اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے اہل خانہ کےلئے کوئی چیز خریدے، پھر وہ اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر ان کے پاس لائے، تو اس کے ستر سال کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)سند میں موجود راوی ابو عبد الرحمن ہیثم بن عدی بن عبد الرحمن بن زید بن اسید بن جابر طائی اخباری مؤرخ کوفی (المتوفی ۲۰۷ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l نے ہیثم بن عدی کے بارے میں فرمایا ہے: ’’ليس بثقة، كان يكذب‘‘[33]. لیس بثقہ ہے، یہ جھوٹ بولتا تھا۔
حافظ عباس دوری l فرماتے ہیں: ’’سمعت بعض أصحابنا يقول: قالت جارية الهيثم بن عدي: كان مولاي يقوم عامة الليل يصلي، فإذا أصبح جلس يكذب‘‘[34]. میں نے اپنے بعض ساتھیوں کو فرماتے سنا ہے، ہیثم بن عدی کی باندی کہتی ہے: میرا آقا رات کے اکثر حصہ میں کھڑے ہوکر نماز پڑھتا تھا، پھر جیسے ہی صبح ہوتی تو بیٹھ کر جھوٹ بولتا تھا۔
حافظ علی بن مدینی l فرماتے ہیں: ’’الهيثم بن عدي أوثق عندي من الواقدي، ولا أرضاه في الحديث، ضعيف، ولا في الأنساب، ولا في شيء‘‘[35]. ہیثم بن عدی میرے نزدیک واقدی سے اوثق ہے، اور میں حدیث میں ان سے راضی نہیں ہوں، اور نہ انساب میں، اور نہ کسی اورچیز میں، یہ ضعیف ہے۔
حافظ عبد الملک بن عبد الحمید میمونی l فرماتے ہیں: ’’ذاكروا أبا عبد الله بحديث، وأنا حاضر، فقال: من يرو ذا كذب، فقال له رجل: الهيثم بن عدي عن مجالد، فتبسم أبو عبد الله متعجبا من ذلك، وأظنه قد قال في هذا الموضع: كذب‘‘[36]. محدثین ابو عبد اللہ (یعنی احمد بن حنبل l) سے حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے، اور میں موجود تھا، ابو عبد اللہ l نے کہا: یہ جھوٹ کس نے روایت کیا ہے؟ تو ایک شخص نے کہا: ہیثم بن عدی نے مجالد سے روایت کیا ہے، ابو عبد اللہ l اس پر تعجب کرتے ہوئے مسکرائے، اور میرا خیال ہے آپ نے اس موقع پر یہ (بھی) کہا: جھوٹ کہا ہے۔
امام بخاری l نے ’’التاريخ الكبير‘‘[37] اور ’’الضعفاء‘‘[38] میں ہیثم بن عدی کے بارے میں ’’سكتوا عنه‘‘ فرمایا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی l ’’أحوال الرجال‘‘[39] میں فرماتے ہیں: ’’ساقط، قد كشف قناعه‘‘. یہ ساقط ہے، اس کا معاملہ کھل کر واضح ہوگیا تھا۔
حافظ عجلی l ’’الثقات‘‘[40] میں فرماتے ہیں: ’’كذاب، وقد رأيته‘‘. یہ جھوٹا ہے، میں نے اسے دیکھا ہے۔
حافظ ابو زرعہ l نے ہیثم بن عدی کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[41]۔
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’متروك الحديث، محله محل الواقدي‘‘[42]. یہ متروک الحدیث ہے، اس کا مقام، واقدی کا مقام ہے۔
حافظ یعقوب بن ابی شیبہ l فرماتے ہیں: ’’والهيثم بن عدي كانت له معرفة بأمور الناس وأخبارهم، ولم يكن في الحديث بالقوي، ولا كانت له به معرفة، وبعض الناس يحمل عليه في صدقه‘‘[43]. ہیثم بن عدی کو لوگوں کے امور اور ان کی خبروں کی معرفت تھی، اور یہ حدیث میں قوی نہیں تھا، اور اسے حدیث کی معرفت نہیں تھی، اور بعض لوگ اس کی سچائی میں اس پر ’’حمل‘‘ کرتے تھے۔
امام ابو داؤد l نے ہیثم بن عدی کو ’’كذاب‘‘ کہا ہے[44]۔
حافظ یعقوب بن سفیان فسوی l نے ’’المعرفة‘‘[45] میں ہیثم بن عدی کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[46] میں ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ زکریا ساجی l ہیثم بن عدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’سكن مكة، وكان يكذب‘‘[47]. ہیثم بن عدی مکہ میں رہتا تھا اور یہ جھوٹ بولتا تھا۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[48] میں ہیثم بن عدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان من علماء الناس بالسير، وأيام الناس، وأخبار العرب إلا أنه روى عن الثقات أشياء، كأنها موضوعة، يسبق إلى القلب أنه كان يدلسها، فالتزق تلك العضلات به، ووجب مجانبة حديثه على علمه بالتاريخ ومعرفته بالرجال، ولكن صناعة الحديث صناعة من لم يقنع بيسير ما سمع عن كثير ما فاته، لم يعلم فيها[ كذا فيه، وفي بعض المصادر: فإنه لم يفلح فيها[49]]، وإن لم يقل حديثه على الأيام، لبالحري أن لا يستحليه الأنام [ كذا فيه، وفي بعض المصادر: وإن من لم يقبل حديثه على الأيام لبالحري أن لا يستجلبه الأيام[50]]، وكل من حدث عن كل من سمع في الأيام وبكل ما عنده عرض نفسه للقدح والملام .
ولست أعلم للمحدث إذا لم يحسن صناعة الحديث خصلة خيرا له من أن ينظر إلى كل حديث، يقال له: إن هذا غريب، ليس عند غيرك، أن يضرب عليه من كتابه ولا يحدث به، لئلا يكون ممن يتفرد دائما، لو أراد الحاسد [كذا فيه، وفي بعض المصادر: بما لو أراد الحاسد[51]] أن يقدح فيه تهيأ له، ولا يسعه أن يروي إلا عن شيخ ثقة بحديث صحيح يكون إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بنقل العدل من العدل موصولا‘‘.
ہیثم بن عدی ان لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو سوانح عمری، لوگوں کے احوال، اور عرب کی خبروں کا علم رکھتے ہیں، مگر یہ ثقہ لوگوں کے انتساب سے ایسی چیزیں روایت کرتا تھا گویا کہ وہ گھڑی ہوئی ہوں، دل میں یہ بات آجاتی ہے کہ ہیثم ان احادیث میں تدلیس کرتا ہے، چنانچہ یہ معضلات اسی سے جاملیں، اور اس کی حدیثوں سے کنارہ کشی واجب ہوگئی، باوجودیکہ اسے تاریخ کا علم تھا، اور اسے رجال کی معرفت تھی، لیکن صناعتِ حدیث ا س شخص کا کام ہے جو کثیر فوت شدہ کو چھوڑ کر معمولی پر قناعت نہیں کرتا، کیونکہ ایسا شخص صناعت میں کامیاب نہیں ہوتا اور اگر اس کی حدیث زمانہ میں مقبول نہ ہو تو مناسب ہے کہ زمانہ اسے حاصل نہ کرے، اور جو شخص زمانہ میں جس کسی سے کچھ سنے اور جو کچھ اس کے پاس ہو اسے آگے روایت کردے، تو وہ شخص خود کو مذمت وملامت کا نشانہ بناتا ہے۔
اور جو محدث صناعتِ حدیث سے اچھی طرح واقف نہ ہو میں اس کے لئے اس سے بہتر خصلت نہیں پاتا کہ وہ ہر ایسی حدیث پر غور کرے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ غریب ہے، آپ کے علاوہ کے پاس نہیں ہے، یہ محدث اپنی کتاب سے اسے خارج کردے، اور اسے بیان نہ کرے، تا کہ یہ ان لوگوں میں شمار نہ ہو جو ہمیشہ متفرد ہو جاتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ اگر کسی حاسد کا اس کی مذمت کا اردہ ہوگا تو وہ (اسے دیکھ کر) اس کی مذمت کے لئے تیار ہوجائےگا، اور اس کے لئے صرف اس کی گنجائش ہے کہ ثقہ شیخ سے ایسی صحیح حدیث روایت کرے جو رسول اللہ ﷺ تک وصل کے ساتھ عادل کے عادل سے نقل کے ساتھ منقول ہو۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[52] میں حسن بن عُمارہ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’والهيثم بن عدي لا يعتمد على رواياته عمن روى عنهم، لأنه ضعيف جدا‘‘. ہیثم بن عدی کے مروی عنہم سے منقول اس کی روایات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ ہیثم بن عدی شدید ضعیف (راوی) ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[53] ہیثم بن عدی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’والهيثم بن عدي ما أقل ما له من المسندات، وإنما هو صاحب أخبار، وأسمار، ونسب وأشعار‘‘. ہیثم بن عدی کی مسند روایات کتنی کم ہیں، اور یہ صرف خبر، قصے، نسب اور اشعار والا تھا۔
حافظ دار قطنی l نے ’’الضعفاء‘‘[54] میں ہیثم بن عدی کو ’’[ضعيف]‘‘ کہا ہے۔
امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری l ’’المدخل‘‘[55] میں ہیثم بن عدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن جماعة من الثقات أحاديث منكرة‘‘. ہیثم بن عدی ثقات کی جماعت کے انتساب سے منکر احادیث بیان کرتا ہے۔
حافظ ابن یونس ’’تاريخ مصر‘‘[56] میں ہیثم بن عدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’الهيثم غير موثق‘‘. ہیثم غیر ثقہ ہے۔
حافظ ابو نعیم اصبہانی l ہیثم بن عدی کے بارے میں ’’المسند‘‘[57] میں فرماتے ہیں: ’’ الهيثم بن عدي في فضله وجلالته يوجد في حديثه المناكير عن الثقات، قال البخاري: سكتوا عنه‘‘. ہیثم بن عدی کی فضیلت وجلالت کے باوجود اس کی احادیث میں مناکیر پائی جاتی ہیں، بخاری l فرماتے ہیں: سکتوا عنہ۔
حافظ ابو یعلی خلیلی l ’’الإرشاد‘‘[58] میں ہیثم بن عدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’كبير المحل، غير متفق عليه عند الحفاظ، لينوه، ذو تصانيف، ومعرفة بهذا الشأن‘‘. بڑے مقام والا ہے، حفاظ کے نزدیک غیر متفق ہے، انہوں نے اسے ’’لین‘‘ کہا ہے، تصانیف والا ہے، اور اس فن میں اس کی معرفت ہے۔
امام بیہقی l نے ’’شعب الإيمان‘‘[59] میں ایک روایت کےتحت ہیثم بن عدی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[60] میں ایک روایت کے تحت ہیثم کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ہیثم بن عدی کو ’’المغني‘‘[61] اور ’’ديوان‘‘[62] میں ’’تركوه‘‘، ’’المقتنى‘‘[63] میں ’’واه‘‘ اور ’’العبر‘‘[64] میں ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن ملقنl نے ’’البدر المنير‘‘[65] میں ایک روایت کے تحت ہیثم کو ’’أحد الهلكى‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں ایک مقام پر ہیثم بن عدی کو ’’متروك‘‘[66] اور دوسرے مقام پر ’’كذاب‘‘[67] کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’الإصابة‘‘ میں ایک مقام پر ایک روایت کے تحت ہیثم بن عدی کو ’’متروك‘‘[68] اور ایک دوسرے مقام پر ’’واه‘‘[69] کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه‘‘[70] میں ہیثم بن عدی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کیا ہے۔
حوالہ جات
[33] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/267،رقم:1767،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[34] تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري:1/267،رقم:1768،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .
[35] انظرالضعفاء الكبير:4/352،رقم:1959،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[36] انظرالضعفاء الكبير:4/352،رقم:1959،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[37] التاريخ الكبير:8/105،رقم:12113،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .
[38] الضعفاء الصغير:ص:122،رقم:390،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1406هـ .
[39] أحوال الرجال:ص:339،رقم:373،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث إكادمي ـ فيصل آباد باكستان،الطبعة الأولى1411هـ .
[40] تاريخ الثقات:ص:462،رقم:1757،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1405هـ .
[41] سؤالات البرذعي:ص:161،رقم:232،ت:أبو عمر محمد بن علي،الفاروق الحديثية ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱430هـ .
[42] الجرح والتعدیل:9/85،رقم:350،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[43] تاريخ بغداد:16/79،رقم:7344،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[44] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/311،رقم:1960،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[45] كتاب المعرفة والتاريخ:3/56،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى 1410هـ .
[46] الضعفاء والمتروكين:ص:241،رقم:637،ت:بوران الضناوي وكمال يوسف الحوت،مؤسسة الكتب الثقافيةـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .
[47] انظرلسان الميزان:8/362،رقم:8312،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴23هـ .
[48] المجروحين:3/93،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[49] انظرالأنساب للسمعاني:9/26،رقم:2558،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى۱397هـ .
[50] انظرالأنساب للسمعاني:9/26،رقم:2558،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى۱397هـ .
[51] انظرالأنساب للسمعاني:9/26،رقم:2558،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى۱397هـ .
[52] الكامل في ضعفاء:۳/۱۱۲،رقم:4۴۵،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[53] الكامل في ضعفاء:8/401،رقم:2020،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[54] الضعفاءوالمتروكون:ص:388،رقم:565،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مکتبة المعارف ـ الریاض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[55] المدخل إلى الصحيح:ص:225،رقم:219،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى1404هـ .
[56] انظر لسان الميزان:8/363،رقم:8312،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴23هـ .
[57] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/85،رقم:268،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[58] الإرشاد فى معرفة علماءالحديث:3/895،رقم:812،ت:محمد سعيد بن عمر إدريس،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .
[59] شعب الإيمان:11/395،رقم:8726،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .
[60] ذخيرة الحفاظ:ص:1704،رقم:3838،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴۱6هـ .
[61] المغني في الضعفاء:2/۴۸۸،رقم:۶۸۰۸،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[62] ديوان الضعفاء:ص:423،رقم:4511،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ المكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[63] المقتنى في سرد الكنى:1/369،رقم:3824،ت:محمد صالح عبد العزيز،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .
[64] العبر في خبر من غبر:1/277،ت:أبو هاجر محمد السعيد بن بسيوني زغلول،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1405هـ .
[65] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير:1/423،ت:أبومحمد عبد الله بن سلمان، دار الهجرة ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲5هـ .
[66] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:9/43،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[67] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:10/10،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
[68] الإصابة في تمييز الصحابة:1/361،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1415هـ .
[69] الإصابة في تمييز الصحابة:۴/۲۵،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1415هـ .
[70] تنزيه الشريعة:1/124،رقم:24،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .