اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’لكل شيء عَرُوْس و عَرُوْس القرآن الرحمن‘‘. ہر شئ کی دلہن ہوتی ہے، قرآن کی دلہن الرحمن(سورت) ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی ابو الحسین علی بن حسن بن جعفر بغدادی مُخَرَّمِی رُصَافِی المعروف ابن کرنیب و ابن عطار (المتوفی 376 ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ خطیب بغدادی l’’تاريخ بغداد‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’وكان يتعاطى الحفظ والمعرفة، وكان ضعيفا‘‘. اور یہ حفظ و معرفت میں خوب مشغول رہتا تھا، اور یہ ضعیف تھا۔
امام حاکم ابو عبد اللہ نیشاپوری l فرماتے ہیں: ’’ذكرت للدارقطني ابن العطار، فذكر من إدخاله على المشايخ شيئا فوق الوصف، وأنه أشهد عليه، واتخذ محضرا بإدخاله أحاديث على دعلج‘‘[16]. میں نے دارقطنی l کے سامنے ابن عطار کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے ذکر کیا کہ یہ مشایخ پر ایسی چیزیں داخل کرتا ہے جو بیان سے بھی باہر ہیں، اور انہوں نے اس کے خلاف گواہی دی، اور انہوں نے ایک دستاویز تیار کر رکھی تھی، ان احادیث پر مشتمل تھی جو اس نے دعلج پر داخل کی ہیں۔
قاضی ابوبکر محمد بن عمر داودی l فرماتے ہیں: ’’ كان عندنا ها هنا في المُخَرَّم، وكان من أحفظ الناس لمغازي رسول الله صلى الله عليه وسلم يسردها من حفظه، إلا أنه كان كذابا، يدعي ما لم يسمع، ويضع الحديث، ورأيت في كتبه نسخا عتقا قد قطع من كل جزء أول ورقة فيه، وكتب بدلها بخطه، وسمع فيها لنفسه، أو كما قال‘‘[17].
اور یہ ہمارے ہاں مُخَرَّم میں رہتا تھا، اور یہ لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کی مغازی کو سب سے زیادہ یاد رکھنے والاتھا اور اسے اپنے حفظ سے بیان کرتا تھا، البتہ یہ کذاب تھا، ایسی چیزوں کا دعوی کرتا تھا جو اس نے نہیں سنی ہوتی، اور حدیث گھڑتا تھا، اور میں نے اس کا ایک پرانا نسخہ دیکھا جس میں اس نے ہر جزء کا پہلا صفحہ کاٹ دیا تھا، اور اس کی جگہ اپنی تحریر لکھ دی تھی، اور اس میں اپنی سماعت کا اظہار کر دیا۔
حافظ ابن جوزی l نے ’’ ا لضعفاء وا لمتروكين‘‘[18] میں حافظ دارقطنی l اور قاضی ابوبکر داودی l کے کلام کو نقل کیا ہے۔
حافظ ذہبیl نے ’’تاریخ الإسلام‘‘ [19] میں حافظ خطیب بغدادیl، قاضی ابوبکر داودیl اور حافظ دارقطنی l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ محمد بن ابی الفوارسl فرماتے ہیں: ’’وكان مخلطا في الحديث‘‘[20]. اور یہ حدیث میں خلط ملط کرتا تھا۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[21] میں فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث، ويفترى على الله‘‘. یہ حدیث گھڑتا تھا، اور اللہ تعالی پر افتراء باندھتا تھا۔
نیز حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[22] میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’متهم بالوضع والكذب، وكان ذا حفظ وعلم‘‘. حدیث گھڑنے میں متہم ہے اور جھوٹا ہے، اور یہ حفظ و علم والا تھا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’لسان الميزان‘‘ [23] میں حافظ ذہبی l کا کلام ذکر کرنے کے بعد حافظ خطیب بغدادی l، حافظ دارقطنی l،قاضی ابوبکر محمد بن عمر داودیl اور حافظ محمد بن ابی الفوارس کے کلام کو نقل کیا ہے۔
نیز علامہ سبط ابن العجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[24] میں حافظ ذہبی l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘ [25] میں علی بن حسن بن جعفر کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے حافظ ذہبی l کے کلام کو نقل کیا ہے۔
حوالہ جات
[15] تاريخ بغداد:13/317،رقم:6211،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[16] تاريخ بغداد:13/319،رقم:6211،ت:بشار عواد معروف،دارالغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[17] تاريخ بغداد:13/320،رقم:6211،ت:بشار عواد معروف،دارالغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[18] الضعفاءوالمتروكين:2/192،رقم:2366،ت:أبو الفداء عبد الله القاضي،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۰۶هـ .
[19] تاريخ الإسلام:8/428،رقم:253،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ الطبعة الأولى 1424هـ .
[20] تاريخ بغداد:13/320،رقم:6211،ت:بشار عواد معروف،دارالغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .
[21] ميزان الاعتدال:3/124،رقم:5826،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[22] ميزان الاعتدال:3/120،رقم:5807،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[23] لسان الميزان:5/515،رقم:5353،ت:عبدالفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلامية ـ حلب،الطبعة الأولى1۴۲۳هـ .
[24] الكشف الحثيث:ص:185،رقم:501،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1407هـ .
[25] تنزيه الشريعة:1/87،رقم:303،ت:عبدالوهاب عبداللطيف و عبدالله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .