، فو الله! ليكونن له شأن، فرجعت به، ولما بلغ أربع سنين كان يغدو مع أخيه وأخته في البهم قريبا من الحي، فأتاه الملكان هناك، فشقا بطنه، واستخرجا علقة سوداء، فطرحاها وغسلا بطنه بماء الثلج في طست من ذهب، ثم وزن بألف من أمته فوزنهم، فقال أحدهما للآخر: دعه، فلو وزن بأمته كلها لوزنهم، وجاء أخوه يصيح بأمه: أدركي أخي القرشي، فخرجت أمه تعدو ومعها أبوه، فيجدان رسول الله صلى الله عليه وسلم منتقع اللون، فنزلت به إلى آمنة بنت وهب، وأخبرتها خبره، وقالت: إنا لا نرده إلا على جدع آنفنا، ثم رجعت به أيضا، فكان عندها سنة أو نحوها، لا تدعه يذهب مكانا بعيدا، ثم رأت غمامة تظله، إذا وقف وقفت، وإذا سار سارت، فأفزعها ذلك أيضا من أمره، فقدمت به إلى أمه لترده وهو ابن خمس سنين، فأضلها في الناس، فالتمسته فلم تجده، فأتت عبد المطلب فأخبرته، فالتمسه عبد المطلب فلم يجده، فقام عند الكعبة، فقال:
لا هم أد راكبي محمدا أده إلي واصطنع عندي يدا
أنت الذي جعلته لي عضدا لا يبعد الدهر به فيبعدا
أنت الذي سميته محمدا‘‘.
ملتی جلتی احادیث
حکایت: آپﷺ کو عرب کے قافلے کی فریاد پہنچنے کا قصہ جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے عاجز ہوگیا، اور موت کے قریب تھا، اونٹ اور لوگ پیاس سے زبانیں باہر نکالے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ کے معجزے سے قافلے والوں کےلئے ایک حبشی غلام کی مشک سے سارے قافلے کا سیراب ہونا، اور پھر غلام کی مشک کا بھر جانا، نیز آپ ﷺ کے معجزے سے اس حبشی غلام کا سفید ہوجانا۔
روایت: عرب کے سرداروں کا آنحضورﷺ سے جھگڑنا کہ ملک بانٹ لیجئے تاکہ جھگڑا نہ ہواور آنحضورﷺ کا ان کو جواب دینا کہ میں اس حکومت میں اللہ کی جانب سے مقرر کیا گیا ہوں اور جانبین سے ان کی بحث، پھر سیلاب کا آنا اور اسے روکنے کےلئے سرداروں نے اپنے نیزے ڈالے جنہیں سیلاب بہا کر لے گیا، اور آپ ﷺ نے اس میں ایک شاخ ڈالی تو سیلاب مڑ کر سمندر کی جانب چلا گیا۔
روایت: حضرت ادریس e میں ستاروں کی جنسیت تھی وہ آٹھ سال تک زُحل سے ہم رفتار رہے، غائب رہنے کے بعد جب ان کی تشریف آوری ہوئی وہ زمین پر ستاروں کا درس دیتے تھے، اُن کے سامنے ستارے عمدہ صف باندھے درس میں حاضر رہتے تھے۔
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک وہ ہے جو میرے جوہر اور میری ہمت میں میرا شریک ہوگا‘‘۔