اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’الدعاء سلاح المؤمن، وعماد الدين، ونور السماوات والأرض‘‘. دعا مؤمن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان وزمین کا نور ہے‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو الحسن محمد بن حسن بن ابی یزید ہمدانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l نے محمد بن حسن ہمدانی کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[20]۔
حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، كان يكذب‘‘[21]. یہ ثقہ نہیں ہے، جھوٹ بولتا تھا۔
امام احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ’’ما أراه يسوى شيئا، كان ينزل عند مقابر الخَيْزُرَان، جعل يحدثنا بأحاديث يجيء بها، كما يحدث بها ابن أبي زائدة وأبو معاوية‘‘[22]. میں اسے کسی چیز کے مساوی نہیں سمجھتا، یہ ’’مقابر خَیْزُرَان‘‘ کے پاس قیام پذیر تھا، یہ احادیث لاکر ہمیں ایسے بیان کرتا تھا، جیسے ابن ابی زائدہ اور ابو معاویہ احادیث بیان کرتے تھے۔
امام ابو داؤد l، محمد بن حسن ہمدانی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’هذا كذاب، وثب على كتب أبيه ‘‘[23]. یہ جھوٹا ہے، اور یہ اپنے والد کی کتابوں پر قابض ہوگیا تھا۔
حافظ عبد اللہ بن احمد بن حنبل l، محمد بن حسن ہمدانی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ممن دخل بغداد من الكوفيين، وحدث بها، فلم يحمد أمره‘‘[24]. یہ ان لوگوں میں سے ہے جو کوفہ سے بغداد آئے ہیں، اس نے بغداد میں حدیث بیان کی ہے، اس کا معاملہ قابل تعریف نہیں ہے۔
حافظ یعقوب بن سفیان فَسَوی l ’’المعرفة‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’محمد بن الحسن الهمداني، ومحمد بن الحسن الأسدي ضعيفان‘‘. محمد بن حسن ہمدانی اور محمد بن حسن اسدی دونوں ضعیف ہیں۔
امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[26] میں محمد بن حسن ہمدانی کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابو حاتم l نے محمد بن حسن ہمدانی کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے[27]۔
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[28] میں محمد بن حسن ہمدانی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث، يروي عن الثقات المعضلات‘‘. یہ منکر الحدیث ہے، ثقات کے انتساب سے معضل احادیث روایت کرتا ہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[29] میں محمد بن حسن ہمدانی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ومع ضعفه يكتب حديثه‘‘. اور باوجود ضعف کے اس کی حدیث لکھی جائے گی۔
حافظ ابو احمد حاکم l ’’الأسامي‘‘[30] میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘. یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
امام دار قطنی l نے محمد بن حسن ہمدانی کو ’’لا شيء‘‘ کہا ہے[31]۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’تذكرة الفاظ‘‘[32] میں محمد بن حسن ہمدانی کو ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ سمعانی l ’’الأنساب‘‘[33] میں محمد بن حسن بن ابی یزید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا، لينا في الحديث‘‘. یہ ضعیف تھا، حدیث میں ’’لین‘‘تھا۔
حافظ عبد الحق اشبیلی l نے ’’الأحكام الشرعية‘‘[34] میں ایک روایت کے تحت محمد بن حسن بن ابی یزید کو’’ضعيف جدا ‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ’’سير‘‘[35] میں محمد بن حسن ہمدانی کو ’’واه جدا‘‘ اور ’’تلخيص‘‘[36] میں ’’متروك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ديوان‘‘[37] میں فرماتے ہیں: ’’تركوه‘‘. محدثین نے اسے ترک کردیا ہے۔
حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں محمد بن حسن ہمدانی کو ’’متروك‘‘[38] اور ایک دوسرے مقام پر ’’كذاب‘‘[39] کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’تقريب التهذيب‘‘[40] میں محمد بن حسن ہمدانی کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔
حافظ سخاویl نے ’’المقاصد الحسنة‘‘[41] میں ایک روایت کے تحت محمد بن حسن ہمدانی کو’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه‘‘[42] میں محمد بن حسن بن ابی یزید کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’ كذاب، قاله ابن الجوزي‘‘. ابن جوزی l نے اسے کذاب کہا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’ الكشف الحثيث‘‘[43] میں محمد بن حسن ہمدانی کو ذکر کرکے حافظ ابن جوزی l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حوالہ جات
[20] تاريخ يحيي بن معين برواية الدوري:3/350،رقم:11686،ت:أحمد محمد نور سيف،جامعة الملك عبد العزيز ـ مكة المكرمة،الطبعة الأولى1399هـ .
[21] انظرالجرح والتعدیل:7/225،رقم:1248،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[22] كتابالعلل ومعرفة الرجال:3/299،رقم:5328،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[23] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/۲۷۹،رقم:۱۸۴۳،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[24] انظرتاريخ بغداد:۲/۵۶۰،رقم:۵۴۲،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[25] المعرفة والتاريخ:۳/۵۶،ت:أكرم ضياء العمري،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1410هـ .
[26] الضعفاء والمتروكين:ص:۲۳۳،رقم:۵۳۷،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .
[27] الجرح والتعدیل:7/225،رقم:1248،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲هـ .
[28] المجروحين:2/۲۷۶،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[29] الكامل في ضعفاء الرجال:7/373،رقم:۱656،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[30] الأسامي والكنى:2/298،رقم:1579،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .
[31] سؤالات البرقاني للدارقطني:ص:۶۳،رقم:۴۷۱،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،كتب خانه جميلي ـ لاهور ـ باكستان،الطبعة الأولى1404هـ .
[32] تذكرة الحفاظ:ص:۳۴۱،رقم:۸۶۳ ،ت:حمدي بن عبد المجيد بن إسماعيل السلفي،دار الصميعي ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[33] الأنساب:۱۲/۳۴۸،رقم:۳۸۶۰،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الأولى ۱397هـ .
[34] الأحكام الشرعية الكبرى:۴/۱۸۲،ت:أبو عبد الله حسين بن عكاشة،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴22هـ .
[35] سير أعلام النبلاء:9/304،رقم:90،ت:شعيب الأرنؤوط، وكامل الخراط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1402هـ .
[36] تلخيص كتاب الموضوعات:ص:278،رقم:748،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۹هـ .
[37] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:۳۴۷،رقم:۳۶۶۵،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[38] مجمع الزوائد:۹/۳۵۵،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[39] مجمع الزوائد:۱/۱۲۸،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[40] تقريب التهذيب:ص:474،رقم:5820،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .
[41] المقاصد الحسنة:ص:۱۸۳،رقم:۲۱۰،ت:محمد عثمان الخشت،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1405هـ .
[42] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:۱/1۰۳،رقم:۸۴ ،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[43] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:۲۲۵،رقم:۶۴۴،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .